’ ہر گھر میں نل‘ پروگرام ڈیڈ لائن سے پہلے مکمل ہونا انتہائی مشکل

سرینگر //جموں وکشمیر میں ’ہر گھر میں نل کے قومی پروگرام ‘کو صدفی عملانے کیلئے تین مراحل کیلئے ستمبر 2022کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے اور محکمہ کا دعویٰ ہے کہ رواں سال جموں وکشمیر کے 21,650گھرانوں کو نئے گھریلو کنکشن فراہم کئے جائیں گے۔ جموں وکشمیر کی اگر بات کی جائے تو حقیقت یہ ہے کہ اربوں روپے کا سرمایہ صرف کرنے کے باوجود محکمہ پانی کی تقسیم کاری کے فرسودہ نظام کی تجدید نہیں کرپایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وافر مقدار میں پانی کے وسائل ہونے کے باوجود کشمیر کے اکثر علاقوں میں پینے کے پانی کے لئے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔یہاں اکثر علاقے ایسے ہیں جہاں بوسیدہ پانی کے پائپوں کو نہیں بدلا گیا ہے ، ہزاروں لیٹر پانی ضائع ہو رہا ہے ۔یہ بات قابل زکر ہے کہ کشمیر میں آبائی ذخائر کی کوئی کمی نہیں ہے اور ان ذخائر سے لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا سکتا ہے لیکن حالت ایسی ہے کہ اکثر علاقوں میں پینے کے پانی کیلئے کوئی فلٹریشن پلانٹ ہی نہیں اور وہ لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں ۔سینکڑیوں پانی کی سکیمیں ایسی ہیں جن کو مکمل ہی نہیں کیا گیا اور کئی بستیاں ایسی ہیں جہاں پر پانی کے نل سوکھ چکے ہیں ۔کرناہ سے راجوری اور بھدرواہ تک لوگوں کا رونا یہی ہے کہ انہیں پانی میسر نہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرجس اندازہ سے محکمہ جل شکتی یہ کام کر رہا ہے اس سے لگ رہا ہے ایک سال میں ہر گھر نل جل سکیم مکمل نہیں ہو گی ۔اس وقت ڈودہ ضلع میں اکثر مساجد ایسی ہیں جہاں پانی دستیاب نہیں ہے، جبکہ کئی گائوں ایسے ہیں جہاں کی خواتین سروں پر پانی کے برتن اٹھائے دیکھی جاتی ہیں ۔محکمہ جل شکتی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ستمبر 2022 تک ہر دیہی کنبے کو پینے کا پانی دستیاب ہو گا ۔افسر نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں کل 18.16 لاکھ دیہی کنبے ہیں اور2020-21کے دوران 215511 گھروں کو نئے کنکشن فراہم کئے گئے ہیں اور 2021-22 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 9000 گھروں کو کنکشن فراہم کئے  جائیںگے۔ محکمہ نے اس اسکیم کے تحت 92 فیصد اسکولوں اور 93 فیصد آنگن واڑی مراکز کو بھی شامل کیا ہے۔پہلے مرحلے کے تحت سرینگر اور گاندربل کے اضلاع میں نل کے پانی کی کوریج حاصل کی جاچکی ہے جبکہ ریاسی اور سانبہ اضلاع میں کام مکمل ہونے کے مراحل پر ہیں۔افسر نے مزید بتایا کہ روان سال محکمہ جل شکتی نے جل جیون مشن سکیم کے تحت  90 فیصد سے زیادہ سکولوں اور آنگن واڑی مراکز ،51فیصد صحت اِداروں اور 34 فیصد گرام پنچایتوں کو بھی شامل کیا ہے۔اور 2021-22  کے دوران صوبہ کشمیر میں 1,97,593نفوس اور صوبہ جموں میں 4,90,583گھرانوں کو فعال گھریلو کنکشن کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔کشمیر وادی میں فی الوقت  مختص شدہ 67 کاموں میں سے 35 پر کام تین اضلاع شوپیاں ، پلوامہ اور بانڈی پورہ میں شروع کیا گیا ہے۔