ہر گھر بجلی پہنچانے پرجموںوکشمیرکو ایوارڈ تو ملا لیکن سب کو بجلی نہیں ملی

ریاسی// سوبھاگیہ سکیم کے تحت ہر گھر تک بجلی پہنچانے پر مرکزی حکومت کی جانب ایوارڈ حاصل کرنے والے جموںوکشمیر میں آج بھی درجنوں دیہات تک بجلی نہیں پہنچی ہے ۔انہی دیہات میں ریاسی ضلع کے درجنوں گائوں شامل ہیں جہاں آج تک بجلی نہیں پہنچی ہے۔ان دیہات میںشکاری،چانہ،گوداس،نیرم،رنگ بنگلہ،شبراس،دیول،ڈوگا،نہوچ،وندارہ،بننابی وارڈنمبرایک اور 4ڈنڈا کوٹ،باگنکوٹ ،بگوداس وارڈ نمبر 4،ہسوت بی وارڈ نمبر 4 اور 1،بننا اے،ٹھیلو،ڈبری،شکاری،سلدھار وغیرہ شامل ہیں۔ ان علاقہ جات میں ابھی تک بجلی فرہم نہیں کئی گئی ہے اور یہ لوگ اس ڈیجیٹل دور میں بھی بجلی کا بلب دیکھنے کو ترس رہیں ہیں۔اگرچہ سال 2018 میں سوبھاگیہ سکیم کے تحت حکومت کی جانب سے ہر گھر میں بجلی فرہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا اور 2019 میں جموں کشمیر کو سبھاگیہ سکیم کے تحت 100 فیصد بجلی فرہم کرنے کیلئے ایوارڈ سے نوازا گیا لیکن ابھی بھی ان علاقہ جات تک بجلی نہیں پہنچ سکی ہے اور حکومت کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سال 2018 میں چند ایک علاقہ جات میں بجلی کے کھمبے تو لگائے گئے لیکن ابھی تک یہ لوگ بجلی کی ترسیلی لائنیں بچھنے کے انتظار میں ہیں۔ نیرم رنگ بنگلہ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ مہور ہیڈکوارٹر سے چند ہی کلومیٹر کی دوری پر ہے لیکن انہیں ابھی بھی بجلی جیسی سہولیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ ڈوگا کے لوگوں نے کہا کہ ڈوگا کی پوری پنچایت بجلی سے محروم ہے۔ان لوگوں نے مقامی لیڈران اور انتظامیہ کے افسران پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب بھی یہ لوگ کسی لیڈر یا آفیسر کے پاس اپنی مشکلات لیکر جاتے ہیںتو انہیں جھوٹی یقین دہانیوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔بی ڈی سی چیئرمن چسانہ عبدالرزاق اور ڈی ڈی سی چیئرمن مہور اے محمد اسرائیل نے بتایاکہ ان کے حلقوں میں کئی ایک دیہات بجلی سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے  اگرچہ کئی مرتبہ انتظامیہ کو آگاہ کیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔مقامی لوگوں نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ ان علاقہ جات میں بجلی فرہم کی جائے۔سلال پاور پروجیکٹ کے حوالے سے جب نمائندہ نے این ایچ پی سی کے پبلک ریلیشن آفیسر ایس آر گپتا سے بات کی توانہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ ملک کی 9 ریاستوں اور یو ٹیز کو بجلی فراہم کرتا ہے جن میں پنجاب،اتراکھنڈ،اتر پردیش،راجستھان،دہلی،چندی گڑھ،ہماچل پردیش،ہریانہ اور جموں کشمیر شامل ہے۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے ایگزیکٹیوانجینئر بجلی ریاسی ستپال شرما سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ریاسی کے بہت سارے علاقہ جات ہیںجو سوبھاگیہ سکیم کے دوران رہ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوبھاگیہ سکیم کا کچھ کام ابھی التوا میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقہ جات میں بہت جلد بجلی فراہم کی جائے گی۔