ہر رشتے کے حقوق متعین، باپ جنت کا دروازہ ہے

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کے روپ میں
اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرو دیا ہے ۔جیسے ماں باپ بھائی بہن شوہر، بیوی وغیرہ اور ہر رشتے کے لیے حقوق متعین کئے گئے ہیں، ان رشتوں کی بدولت یہ دنیا اور اس کا نظام قائم ہے ۔کوئی بھی شخص رشتوں سے الگ تھلگ ہو کر رہنے کا تصور نہیں کر سکتا ہے ۔اللہ رب العزت نے رشتوں کی اہمت کو واضح فرمایا ہےکہ رشتہ داروں میں آپس میں ایک دوسرے کے حقوق متعین کر دیئے گئے ہیں۔ان تمام رشتوں میں والدین کا رشتہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔اللہ نے اپنے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق بیان کئے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین کے حقوق باقی تمام رشتوں سے زیادہ اہم ہیں ۔کہنے کو دنیا جون مہینے کی تیسری اتوار کو یومِ والد (fathers day) کے طور پر مناتی ہے لیکن جس دین میں محبت اور شفقت سے ماں باپ کی زیارت کرنے پر حجِ مبرور کا ثواب ملتا ہو، وہاں  ہر روز کو یومِ والدین ہی کہیں گے تو بیجا نہ ہوگا۔ اللہ رب العزت نے جہاں جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا ہے وہاں باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا۔ باپ اپنے بچوں کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا اپنی جوانی، دولت وقت سب کچھ اپنے بچوں پر قربان کردیتا ہے، خود قناعت سے کام لیتا ہے لیکن بچوں کے لیے ہر چیز دستیاب رکھتا ہے۔ دنیا کا ہر باپ اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر معیار زندگی دینے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے بچوں کی خواہشیں پوری کرنے میں اپنی زندگی صرف کر دیتا ہے ۔باپ کتنا بھی بوڑھا ہو لیکن گھر کا مضبوط ستون باپ ہی ہوتا ہے۔ ماں کا نرم اور باپ کا سخت رویہ معاشرے کو معتدل بنا دیتا ہے ۔باپ ایک درخت کی ماند ہوتا ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے مگر اپنے گھر کو سایہ فراہم کرتا ہے، باپ تپتی دھوپ میں محنت کرتا ہے اور شام کو تھکا ہارا گھر پہنچ کر بچوں سے ہنسی خوشی وقت گزارتا ہے اور اپنے سارے غم بھول جاتا ہے۔ بقول شاعر
گھر کی اس بار مکمل تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے ہیں
باپ ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے۔ باپ کے عزت و احترام کو اولاد پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ باپ سے اونچی آواز میں بات نہیں کرنی چاہیے ،کسی سفر میں ہوں تو باپ سے آگے نہیں چلنا چاہیے ،کسی مجلس میں ہوں تو باپ سے پہلے نہ اٹھنا چاہیے نہ بیٹھنا۔ باپ کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنے یا ٹانگ پر ٹانگ رکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے، یہاں تک کہ باپ سے کی ہوئی بدتمیزی یا زیادتی اولاد کو جہنم تک پہنچا سکتی ہے۔والد کے حوالے سے اسلام یہ رہنما اصول متعین فرمائے ہیں: باپ کے چہرے پر جو جھریاں ہوتی وہ محض جھریاں نہیں ہوتی بلکہ ان میں زندگی کے اُتار چڑھاو ہوتے ہیں ،برسوں کے سکھ دُکھ چھُپے ہوتے ہیں، باپ کا چہرہ کسی کتاب سے کم نہیں ہوتا بس پڑھنے والی نظر چاہئے۔
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتا ہے:"اور آپ کےپروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کےسوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کےساتھ نیکی کرو اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اُف تک مت کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت اور تکریم سے بات کرنا۔"
اس سلسلے میں حدیث رسول صل اللہ علیہ السلام ہے کہ جس نے ماں باپ کو خوش کیا، اس نے خدا کو خوش کیا اور جس نے اپنے ماں باپ کو ناراض کیا ،اُس نے خدا کو ناراض کیا۔
اس سے  والدین کی اہمیت اور عظمت واضح ہوجاتی ہے لیکن آج باپ کو وہ عزت اور احترام نہیں مل رہا ہے جس کا وہ مستحق ہے ۔آجکل کے معاشرے میں بچے چار پیسے کیا کماتے ہیں ،اپنے باپ کی سب قربانیاں بھول جاتے ہیں اور گھر کے چھوٹے بڑے فیصلے خود لینے شروع کر دیتے ہیں اور اپنے باپ کو اعتماد میں بھی لینا ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ افسوس صد افسوس! جس باپ نے ہمیں اٹھنا بیٹھنا، پڑھنا لکھنا، اور چلنا سکھایا، آج ہم اس سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں، آج اس کا بولنا ہمیں کھٹکتا ہے، یہ ہماری بدقسمتی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ آجکل کے نوجوانوں کو گھر میں باپ کے لیے جگہ چھوڑنا بھی گوارا نہیں۔ اب لوگ اپنے والدین کو اولڈ ایج ہومز میں ڈالنے سے بھی نہیں شرماتے۔ ہندوستان میں 728 اولڈ ایج ہومز کام کر رہے ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں چار اولڈ ایج ہومز کام کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر میں بھی والدین سے بدسلوکی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسی مثالوں کے انبار ہیں جہاں باپ نے اپنے بیٹوں کو پڑھایا لکھایا، لیکن بڑھاپے میں در بہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوا۔جہاں باپ بیٹوں کے سامنے سر جھکائے رہتا ہے اور اپنے آپ کو مجبور، کمتر اور لاچار سمجھتا ہے۔ایسے دلسوز مناظر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ بڑھاپے میں باپ کو صرف پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ انہیںاُسی پیار اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے جو انہوں نے ہم پر نچھاور کیا ہوتا ہے، جب ہم بچے تھے اور قدم قدم پر ان کے محتاج تھے۔ ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو سلوک ہم اپنے والدین سے کریں گے، کل وہی سلوک ہمارے بچے ہم سے کریں گے۔ باپ کا سایہ جس گھر سے اُٹھ جاتا ہے، وہ گھر بے بس اور بے سہارا ہوجاتا ہے، پھر پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ باپ ہی ہوتا ہے جو ہر مصیبت اور آفت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے لیکن اس کی آنچ گھر تک نہیں آنے دیتا ۔ہم سب کو چاہیے کہ اپنے والدین کی عزت کریں، گھر کے چھوٹے بڑے فیصلوں کا حق اپنے باپ کو ہی دیں۔ گھر میں باپ کے لیے ایک مخصوص جگہ رکھیں اور وہاں بیٹھنے کی گستاخی نہ کریں۔ باپ کے سامنے اپنی نظریں جھکائے رکھیں ۔خدانخواستہ اگر کبھی کوئی گستاخی ہو تو معافی طلب کرنے میں دیر نہ کریں ۔اپنے والدین کو خوش رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ہمارا اللہ ہم سے خوش ہو جائے ۔ماں کی خدمت کرنے سے جنت مل تو جاتی ہے لیکن تب تک دروازہ نہیں کھلتا جب تک کہ باپ راضی نہ ہوں۔