ہر دُکھ و درد کا مداوا انسانیت ہے

یہ اٹل حقیقت ہے کہ زمینی اور آسمانی آفتوں کی تاریخ انسانی وجود سےشروع ہوتی ہے اور جب بھی کسی قوم پر خدا کی ناراضگی بڑھ جاتی ہے تو آندھی، طوفان، سیلاب ،زلزلے اور وبائی بیماری کی صورت اختیار کرکے اُس قوم کو آلام و مصائب میں مبتلا کرتی ہے یاپھر صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتی ہےاور ایسی تباہی اور بُربادی بپا ہوتی ہے ،جس کے اثرات عشروں اور صدیوں تک موجود رہتے ہیں۔گذشتہ سال کے بدترین کرونائی قہر نے جہاں پہلے مرحلے میں ساری دنیا کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات سے دوچا ر کرکے ہلا کے رکھ دیا، بڑے بڑے سُپر پاور طاقتوراور مالدار سورمائوں کی زبانیں گنگ کر دیںاور شاہانہ زندگی گذارنے والے لوگوں کوبھی معاشی بدحالی سے دوچار کردیاتووہاںآج اس وبائی قہرنے اپنےدوسرے مرحلےمیںبرصغیر کے ایک سو تیس کروڑ آبادی والے ملک بھارت کو تلپٹ کرکےاس کا نظام ِزندگی مفلوج کردیا ہے۔ ہر طرف مہا ماری کی بد ترین صورت ِحال جاری ہے۔ روزانہ تین لاکھ سے زاید مثبت معاملات سامنے آرہے ہیں اور یومیہ دو سےتین ہزار کے درمیان اموات ہورہی ہیں۔ روزانہ نئے کیسز اور ہلاکتیں جوریکارڈ بنا رہی ہیں، کم رپورٹنگ سے یہ خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے ۔
 حیران کُن امر یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران دو ماہ قبل عوام کو کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کی نویدیں سنا رہے تھے،دنیا کو اپنی مثال پیش کررہے تھے اوردنیا بھر کوویکسین کی فروخت کے ریکارڈ سودےکی باتیںکررہے تھےاوروزیر صحت یہاں تک اعلان کررہے تھے کہ یہ وبا خاتمے کے قریب ہے۔توبھَلاوہ کون سی بات ہے کہ آناًفاناًآج اس ملک یعنی بھارت کے لئے کورونا وائرس ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔اگرچہ صحت عامہ کی صورتحال پہلے ہی سنگین ہے لیکن اب وہ اِس وبائی قہراورہلاکتوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔ اسپتالوں میں خطرناک حد تک آکسیجن کی کمی ہے اورعام مریضوں کےعلاج و معالجہ کے لئےکسی ہسپتال میں کوئی جگہ بھی نہیں ہے، ہر طرف ہا ہا کار مچی ہوئی ہے اور تا حال حالات مزید خراب ہورہے ہیں ۔ نتیجتاً جہاںکئی شمشان گھاٹوںپربھٹیاں زیادہ مستملی سے پگھل رہی ہیںوہیں بیشتر شمشان گھاٹوںمیں کہیںمُردوں کو جلانےکے لئے لکڑی نہیں اورکہیں جلانے کے لئے جگہ ہی نہیں بچی ہے۔لاشوں کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔مختلف شمشان گھاٹوںپردو دو دن کے بعد مُردوں کو جلانے کی باری آرہی ہے اور کئی مقامات پر Daed bodies سڑکوں پر پڑی ہوئی انتُم سنسکارکی منتظر ہیں، انتہائی لرزہ خیزصورتِ حال ہے۔حالانکہ مارچ میں ہی بھارتی حکومت نئے وائرس کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کی گھمبیر صورت حال سےبا خبر تھی کیونکہ کورونا کا نیا وائرس بھارت میں اکتوبر کے اوائل سے ہی گردش میں تھا،جسے کورونا وائرس کی قسم بی 1617کا نام دیا گیااورجو دو شکلوں E484Q اور L452R میں ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اس وائرس کا تحقیق کررہے ہیں لیکن تاحال کچھ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ کس حد تک پھیل چکا ہے تاہم دنیا کے 21ممالک میں اس وائرس کی نشان دہی ہوچکی ہےاور ماہرین کے مطابق یہ وائرس زیادہ وبائی ہےاوراس وائرس پر موجودہ دو ڈوزویکسین مکمل طورپرموثرثابت نہیںہورہی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وائرس کی رفتاراور وسعت میں کیوں شدت آئی اورکس نے کورناوائرس کی اس دوسری لہر کو انتہائی وحشی بنادیا ہے۔ماہرین نےجہاں ایک طرف بغیر ماسک کے ہر جگہ لوگوں کی نقل و حرکت کو وجہ بتایا وہیں ریاستی انتخابات کی ریلیوں اور منعقدہ اجلاس میںبڑے بڑے ہجوم کے ساتھ ساتھ رواں ماہ مذہبی تہوار کے سلسلے میں لاکھوں افراد کا دریائے گنگا کا رخ کرنابھی قرار دیا ہے۔ظاہر ہے حکومت کا ردِ عمل غیر موثر تھااور حکام نےلاک ڈاون کی پابندیا ں عائد نہیں کی تھیں،اس لئے شہریوں نے بھی سماجی فاصلے کے پروٹوکول کو نظر انداز کردیا۔موجودہ لہر میں زیادہ سے زیادہ نوجوان اسلئے متاثر ہورہے ہیں کیونکہ یہی لوگ اپنے گھروں سےکام اور تفریح کے لئے بے ہنگم طریقے سے باہر آئےتھے۔سائنس دانوں کو خدشہ ہے مغربی بنگال میں وائرس کی نئی قسم اس سے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔امریکی جریدے ’’فوربز‘‘ نے لکھا کہ بھارت کی اس تباہ کن صورت حال پر دنیا کا ردعمل خاموش ساہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہےکہ کورونا سے دنیا بھر میں ہلاکتیں ہو رہی ہیںکیونکہ انہیں ویکسین نہیں لگائی جارہی،ان کے ٹیسٹ نہیں کئے جارہے اور ان کا مناسب علاج نہیں کیا جارہاہے۔اگرچہ بھارت نے جنوری میں بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم چلائی تھی لیکن اب اسے بڑی قلت کا سامنا ہےکیونکہ اس نے اس سال کے اوائل میں لاکھوں ویکسین بیرون ملک برآمد کی تھیں۔ طبی جریدے ”دی لینسیٹ“کے ایک مضمون میں خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تواگلے ماہ جون کے بعدیومیہ ہلاکتوں میں مزید بڑھوتری ہوسکتی ہے۔کیونکہ موجودہ صورت حال وہ نشاندہی کررہی ہے کہ یہ وائرس آگے کیا کرسکتا ہے۔’’بلوم برگ‘‘ لکھتاہے کہ زیادہ تر اموات جو دیہی علاقوں میں ہورہی ہیں ،وہ رجسٹرڈ ہی نہیں۔ مجموعی ہلاکتوں میں سے 20سے 30فی صد کو طبی سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہے،اس کی وجہ ناقص ٹیسٹنگ اور صحت کا نظام ہے، جس نے بھارت میں ابتر صورت حال بنا دی ہے۔آکسیجن کی کمی اورعدم دستیابی سے حالات مزید خراب ہورہے ہیںجبکہ ہسپتالوں سے متصل سڑکوں پر سرِراہ،فُٹ پاتھوں، موٹر گاڑیوں، آٹو رکھشائوںاورریڑیوںپر ذاتی آکسیجن سلینڈرلئے ہوئےبے شمار مریض کئی دنوںسے ہسپتال میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔
الغرض اس انتہائی سنگین صورتِ حال دورا ن بھی انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق بیشترانسانوں کا دل دہل گیا اور وہ نوع ِ انسانی کی مدد کے لئے پیش پیش رہے اورمحض انسانیت کے ناطے اپنے جانوں کی پرواہ کئےاُن لوگوں کے ساتھی اور مددگار بنے، جو انتہائی مجبور ، بے کس اور بے بس تھے۔یہ لوگ صرف انسانیت  کے لئےجہاں کسی کے لئےاپنے ذاتی خرچے پر آکسیجن فراہم کرتے اور کراتے رہے وہیںبغیر کسی ذات یا مذہب کے لاوارث لاشوںکو شمشان گھاٹ پہنچاتے اور اُن کا انتم سنسکار کرانے کا کام بھی کرتےرہے۔ چنانچہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ فطرت اور انسان کے درمیان ازل سے مہر اور قہر کا جو رشتہ چلا آرہا ہے ،اس میں فطرت کے غضب ناک ہونے پر جو آفات نازل ہوتی ہیں اُن کا مقابلہ کرتے وقت بہت سےلوگوں میںوہ حقیقی انسان نمودار ہوجاتا ہے جس کی نہ کوئی نسل ہوتی ہے نہ کوئی قوم،نہ مذہب اور نہ عقیدہ،اس وقت وہ نہ صرف انسان ہوتا ہے بلکہ انسانیت کے ناطے فطرت کے چیلینجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھی اور مددگارہوتا ہے ۔اس وقت یہ انسان مذہب میں فرق نہیں دیکھتا ،رنگ و نسل کا امتیاز نہیں کرتا ،قومیت کو خاطر میں نہیں لاتا ،محض انسان ہونے کے ناطے انسان کی مدد کرکے انسان ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔اب جبکہ بھارت میں کرونا قہر کی لرزہ خیزتشویش ناک صورت حال کو دیکھ کئی غیر ملکی حکومتیں مدد کے لئے کھڑی ہوگئیں اوراپنی طرف سے حتی المقدر طبی امداد فراہم کرنےکی پیش کشیں کیںتو اس سے بھارتی عوام کو علاج و معالجہ کے معاملے میں ایک نئی آس پید اہوگئی۔چنانچہ برطانیہ اور فرانس کی طرف سے طبی سامان کی جو کھیپ پہنچ رہی ہے اُس میںوینٹِلیٹر ، آکسیجن کنسٹریٹر اور آکسیجن جنریٹرقابل ذکر ہیں۔فرانس کی طرف سے جو آکسیجن جنریٹر فراہم ہورہا ہے وہ 250بستر والے ہسپتال کو پورے سال آکسیجن کی فراہمی کے لئے کافی ہے۔پاکستان ،امریکہ ،آسٹریلیا سمیت کئی دیگر ملکوں نے بھارت کو طبی امدا د فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ 
ا ن حالات میں بلاشبہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کےعوام کی بہرصورت حفاظت کرنے کے لئے کمر بستہ ہوجائے۔لوگوں کی زندگیوں کو بچانےکے لئے جو بہتر اور مثبت طریقہ ضروری ہو ، کسی لیت و لعل کے بغیر اُسے اختیار کرے۔ کورونا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل کرانے اورسرکاری ہسپتالوںاور دیگر طبی مراکز میں علاج ومعالجہ کی سہولتوں کابڑے پیمانےپر جس طرح کا فقدان ہے،اُسےاولاً اور لازماً دور کرایا جائے، حتیٰ کہ آکسیجن ضرورت کے مطابق دستیاب کرانے کے اقدامات فوراً اٹھائے جائیںکیونکہ روزانہ سینکڑوں مریض آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں ۔ہاں! یہ بات تو قابل فہم ہے کہ ویکسین کو مسئلے کا فوری حل نہیں نکالا جاسکتا کیونکہ مطلوبہ مقدار میں ویکسین مل بھی جائے تب بھی ملک کی پوری آبادی تک اُسے پہنچانے میں ایک لمبی مدت درکارہے جبکہ دنیا بھر میں فی الوقت ویکسین کی قلت ہے اور وبا میں شدت کے ساتھ ساتھ ویکسین کی دستیابی میں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔اس موقعہ پر سجدہ کرنا ،ماتھا ٹیکنا اور منشائے خدا کے مطابق زندگی گزارنےکا اصل مقصد سمجھنا ہرانسان کے لئے ضروری ہے ورنہ خود ہی ایسی کوئی ہستی یا چیز بننے کی خواہش رکھنا ،ساری دنیا کو اپنے زیر نگین رکھ کر بلا شرکت ِ غیرے حکمران بننا، اپنی مرضی سے اپنا رُخ بدلنااوراپنے آپ کو لوگوں کی موت یا زندگی دینے کا مجاز سمجھنا خوابوں کی دنیا میں رہنے کے ہی مترادف ہے۔ کیونکہ دیکھا یہی جارہا ہے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتےہیں جو محبت کے اہل نہیںہوتے،پھر بھی انہیں اپنی ذہانت پر اس قدر مان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں میں کیڑے نکال کر کسی اور کا قد چھوٹا کرکے کسی دوسرے کی خوبی میں بُرائی کا پہلو نکال کر اپنی عظمت کی قلا جگاتے ہیں۔