ہر اشیاء مہنگی سستے صرف حکام کے دعوے!

سرینگر //پچھلے  دوبرسوں کے دوران عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے کے اثرات ملکی سطح پر بری طرح پڑے ہیں اور اس کے اثرات سے جموں کشمیر بھی بچ نہیں سکا۔بیروزگاری بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا اور کووڈ 19کی وجہ سے اقتصادی طور پر متاثر جموں وکشمیر کے عوام کو مہنگائی کی نا قابل برداشت مار جھیلنی پڑ رہی ہے ۔وادی میں روز مرہ کی بنیادہ چیزیں بہت زیادہ مہنگی ہوئی ہیں حتیٰ کہ یہاں اگلنے والی سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھورہی ہیں۔لیکن ’ ضروری اشیاء کی فراہمی‘ کی دیکھ ریکھ کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران بھارت میں سب سے زیادہ قیمتیں پیٹرولیم مصنوعات، گیس اور کھانے پینے کے تیل کی بڑھ گئی ہیں۔کھانے پینے کے تیل کی قیمتیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ یہ عام صارف کے قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے۔پچھلے سال مارچ اپریل سے کووڈ 19 لاک ڈائون اور لداخ میں چینی فوج کی دراندازی کے بعد اشیائے خوردنوش بالخصوص کھانا پکانے کے لئے استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔متذکرہ بالا غیر سرکاری ادارے نے’ لازمی اشیاء کی قیمتیں‘ سے متعلق جو رپورٹ تیار کی ہے اس کی رو سے وادی میں کھانے پکانے والے تیل میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔پچھلے سال ستمبر میں تیل سرسوں( پیر برانڈ) کی ہول سیل ریٹ15لیٹر 1650روپے تھی، جو فی الوقت 2900کے قریب ہے۔جبکہ اسی تیل کے 5لیٹر ڈبے کی قیمت پچھلے سال 540تھی جو اس وقت ایک ہزار روپے ہے۔جمبو اور پی مارکہ برانڈوں کی تقریباً ایک جیسی قیمت ہے ۔ جمبو اور  پی مارکہ کے 15لیٹر ڈبے کی ہول سیل ریٹ پچھلے سال 1750سے 1850کے درمیان تھی جو اب قریب 2900ہے۔انکے 5لیٹر کی ہول سیل ریٹ پچھلے سال 600روپے تھی جو فی الوقت 950ہے۔دارا برانڈ کی پچھلے سال 15لیٹر کی ہول سیل قیمت 1700روپے تھی جو اس وقت 2700 روپے ہے۔فارچیون سویا برانڈکی پچھلے سال 15لیٹر کی قیمت 1250روپے تھی جو اب 2500سے 2500روپے میں فروخت ہورہا ہے۔فارچیون 5لیٹر کی ہول سیل ریٹ پچھلے سال 550تھی جو اب 850ہوگئی ہے۔سفولا برانڈ کی 15لیٹر کی ہول سیل ریٹ پچھلے سال 1600روپے تھی جو اب 2700روپے تک پہنچ گئی ہے۔اسی تیل کے 5لیٹر ڈبے کی قیمت پچھلے سال 800روپے تھی جو اب 1100روپے ہوگئی ہے۔فارچیون رائس برانڈ کی 15لیٹر ڈبے کی ہول سیل ریٹ 2800روپے ہے جو پچھلے سال 1700روپے تھی۔اسکے علاوہ جتنی اقسام کھانے پینے کی تیل کی ہیں ان سب کی قیمت میں دوگناہ اضافہ ہوگیا ہے۔راولپورہ کے مشہور ہول سیل ڈیپارٹمنٹل سٹور کے مالک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے سال سے تیل کی قیمت میں جو دوگناہ اضافہ ہوا ہے اس سے ہول سیل ڈیلر بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں ۔ لیکن انہوں نے تاہم کہا کہ کووڈ کی وجہ سے باہر کا تیل مارکیٹ میں نہیں آسکا اور یہاں کے تیل کی بر آمد بھی نہیں ہوسکی نیزلداخ میں صورتحال  دگر گوں رہی اور کووڈ لاک ڈائون کی وجوہات غالباً کھانے پینے کے تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجوہات ہوسکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کھانے پینے کے تیل کی قیمتیں ہر گذرتے دن کیساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں اور اس بات کا کم امکان ہے کہ انکی قیمتوں میں کوئی کمی آسکتی ہے۔ادھرصارفین کا کہنا ہے کہ  سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے جس کا خریدنا لوگوں کیلئے مشکل ہی نہیں نا ممکن بن رہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ آمدنی بڑھنے کے بجائے کورونا دور میں کم ہوئی ہے، ایسی صورتحال میں عام آدمی کو تھوڑا سا بھی اضافہ گراں گزر رہا ہے ۔ 
 

پولٹری کی نئی قیمتیں مقرر

نیوز ڈیسک
 
سرینگر // محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے شادی بیاہ کی تقریبات تقریباً ختم ہونے کے بعد پولٹری کی قیمتیں مقرر کرنے کی نوٹیفکیشن جاری کردی ہے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر نے جانب سے جاری نرخنامے کے مطابق برائلر کی قیمت فی کلو 110روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ پیرنٹ مرغ کی قیمت فی کلو 95روپے ہوگی۔ایک درجن انڈے 66روپے میں فروخت ہونگے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نئی قیمتیں مقرر کرنے کا فیصلہ اس ضمن میںہوئی میٹنگوں میں بات چیت کے بعد مقرر کی گئی ہیں۔قیمتوں کا اطلاع لازمی اشیاء ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔