ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں دھماکہ،پولیس افسر سمیت 8افراد زخمی

سرینگر // ہری سنگھ ہائی سٹریٹ سرینگر میں مشتبہ ملی ٹینٹوں نے پولیس کو نشانہ بنانے کی غرض سے گرینیڈ پھینکا جو زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسرسمیت 8افراد زخمی ہوئے جن میں 3خواتین بھی شامل ہیں۔شام دیر گئے پولیس نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ انہوں نے گرینیڈ پھینکنے والے نوجوان کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔یہ واقعہ منگل سہ پہر قریب ساڑھے 3بجے اُس وقت پیش آیا جبکہ شہر میں غیر معمولی سیکورٹی بندو بست کی وجہ سے تقریباً ہر طرح کی نقل و حرکت بند ہوئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ نا معلوم مشتبہ ملی ٹینٹوں نے ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں ہنومان مندر کے نزدیک چوک میں پولیس و فورسز پارٹی پر گرینیڈ پھینکا ،جو نشانہ چوک پر سڑک پر زوردار دھماکے کیساتھ پھٹ گیا۔ عام طور پر سہ پہر بعد اس جگہ لوگوں کی بہت زیادہ بھیڑ رہتی ہے لیکن منگل کو واقعہ پیش آنے کے وقت  لوگوں کازیادہ رش نہیں تھا۔گرینیڈ کے آہنی ریزوں کی وجہ سے اینٹی کورپشن بیورو کا ایک انسپکٹر تنویز حسین ساکن بڈگام،38سالہ تنویرا اختر  اور اسکا خاوند محمد شفیع بٹ ساکن چھتہ بل،40سالہ عصمت آرا زوجہ ظہور احمد حجام ساکن چرار شریف،48سالہ نصرت اختر دختر ڈاکٹر تعظیم ساکن نواب بازار،30سالہ ظہور احمد لون ولد غلام رسول ساکن خانیار،35سالہ غیاث الدین ولد زین العابدین ساکن آسام اور امتیاز احمد وانی ساکن لالچوک شامل ہیں۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کے پیٹ میں زخم آئے ہیں جبکہ ایک اور خاتون کی ٹانگوں میں گرینیڈ کے آہنی ریزے لگے ہیں۔ سبھی 8 زخمیوں کو فوری طور پر صدر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انکی حالت مستحکم ہے۔دھماکہ کے فوراً بعد یہاں افرا تفری مچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لیا گیا۔تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔شام دیر گئے پولیس نے اس بات کی اطلاع دی کہ اس نے گرینیڈ پھینکنے والے کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کی جانب سے ٹویٹ کر کے بتایا گیا کہ ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں گرینیڈ کا دھماکہ کرانے والے کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور اس ضمن میں مزید تحقیقات کی جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے اگر چہ گرفتار نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے فتح کدل علاقے سے اعجاز احمد وانی ولد فیاض احمد کو گرینیڈ دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔