ہرنی گائوں کے تین کنوں کیلئے پانی کا حصول پریشانی کاباعث

 
مینڈھر// حال ہی میں تبدیل ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنرپونچھ طارق احمدزرگربھی ہرنی مینڈھرکے تین کنبوں کوپانی دلانے کیلئے کچھ نہیں کرسکے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ کنبوں کوپانی کے حصول کیلئے نہ صرف جدوجہدکرنی پڑرہی ہے بلکہ کچھ لوگ ان کنبوں کوپانی حاصل کرنے سے بھی روک رہے ہیں اوراتناہی نہیں گذشتہ روز کچھ افرادنے پانی سے محروم ہرنی گائوں کے کنبوں کی خواتین کی شدیدمارپیٹ کی جس پرضلع انتظامیہ مینڈھراورمحکمہ پی ایچ ای خاموش تماشائی بنارہا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روزآمنہ خانم عمر16سال، اورفہمیدہ کوثرعمر40سال پرکچھ لوگوں نے حملے کرکے زخمی کردیاجس کے بعدزخمی خواتین کومینڈھرہسپتال میں لے جایاگیا۔زخمی خواتین کے ورثاء نے الزام لگایاہے کہ نہ توپولیس حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی کررہی ہے اورنہ ہی ہمیں محکمہ پی ایچ ای پانی سپلائی دینے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش کررہاہے جوکہ افسوس ہے۔تفصیلات کے مطابق اگرچہ حکومت عوام کوپانی کی دستیابی کے دعوے کررہی ہے لیکن مینڈھرکے ہرنی گائوں میں تین کنبوں کوعرصہ چھ ماہ سے پانی کی سپلائی فراہم نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے متاثرہ کنبوں کاجینامحال ہوگیاہے۔متاثرین نے الزام لگایاہے کہ پی ایچ ای وزیرشام لال چوہدری اورلیگل سروس اتھارٹی کی ہدایات ماننے اورخاطرمیں لانے کے بجائے متعلقہ پی ایچ ای افسران نے انہیں ردی کی ٹوکری کی نذرکردیاہے۔ تفصیلات کے مطابق ہرنی گائوں کے محمداسلم، محمداصغرخان اورمحمداشرف خان ایسے تین کنبے ہیں جومحکمہ پی ایچ ای کی منتیں سماجتیں کرکے تھک چکے ہیں کہ انہیں پانی کی سپلائی دی جائے لیکن متعلقہ محکمہ ٹس سے مس نہیں ہورہاہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ کنبوں نے بتایاکہ چھ ماہ پہلے ان کاپانی کاکنکشن ایک لائن سے کاٹ دیاگیاتھاجس کے بعدتین چارماہ پہلے متعلقہ محکمہ نے 35پائپیں دی تھیں لیکن عرصہ چھ ماہ گذرنے کے باوجود ان پائپوں کونصب کرنے میں ناکام رہاہے جس کی وجہ سے ان کنبوں کاجینادوبھرہوگیاہے۔متاثرین نے کہاکہ متعلقہ محکمہ کے مقامی افسران غفلت کامظاہرہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی ایچ ای وزیر شام لال شرمانے بھی متعلقہ حکام کوہدایت دی تھی جس کاکوئی اثرافسران پرنہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ لیگل سروس اتھارٹی مینڈھرنے بھی پی ایچ ای حکام کوکہاتھاکہ وہ پانی سے محروم ان تین کنبوں کی سپلائی بحال کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں لیکن عرصہ چھ ماہ گذرچکاہے پھربھی متعلقہ محکمہ غفلت کی نہج کوبرقراررکھے ہوئے ہے۔ متاثرین نے کہاکہ اگرجلدازجلد متعلقہ محکمہ نے پانی کی سپلائی بحال کرنے کیلئے پائپیں نصب کرکے کنکشن بحال نہ کئے تو بڑے پیمانے پراحتجاج کیاجائے گاجس کے لئے متعلقہ مقامی پی ایچ ای افسران ذمہ دار ہوں گے۔ اس سلسلے میں جب اے ای ای پی ایچ ای مینڈھرمنیراحمدسے رابطہ کرنے کی کوشش کی تونیٹ ورک کی عدم دستیابی کے سبب ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔