ہجومی قتل انسان دشمنی ہے

ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی انجمن سے پہلے

سزاخطائے نظر سے پہلے عتاب جُرم سخن سے پہلے

اِدھر تقاضے ہیں مصلحت کے اُدھر تقاضۂ درد ِدل ہے

زبان سنبھالیں کہ دِل سنبھالیں اسیرذِکر چمن سے پہلے

(فیضؔ)

بھیڑ چال کا لفظ تو مروج ہے ۔ بھیڑ چال ایک بے ضرّر چوپایاہے ۔ جس کی فطرت ہے کہ جس طرف ایک بھیڑ ھ چلتی ہے اس کے پیچھے دیگر بھیڑ یں بغیر سوچ سمجھ کے چلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ چالاک ہوشیاراو ر چالباز سیاسی لیڈروں نے عوام کوبھی بھیڑھ چال سکھانے میں کمال دکھایاہے اور اس بھیڑھ چال کے ذریعہ سادہ لوح عوام کو بھیڑ وں کی طرح بھیڑ ھ چال کے ذریعہ اپنی سیاسی وانتخابی ضروریات پوری کررہے ہیں۔ خصوصی طورپر اندھ وشواس میں یقین رکھنے والے بھاجپا لیڈر لیکن بھاجپا کے لیڈر اور اس قماش کے دیگرلیڈروں نے ’’بھیڑ چال‘‘ کا لفظ بھی مروج کردیاہے۔ وہ جھوٹی افواہیں پھیلا کر بھیڑ (مجمع) جمع کرتے ہیں اوریہ مجمع افواہوں کی بنیاد پر تشدد پر اُتر آتاہے۔ گائو کشی، تبدیلی مذہب، لوجہاد کے متعلق غلط افواہوں کے ذریعہ ملک کے کئی مقامات پر اس بھیڑ چال کی وجہ سے کئی قتل اور تشدد کے واقعات وقوع پذیر ہوچکے ہیں ۔کئی مسلم اور دلت اس وجہ سے جان سے مارے گئے ہیں۔ چنانچہ اب اس سلسلہ میں صورت حال اس قدر تشویش ناک ہوچکی ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کو بھی اس سلسلہ میں نوٹس لینا پڑاہے۔ اس سلسلہ میں یہ امر خصوصی طورپر قابل ذکر ہے کہ اس قسم کی ہنگامہ آرائی کے مفسدین کو جیلوںمیں ملاقی ہونے کے لئے بھاجپا لیڈر جاتے ہیں، جن میں بسااوقات مرکزی وزراء بھی شامل ہوتے ہیں۔ 
سوشل میڈیا جان لیتاہے اور کیسے؟ بھیڑ کی طرف سے قتل پھر سیاسی اور سماجی سرخیوںمیں آگئے ہیں۔ بھیڑ کی طرف سے مہاراشٹر، کرناٹک ، تریپورہ ، آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، گجرات اور مغربی بنگال سمیت آسام سے لے کر تامل ناڈو تک کئی صوبوں میں ایسے کئی کیسوں میں متعدد بے قصور لوگوں کو قتل کیاگیا۔ ان کیسوں میں بھیڑ پولیس سے بھی تیزی سے کاروائی کرتی ہے اور افسر ٹیکنیک کے ذریعہ ایسے قتلوں کو روکنے کے لئے طورطریقوں کو نہیں ڈھونڈ پارہے ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے ضلع دھلے میں بھیڑ کی وجہ سے پانچ لوگوں کو قتل کیاگیا اور اس کی وجہ واٹس ایپ پر بچوں کی خریدوفروخت کی جھوٹی افواہ تھی۔،جس کے چلتے بھیڑ نے ان کولوگوں کی پیٹ پیٹ کر ہتیاکردی۔
 کچھ صوبوںنے ایسی افواہوں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ لوگوں کی خدمات لی ہیں اور جو لائوڈسپیکر لے کر گائوں گائو ں جارہے ہیں اور جھوٹی خبروں کے خطروں کے بارے میں لوگوں کو بتارہے ہیں۔ یہ صوبے ایسے تشدد پر کنٹرول لگانا چاہتے ہیں ۔ ان درد انگیزواقعات سے دُکھی اور سراپا احتجاج سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھیڑ کی طرف سے ایسے قتلوں کو مہذب سماج میں ناقابل قبول جرم بتایا ہے اور کہاہے کہ کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتاہے اور ایسے الم ناک واقعات پر روک لگانے کی ذمہ داری صوبائی سرکاروں پر ڈالی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ صوبوں کو ایسے واقعات کو روکنے اور متاثرین کو معاوضہ دینے کے لئے گائیڈ لائنیں بنانی چاہییں۔ عدالت گئو رکشکوں پر کنٹرول لگانے کے لئے گائیڈ لاین بنانے کے بارے میں ہدایت دینے کی رٹ پر شنوائی کررہی تھی۔یہ بتاتاہے کہ مقامی انیٹلی جنس سروس کتنی بے اثر ہے۔ وہ سب کچھ پولیس کو تنائو یا آئندہ حملے کے بارے میں آگاہ نہیں کرپاتی۔ یہ سروس ایسے گروپوں کے پاس ہتھیاروں اور ان میںشامل لوگوں کے بارے میں اطلاع مہیا کرنے میں بھی اہل نہیں ہے۔ ایسے قتل عمد ہمارے نظام کی کمزوری کا اشارہ ہیں اور یہ بات بتاتے ہیں کہ ملک میں قانون پر عمل درآمد نہیں ہورہاہے۔ ملک میں نفرت اور غم وغصہ کا ایک نیا فرقہ قائم ہوگیاہے۔ غنڈہ گردی کے ذریعہ موت اور مذموم جرائم کئے جارہے ہیں اور ہم ایسے درندہ ہ صفت عناصر کے قیدی بن گئے ہیں۔ اگر وقت پر مداخلت کی جاتی تو ہجوم کی طرف سے ایسے واقعات کو روکا جاسکتاتھا۔ ہجوم کی طرف سے ایسی گڑبڑ کوئی نئی بات نہیں ہے اور کچھ صوبوںمیں حکمران پارٹیاں اس کا استعمال سیاسی ذرائع کے طورپر کررہی ہیں اور کئی مرتبہ اس کا استعمال سیاسی فائدہ کے لئے کیا جاتاہے اور کئی مرتبہ اپنے سیاسی اقتدار کو اور اپنے حمایتیوں کو بچانے کے لئے ایسے واقعات کو نظرانداز کیا جاتاہے۔
ہمارے ملک میں ایک سوکروڑ سے زیادہ سرگرم موبائل فون کنکشن ہیں اورتیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کے پاس واٹس ایپ سہولت ہے۔ اس لئے سرکار کوکوئی طریقہ نہیں سوجھتا کہ وہ جھوٹی خبروں کے آدھار پر کس طرح تشدد پرپابندی  لگائے ۔ ایسے تشدد پر پابندی لگانا مقامی حکام پر چھوڑدیاجاتاہے۔ وارننگ جاری کی جاتی ہے اور گائوںگائوں جاکر عوامی بیداری کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ کافی نہیںہے۔ جب کہ سرکار دعویٰ کرتی ہے کہ وہ بھر پور کوششیں کررہی ہے۔ ساتھ ہی سرکار کو قربانی کا بکرے کے طورپر واٹس ایپ مل گیاہے اور وہ واٹس ایپ سے کہتی ہے کہ وہ ایسے پیغامات پر روک لگائے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ سرکار کانظریہ کتنا نامناسب ہے اور اسے جدید پیغام بھیجنے والے ذرائع کی یا تو سمجھ نہیں ہے یا جان بوجھ کر انجان بنتی ہے ۔ ساتھ ہی سرکار ایسے قابل مذمت قتل ناحق کے معاملوں میں وسیع مدعوں کو حل کرنے میںبھی ناکام رہی ہے۔ بھیڑ کی طرف سے کئی لاء اینڈ آرڈر کے مسائل  ہیں لیکن اس کی تین اہم وجوہات ہیں۔ پہلی ذاتی اور پنتھ کی پہچان، دوسری مجاز عدالت کی طرف سے بھیڑ کے ذریعہ تشدد کرنے والوں کو سزا نہ دیا جانا۔ جہاںپر صوبے کے افسر موجود بھی ہوتے ہیں۔ وہ بھیڑ کو چنوتی دینے میںا ہل نہیں ہوتے اور تیسری: قانون کو لاگو کرنے والے تشدد میں شریک بن جاتے ہیں۔ قانون کی حکومت کمزور ہوگئی ہے اور اس کی مثال گئو مانس پر پابندی لگانے کے بارے میں ہجوم کی طرف کا کیا جاناہے۔ 
 ملک بھر میںسیاسی پارٹیاں ہزاروں واٹس ایپ فسادیوں کوبھرتی کررہی ہیںجوکئی حساس معاملاتاچھال کرقابل اعتراض پیغامات پھیلاتے ہیں ۔اس کا توڑ کر نے کے لئے ہونا یہ چاہیے کہ سرکار اور سیاسی پارٹیاں سوشل میڈیا اور مسیجنگ پلیٹ فارموں کی طر ف سے دی جارہی اطلاعات کی سچائی کے بارے میں جاننے کے لئے لوگوں کو ترغیب دیں تاکہ لوگوں میں غلط فہمیاں اور کدورتیں پیدانہ ہوں۔ اس کے علاوہ پولیس فورس کو ایسے حلقوں کی شناخت کرکے موثر اقدامات کرنے چاہئیں اور غلط اطلاعات کے بارے میں فوراً کاروائی کرنی چاہیے۔ پولیس فورس کو سماج میں بیداری پیدا کرنی چاہیے۔ عوام کا اعتماد جیتنا چاہئے اور بھیڑ کی طرف سے تشدد پر روک لگانی چاہیے اور اغوا کاروں وغیرہ مدعوں پر لوگوں کے خوف کو دور کرنا چاہیے۔ بھیڑ کی طرف سے قتل کے معاملے میں واٹس ایپ کو قصور وار بتانا ظاہر کررہاہے کہ سرکار شہریوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ جنتا سے جڑنے کے مواقع کو بھی کھورہی ہے اور لغو پراپیگنڈہ کے مسئلہ و اس پرکنٹرول لگانے کے اقدامات کونہیں سمجھ پارہی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ سرکار ٹیکنیکل مواصلاتی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرکے جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے اس پرکنٹرول لگانے کے لئے طریقے ڈھونڈے گی لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب سرکار اس چنوتی کا سامنا کرنے کے لئے قوت ارادی اور حُب انسانیت دکھائے گی۔ 
دُنیا کے کئی ممالک جھوٹی خبروں پھیلانے والوں پر قانون کی مشقیں کسنے کے لئے قواعد وضوابط بنارہے ہیں ، اس کی شروعات 2016میں امریکی صدارتی چنائو میںروس کی طرف سے مداخلت اور نفرت آمیز تقاریر سے ہوا ۔ ایسے رد عملوں سے اظہار خیال کی آزادی بارے بھی تشویش بڑھی ہے ۔ جھوٹی اور من گھڑت خبریں بھارت  جیسے کثیرالثقافت ملک کے لئے خاص طورپر نقصان دہ ہیں کیونکہ یہاں پر ایسے ناہنجارسمارٹ فون استعمال کرنے والے لوگ ہیں جو ایک دن میںکروڑوں غلط پیغامات اِدھر اُدھر بھیجتے رہتے ہیں ۔ واٹس ایپ نے اپنی طر ف سے ایک ایسا فنکشن شروع کیاہے جو گروپ کے ایڈمنسٹریٹر مسیج پوسٹ کرنے پر پابندی لگانے کی اجازت دیتاہے۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ جھوٹی خبروں کو پھیلانے پر پابندی لگانے میںیہ کتنا کامیاب ہوگا۔
ہجوم کی طرف سے قتل، بھیڑ کی طرف سے تشدد کی خطرناک سیاسی رُحجانات کو بھی ظاہر کرتاہے اور اگر یہ رُحجان جاری رہا تو سماج کا انتشار ہوجائے گا۔ حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ راباب اقتدار کس طرح کا نیابھارت چاہتے ہیں۔ وقت آگیاہے کہ سرکار ان وسیع مدعوں کو حل کرے جن کے چلتے لوگ جھوٹی خبروں پر بھروسہ کرلیتے ہیں ورنہ وہ دن دور نہیں جب بھیڑ کا مطلب بھڑکاؤ سماج ہوگا۔ تشدد کوکسی بھی شکل میںمناسب نہیں ٹھہرایا جاسکتاہے۔،لہذا جھوٹی خبروں اور نفرت بھری تقاریر پر فوراً پابندی لگائی جانی چاہئے ۔ہجومی تشدد میں بلا شبہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے مرکز میں دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد زبردست اضافہ ہوگیاہے۔اُترپردیش اوربہار سے اس سلسلہ میں انتہائی دردناک اور الم ناک اطلاعات موصول ہورہی ہیں جہاںمختلف بہانوں سے مسلمانوں اور دلتوں کوہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ افسو س کہ ابھی تک اس کو روکنے میں کوئی انسدادی اور تادیبی کاروائی عمل میں نہیںآئی اور نہ ہی اس سلسلہ میں کسی موثر قانونی کارروائی کا عندیہ ظاہر کیاجارہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھیڑ چال اور ہجومی تشدد کے خلاف  زبردست مہم چلائی جائے اور سرکار کو اس سلسلہ میں انسدادی قوانین بنانے پر مجبورکیاجائے۔