ہانجورہ کی صدارت میں ضلع ترقیاتی بورڈ راجوری کی میٹنگ

 راجوری//ضلع ترقیاتی بورڈ راجوری کی میٹنگ وزیر زراعت غلام نبی لون ہانجورہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مالی سال2018-19 کے لئے198.94 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دی گئی۔خوارک و سول سپلائیز اور قبائلی امور کے وزیر ذوالفقار علی، بھیڑ پالن کے وزیر عبدالغنی کوہلی، پہاڑی مشاورتی بورڈ کے وائس چیئرمین کلدیپ راج گپتا، وائس چیئرمین ریاستی مشاورتی بورڈ برائے بہبودی گوجر و بکروال گلزار کھٹانہ،ممبران قانون سازیہ رویندر رینہ، قمر حسین، وبودھ گپتا، سریندر چودھری اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔بورڈ نے سکولی محکمہ میں ہاتھ میں لئے گئے پروجیکٹوں کے مختلف پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کیا اور متعلقین پرزو ردیا کہ وہ سکول عمارتوں کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوںپر مکمل کریں۔اس موقعہ پر فیصلہ لیا گیا کہ محکمہ پشو پالن کی تین کنال اراضی صحت محکمہ کو دی جائے گی تا کہ سب ضلع ہسپتال سندر بنی کو وسعت دی جاسکے۔علاوہ ازیں محکمہ پولیس کی اراضی صحت محکمہ کو تفویض کی جائے گی تا کہ جموں۔ راجوری۔ پونچھ ہائی وے پر حادثات کے متاثرین کے لئے ٹراماہسپتال قائم کیا جاسکے۔منریگا کے تحت التواءمیں پڑی رقومات کے حوالے سے فیصلہ لیا گیا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری مخصوص شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دیں گے ۔میٹنگ میں پچھلی بورڈ میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی عمل آوری کے حوالے سے ہوئی کاروائی کا بھی جائیزہ لیا گیا۔چیئرمین نے متعلقین کو ہدایت دی کہ بورڈ میٹنگوں کے فیصلوں کو من و عن عملایا جانا چاہئے تا کہ بنیادی سطح پر لوگ مستفید ہوسکیں۔انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ فیصلوں کی عمل آوری میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور سے دُور کریں۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ضلع انتظامیہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ رواں مالی سال کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں۔چوہدری ذوالفقار علی نے کہا کہ موجودہ حکومت ریاست کو ترقی کی منزلوں تک لے جانے کے لئے وعدہ بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ضلع میں انتظامی عمل نچلی سطح پر پہنچانے کے لئے اے ڈی سی کی پانچ اسامیاں منظور کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانہ بدوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے طُلاب کو معیاری تعلیم سے روشناس کرانے کے لئے خاطر خواہ انتظامات کئے جارہے ہیں۔عبدالغنی کوہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت دور دراز علاقوں میں رپایشی پذیر لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مختلف سطحوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زو ردیا کہ وہ پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کے لئے تعمیراتی کاموں کی رفتار میں تیزی لائیں۔مقامی ارکان قانون سازیہ نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خاص طور سے تعلیم، صحت، بجلی، پانی، دیہی ترقی اور دیگر شعبوں میں بہتر سہولیات بہم رکھنے کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر شاہد اقبال چوہدری نے پچھلے مالی سال کی حصولیابیوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی دستیاب رقومات میں سے153.84 کروڑ روپے کا تصرف عمل میں لایا گیا اور لگ بھگ94 فیصد مالی حصولیابی درج کی گئی۔
 

سریندر چوہدری کا میٹنگ سے واک آﺅٹ 

سمت بھارگو
 
راجوری //حکمران جماعت پی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے ممبر قانون سا زکونسل سریندر چوہدری نے ایک کابینہ وزیر کی طرف سے تقریر مختصر کرنے کا کہنے پر ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگ راجوری سے احتجاجاًواک آﺅٹ کیا ۔ذرائع کے مطابق سریندر چوہدری ضلع بورڈ میٹنگ میں تقریر کررہے تھے جس دوران کابینہ وزیر و ممبراسمبلی درہال چوہدری ذوالفقار علی نے انہیں اپنی تقریر مختصر کرنے کا کہاجس پر ایم ایل سی نے میٹنگ سے ہی واک آﺅٹ کیا ۔یہ میٹنگ ڈاک بنگلہ راجوری کے میٹنگ ہال میں ہورہی تھی ۔ تاہم ان کے واک آﺅٹ کرنے کے ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر راجوری باہر چلے آئے اور انہوںنے ایم ایل سی کا غم و غصہ ٹھنڈا کرکے انہیں واپس بلایا جبکہ ایک کابینہ وزیر نے بھی بیچ میںمداخلت کی ۔بعد ازآں سریندر چوہدری میٹنگ میں شامل ہوگئے۔