ہاشم پورہ قتل عام معاملہ : پی اے سی کے تمام جوانوں کو عمر قید

 نئی دہلی (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو تقریباََ تین دہائی پرانے اترپردیش میں میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل عام میں نچلی عدالت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے پرووینشل آرمڈ کونسٹبلری (پی اے سی) کے تمام 16 جوانوں کو قصوروار قرار دیا اور انہیں عمرقید کی سزا سنائی۔جج ایس مرلی دھر اور جج ونود گوئل کی بنچ نے کہاکہ جوانوں نے نشانہ بناکر اقلیتی طبقہ کے پچاس لوگوں کو قتل کردیا تھا ۔ ان کے رشتہ داروں کو انصاف کے لئے 31برس تک انتظار کرنا پڑا۔بنچ نے عرضی کی سماعت کے بعد اغوا، قتل اور ثبوت مٹانے کی تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت تمام جوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے میرٹھ کے ہاشم پورہ میں 22مئی 1987کو ہوئے قتل عام میں ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر 2015میں تمام 19جوانوں کو بری کردیا تھا۔ ان میں سے تین کی موت ہوچکی ہے ۔اس معاملے کی 1996میں عازی آباد کی ایک عدالت میں فردجرم داخل کی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ستمبر 2002میں اس معاملے کو دہلی منتقل کردیا گیا۔اس کے بعد اترپردیش حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اقلیتی طبقہ نے الزام لگایا تھا کہ ذیلی عدالت کا حکم ریاستی حکومت کی ناکامی ہے ۔پی اے سی کے جوانوں نے ایک عبادت کے مقام کے نزدیک جمع اقلیتی طبقہ کے 500لوگوں کو اغوا کرلیا تھا۔ وہ انہیں نزدیکی نہر پر لے گئے اور باری باری سے گولی ماردی جس سے 42لوگوں کی موت ہوگئی۔قابل ذکر ہے کہ1986 میں مرکزی حکومت نے بابری مسجد کا تالا کھولنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد مغربی یوپی میں ماحول گرم ہوگیا۔ 14 اپریل 1987 سے میرٹھ میں مذہبی اشتعال پیدا ہوگیا۔ کئی لوگوں کا قتل کیا گیا تو کئی دوکانوں اورگھروں کو آگ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ قتل، آگ زنی اورلوٹ کی وارداتیں ہونے لگیں۔اس کے بعد بھی میرٹھ میں فسادات کی چنگاری نہیں ہوئی تھی۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے مئی کے ماہ میں میرٹھ شہرمیں کرفیو لگانا پڑا اورشہرمیں فوج کے جوانوں نے مورچہ سنبھالا۔ اسی درمیان 22 مئی 1987 کو پولیس، پی اے سی اورملٹری نے ہاشم پورہ محلے میں تلاشی مہم چلائی۔الزام ہے کہ جوانوں نے یہاں رہنے والے نوجوانوں اوربزرگوں سمیت 100 لوگوں کو ٹرکوں میں بھرکرپولیس لائن لے گئے۔ شام کے وقت پی اے سی کے جوانوں نے ایک ٹرک کو دہلی روڈ پرمراد نگرگنگ نہر پرلے گئے تھے۔ اس ٹرک میں تقریباً 50 لوگ تھے۔ وہاں ٹرک سے اتارکرجوانوں نے ایک ایک کرکے لوگوں کو گولی مارکرگنگ نہرمیں پھینک دیا۔ اس حادثہ میں تقریباً 8 لوگ صحیح سلامت بچ گئے تھے، جنہوں نے بعد میں تھانے پہنچ کر اس معاملے میں رپورٹ درج کرائی تھی۔