ہائی کورٹ احکامات کے باوجود مسلسل نظربندی عدالت عالیہ نے’’پریشان کن منظر نامہ‘‘ قرار دیا

بلال فرقانی

سرینگر//پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند شخص،جس کی’ پی ایس اے‘ کے تحت نظربندی کو گزشتہ برس منسوخ کیا گیا تھا،کی عدم رہائی کو ’’پریشان کن منظرنامہ‘‘ قرار دیتے ہوئے، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ، بارہمولہ کو عدالت کے سامنے ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ زیر حراست شخص کو بھی آئندہ ہفتہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔جسٹس راہل بھارتی پر مشتمل بنچ نے مشاہدہ کیا،’’اس رٹ پٹیشن کے ذریعے، عدالت کے سامنے ایک بہت ہی پریشان کن منظر پیش کیا گیا ہے جس کو قانون کی بالادستی کو کمزور کرنے کیلئے معمول کے مطابق نپٹنے کیلئے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

 

 

 

 

قانون حکمرانی کیلئے ہے اور ا س ملک پر قطع نظر کسی بھی جگہ یا علاقے پر حکمرانی کرتا ہے‘‘۔جسٹس بھارتی نے یہ ہدایات نظر بند شخص کے والد کے ذریعے دی گئی درخواست کی سماعت کے دوران دی۔ درخواست گزار نے عدالت کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی کہ گزشتہ سال اس کی احتیاطی طور پر نظربندی کو کالعدم قرار دینے کے باوجوددرخواست گزار جو غیر قانونی طور پر قید ہے،کورہانہیں کیاگیا۔ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے پتہ چلتا ہے کہ بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے جموں کشمیرپبلک سیفٹی ایکٹ 1978 مجریہ کی دفعہ 8 شق(a) کے تحت جاری کیے گئے احتیاطی نظر بندی کے حکم کو بغیر سوچے سمجھے کا فعل پایاگیاجس کے نتیجے میں، عدالت نے نظر بندی کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رٹ پٹیشن کے مدعا علیہان کو ہدایت کی کہ اگر کسی اور کیس میں ضرورت نہ ہو تو درخواست گزار کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔تاہم، رہائی کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، اور نظر بندی کے حکم کو منسوخ کرنے کے باوجود وہ سینٹرل جیل، آگرہ میں قید ہے۔

 

 

 

 

اس کی رہائی اور غلط قید کے لیے جاری غیر قانونی حراست کا معاوضہ مانگتے ہوئے، درخواست گزار اور اس کے والد نے اس رٹ پٹیشن کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا ہے۔کیس کی سنگینی اور آئین ہندکے آرٹیکل 21 کے تحت درخواست گزار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو تسلیم کرتے ہوئے، بنچ نے بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار کو اگلی سماعت کی تاریخ پر عدالت میں پیش کریں، جہاں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خود بھی ذاتی طور پر حاضر ہونا ضروری ہے۔عدالت نے اگلی سماعت 29 مئی 2023 مقرر کی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے اس کیس کی پیروی شفقت منظور اور شبیر احمد بٹ کر رہے تھے۔