ہائی سکول میں رجسٹریشن کے بعد کلاسیں دوسرے ادارے میں منتقل

مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے گور نمنٹ مڈل سکول ناڑ سلواہ کو کئی ماہ تک ہائی سکول بنائے رکھنے کے بعد 9ویں اور 10ویں جماعتیں دوسرے سکول میں منتقل کرنے کے فیصلے کے بعدوالدین و پنچایتی اراکین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ تعلیم بچوں کے مستقل کیساتھ کھلواڑ کررہا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ نے اخبارات میں شائع خبر کے بعد اعلیٰ حکام کو عمارت اور سکول کے کام و کاج کے سلسلہ میں غلط تفصیل فراہم کی ہے ۔علاقہ کے مقامی سرپنچ محمد یوسف جو کہ محکمہ تعلیم سے بطور لیکچرار سبکدوش بھی ہوئے ہیں ،نے بتایا کہ چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ کی جانب سے جاری کردہ ایک تحریر میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری سکول میں اس وقت 2کمرے قابل استعمال ہیں لیکن زمین سطح پر بچوں کے استعمال کیلئے کوئی بھی کمرہ موجود نہیں ہے ۔سرپنچ نے بتایا کہ 2009-10میں دو کمروں پر مشتمل عمارت کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی لیکن انتہائی غیر معیاری ساز و سامان استعمال کرنے کی وجہ سے لینٹر ڈالنے کیساتھ ہی ٹوٹ گیا تھا اور عمارت نا قابل استعمال بلکہ بچوں کیلئے خطرہ بن گئی جبکہ اس کا پلستر بھی نہیں کیا گیا ۔انہو ں نے بتایا کہ سکول کی پرانی عمارت 1977میں بنائی گئی تھی لیکن وہ بھی نا قابل استعمال تھی جبکہ نبارڈ کے زیر تحت 1کمرے کی تعمیر کو منظوری دی گئی جس کی تعمیر ہوئی لیکن پسی کی زد میں آنے کی وجہ سے اس کی ایک دیوار کو نقصان پہنچا تھا تاہم سکول کی مرمت کے سلسلہ میں زونل ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے 25ہزار روپے دئیے گئے اور سکول میں تعینات ملازمین نے کچھ رقم ڈال کر خستہ حال کمرے کی مرمت کروا ئی جو کو اب دفتر کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے لیکن بچوں کے بیٹھنے کیلئے کوئی بھی روم موقعہ پر موجود نہیں ہے تاہم متعلقہ محکمہ نے دو کمرے قابل استعمال ہونے کا دعوایٰ کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ متعلقہ شعبہ کی جانب سے 2019-20میں سکول کو ہائی سکول کا درجہ دیا گیا اور عمارت کی تعمیر کو بھی منظوری دی گئی جو کہ اس وقت زیر تعمیر ہے ۔مقامی سرپنچ نے بتایا کہ ہائی سکول بنائے جانے کے بعد 9ویں جماعت میں بورڈ کی جانب سے بچوں کو رجسٹریشن بھی کی گئی اور آر آر کارڈوں کیلئے فیس بھی جمع کرلی گئی تاہم اب مذکورہ بچے 10ویں جماعت میں پہنچے اور دوبارہ سے 9ویں جماعت میں رجسٹریشن کا موقعہ آیا تو محکمہ کی جانب سے کلاسوں کو نزدیکی ہائی سکول میں منتقل کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے جو کہ بچوں اور والدین کیساتھ بڑی نا انصافی ہے ۔پنچایتی اراکین و والدین نے محکمہ ایجوکیشن سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سکول کی اپ گریڈیشن نہیں ہوئی تھی تو بورڈ کی جانب سے بچوں کی رجسٹریشن اور فیس کیسے لی گئی ہے ۔انہوں نے محکمہ ایجوکیشن کے آفیسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے بچنے کیلئے بچوں کیساتھ کھلواڑ کررہے ہیں ۔والدین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس عمل میں ملوث ملازمین و آفیسران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔دوسری جانب چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ نے بتایا کہ مینڈھر سب ڈویژن میں ایسے 4سرکاری سکول میں جن کی اپ گریڈیشن کے سلسلہ میں اعلیٰ حکام کی جانب سے جواب موصول نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے قبول کرتے ہوئے کہاکہ سکول میں ہائی سکول کی کلاسیں بیٹھائی گئی تھی لیکن اعلیٰ حکام کے کوئی جواب موصول نہ ہونے کی وجہ سے کلاسوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔