ہائی سکول سنگیوٹ کی عمارت ہوکر بھی بے سود

مینڈھر//مینڈھر کے دور افتادہ علاقے سنگیوٹ میں واقع ہائی سکول کاحال انتہائی خراب ہے ۔سال 2014میں تعمیر ہونے والی سکول کی عمار ت سے پانی ٹپک رہاہے اور کئی سال گزرجانے کے بعد بھی اس عمارت کو محکمہ کے سپرد نہیں کیاگیا ۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ عمارت کو اس وقت تک محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں کیاگیا جس پر تحقیقات کروائی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اس میں غیر معیاری میٹریل کا استعمال کیاگیاہے جس کی وجہ سے چند سال بعد ہی اس سے پانی کے ٹپکنے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے ۔مقامی سرپنچ مختار خان نے محکمہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2014میں عمارت تعمیر کی گئی تھی لیکن اس کی حالت اس قدر خراب ہے پانی ٹپکتارہتاہے اور اس کاکوئی والی وارث ہی نہیں ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ یہ عمارت بچوں کے بیٹھنے کے قابل ہی نہیں اور لاکھوں روپے برباد کردیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ غیر معیاری میٹریل کا استعمال ہواہے جس سے یہ لگتاہے کہ یہ کئی سال پرانی عمارت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کی تحقیقات کروائی جائے اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔سرپنچ نے بتایاکہ سردیوں کے موسم میں بھی بچے باہر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جس سے ان کو بیمار ہونے کا خدشہ رہتاہے ۔انہوں نے کہاکہ فوری طور پر اس عمارت کو محکمہ کے سپرد کیاجائے تاکہ طلبا آرام سے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس عمارت کی مرمت نہیں کی گئی تو کوئی بڑا حادثہ رونماہوسکتاہے ۔رابطہ کرنے پر محکمہ کے ایک افسر نے بتایاکہ ابھی تک عمارت محکمہ کے سپرد نہیں کی گئی اور اس کاکام بھی ٹھیک ڈھنگ سے نہیںہوا۔