ہائی سکول ستی بنی کی عمارت تعمیرکے5ماہ بعدہی کھنڈرات میں تبدیل

کٹھوعہ // گورنمنٹ ہائی سکول ستی کی عمارت تعمیر ہوئے محض پانچ ماہ ہی گذرے ہیں لیکن عمارت کھنڈرات کامنظرپیش کررہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق بنی قصبہ سے لگ بھگ 16 کلومیٹر دور ستی گاؤں میں قائم سکول میں طلباء کو عمارت کے کمروں کے اندر بارش کے دوران پانی جمع ہوجاتا ہے،متبادل انتظام نہ ہونے کے سبب طلبہ کواسی ہال میں بیٹھناپڑتاہے جس کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس بارے میں سکولی طلباء نے بتایاکہ اسکول میں نہ ہی بیت الخلا ء ہے،نہ ہی کھیل کود کیلئے کھیل کا میدان اور ناہی اسکول میں بیٹھنے کے لئے کمروں کی سہولت ہے کیونکہ کمروں میں پانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسکول میں زیر تعلیم 350 کے قریب بچے ہیں اور اسکول کی عمارت صرف چھ کمروں پر مشتمل ہے جس میں ایک ہیڈ ماسٹر کاروم ہے بچوں کیلئے صرف پانچ کمرے ہیں ۔انہوں نے مزیدبتایاکہ اسکول کی پرانی عمارت کو توڑ کر پانچ ماہ قبل دو کمروں والی عمارت بن کرتیارہوئی تھی تو تب اسکول کے بچوں میں نئی عمارت بننے کے سبب خوشی کی لہر دوڑ پڑی تھی اوروہ بے حد خوش تھے لیکن ان بچوں کی خوشی محض پانچ مہینوں کے اندرہی ختم ہوگئی ہے ،کیونکہ یہ عمارت محض پانچ مہینوں کے دوران ہی اتنی زیادہ خستہ حالت ہوگئی ہے کہ اس کانظارہ کرنے سے یہ سکول نہیں کھنڈرہی دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ سکول عمارت کے کمروں کے اندر پانی ہی پانی جمع ہو جاتا ہے ، نہ جانے عمارت کو کس ڈھنگ سے تعمیر کیا گیا ہے ۔اس عمارت کے کمرے بارش کے دوران تالاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلبا ء کومشکلات جھیلناپڑرہی ہیں۔اس بارے میں کشمیرعظمیٰ کو مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے جے ای پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جے ای کی  غیر موجودگی میں عمارت تعمیر ہوئی ہے اوراس عمارت کی خستہ حالی کیلئے جے ای ذمہ دار ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جو بھی اس عمارت کی تعمیر کروانے میں قصور وار ہے اس کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ عمارت اسقدر خراب ہو گئی ہے کہ عمارت کبھی بھی حادثہ کاسبب بن سکتی ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتاہے تو اس میں ہونے والے جانی یامالی نقصان کیلئے تعمیرکرنے والامحکمہ ہوگا۔انہوں نے مزیدکہاکہ سابقہ ریاستی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ انتخابات سے قبل حکمران بڑے بڑے دعوے کرتے تھے لیکن جوں ہی اقتدار ملا تو سب کے وعدے بھول گئے ۔انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ ان علاقوں میں دورہ کرے تاکہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کا ازالہ کیا جائے ۔اس ضمن میں کشمیر عظمی کو تحصیلدار بنی سدیش کمار نے بتایا کہ اس معاملے میں ایس ڈی ایم بنینے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور انہوں نے بھی دورہ کر کے اسکول کی عمارت کی حالت تشویشناک  اور خستہ پائی ہے ۔انہوں نے کہاکہ عمارت کی تعمیرپرسات لاکھ روپے صرف ہونے کاتخمینہ ہے جس میں ابھی تک چارلاکھ روپے ہی خرچ کئے گئے ہیں۔