ہائی اسکول ساتھرہ میں طلباء کیلئے سہولیات کافقدان

 اساتذہ کی منظورشدہ19 اسامیوں پرصرف 10 ہی تعینات ،ان میں سے بھی دواٹیچ

 مینڈھر// مینڈھرکے مختلف تعلیمی زونوں میں بہت سے ایسے اسکول ہیں جن کی حالت نہایت ہی ناگفتہ بہ ہے جن میں ایک منکوٹ زون کا گورنمنٹ ہائی سکول ساگرہ بھی شامل ہے۔تفصیلات کے مطابق سکول ہذامیں چار سو کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں جن کی کلاسوں کیلئے صرف چھ کمرے ہیں جبکہ وہاں پر ملازمین کی 19 اسامیاں ہیں جن میں سے ابھی تک 9 خالی پڑی ہوئی ہیں اور دس ہی ٹیچراسکول میں تعینات  ہیں ۔اتناہی نہیں تعینات ٹیچروں میں سے بھی دو ٹیچردوسرے اسکولوں کے ساتھ اٹیچ ہیں جبکہ درجہ چہارم کا کوئی بھی ملازم گورنمنٹ ہائی اسکول ساگرہ میں تعینات نہیں ہے ۔طلباء کے والدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ د و مہینوں سے مڈ ڈے میل بھی بچوں کو نہیں دیا جا رہاہے ا س کی کیا وجہ ہے ہم اس کی انکوائری چاہتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لئے جو محکمہ کی طرف سے باتھ روم بنائے گئے تھے ان میں پانی کا کوئی بندو بست نہیں ہے جس سے بچوں کو کئی قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انھوں نے محکمہ تعلیم کے اعلی افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سکولوں کی طرف دھیان نہیں دیا جا رہا ہے اور اب سردیوں کا موسم ہے بچے باہر بیٹھ کر اپنی کلاسیں جاری نہیں رکھ سکتے لہذاا ن کے لئے مزید کمروں کا بندو بست کیا جائے تاکہ بچے سردیوں کے موسم میں بیمار نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لئے کھیل کامیدان بھی نہیں ہے ۔انہوں نے الزام لگایاکہ حکومت کی طرف سے کئے گئے تمام اعلانات کھوکھلے نظر آ رہے ہیں کیونکہ سرحدی علاقہ میں اگر بچوں کے لئے تعلیمی سہولیات دستیاب نہیں ہیں تو پھر عام جگہوں کی کیا حالت ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا مستقبل ضائع ہو رہا ہے کیونکہ چار سو بچوں کے لئے آٹھ اساتذہ ان کی تعلیم دینے کیلئے ناکافی ہیں اور ان میں سے بھی کئی اساتذہ کسی نہ کسی ڈیوٹی پر ہوتا ہے ۔کوئی بی ایل او کی ڈیوٹی دیتا ہے جبکہ کوئی کسی کام کیلئے دفتر بھی جاتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے ۔اس سلسلہ میں مقامی شخص حاجی فاروق ملک نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ سرحدپر بستے ہیں لیکن سرکار ہمارے بچوں کی طرف دھیان نہیں دے رہی ہے اور بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ چار سو بچوں کے لئے دس اساتذہ بہت کم ہیں جبکہ ان میں سے بھی دو غائب رہتے ہیں اور کچھ کسی دیگر ڈیوٹیوں پرہوتے ہیں اور دن بھر بہت ساری کلاسیں خالی بھی رہتی ہیں۔اس سلسلے میںایک آدمی نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو مہینوں سے بچوں کو مڈڈے میل نہیں ملا ہے اس لیے ہم اس کی انکوائری چاہتے ہیں ۔کیا وجہ ہے کہ محکمہ کے ملازمین مڈڈے میل کی طرف دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا کون ذمہ دار ہے کہ دو مہینوں سے بچوں مڈڈے میل نہیں دیا گیا،محکمہ اس کی انکوائری کروائے اور سکول کی بگڑتی ہوئی حالت کو سدھاراجائے تاکہ بچوں کا مستقبل تباہ نہ ہو۔