ہائر سیکنڈری سکول پاڈر میں 11تدریسی اسامیاں منظور،4 دستیاب،7خالی ۔10سال سے انگریزی ،باٹونی و زالوجی کے مضامین پڑھا ئے ہی نہیں جاتے،600سے زائد طلبہ کا مستقبل مخدوش

عاصف بٹ
کشتواڑ// سکولی تعلیم محکمہ کی تبادلہ مہم کے نتیجہ میں کشتواڑ کے سکولوںسے مدرسین کا تبادلہ عمل میں تو لایا گیا لیکن ان کے متبادل نہیں بھیجے گئے۔ چندروز قبل لیکچراروں کی ہوئی سالانہ ٹرانسفر میںہائر سیکنڈری سکول پاڈر سے پانچ لیکچراروں کا تبادلہ کیا گیا جسکے بدلے محض چار ہی لیکچرار فراہم کئے گئے ۔سب ڈویژن پاڈر کا سب سے بڑا تعلیمی مرکز جہاں 600سے زائد طلبہ اس وقت زیرتعلیم ہیں،کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے کیونکہ جہاں دو ماہ سے سکول میں پرنسپل کی اسامی خالی پڑی ہوئی ہے وہیں تدریسی عملہ کی7اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سکول میںلیکچراروںکی11منظور شدہ اسامیاں ہیں جن میں پہلے6اسامیاں خالی پڑی تھیں جبکہ ریاضی، فزیکس ، کیمسٹری، اقتصادیات و اردو کے مضامین پڑھائے جاتے تھے جبکہ انگریزی ،باٹونی ،زالوجی ، ہندی ،کامرس و ایجوکیشن کے مضامین کیلئے کوئی بھی تدریسی عملہ دستیاب نہیں تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دس سال سے انگریزی ،باٹونی و زالوجی کے مضامین سکول میں پڑھائے ہی نہیں جاتے ہیں۔سکولی طلبہ نے بتایا کہ کیمسٹری ، اقتصادیات ، فزیکس و اردو کے لیکچرار اگرچہ فراہم کئے گئے لیکن دیگر سات مضامین انگریزی ، باٹونی ،کامرس و ایجوکیشن کی خالی پڑی اسامیوں کے ساتھ ریاضی ،اقتصادیات، و اردو کے لیکچر ارکو بھی تبدیل کیاگیالیکن انکے بدلے کوئی دوسرا متبادل فراہم نہیں کیاگیاجسکے سبب ہماری تعلیم متاثر ہورہی ہے۔بارہویں جماعت کے طالب علم نے بتایا کہ جہاں ہمیں مزید اساتذہ فراہم کئے جانے چاہئے تھے وہیںسرکار نے پہلے سے دئے گئے اساتذہ کو بھی تبدیل کردیا جس کاسیدھا اثرانکی تعلیم پر ہورہاہے،انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ خالی پڑی اسامیوں کو بھی پرکیاجاتالیکن ایسا نہیں ہوا۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے کام کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہاں علاقے میں پہلے ہی تعلیمی معیار انتہائی خستہ ہے اور اسے بہتر کرنے کیلئے مثبت اقدام کر نے چاہئے تھے تاکہ غریب طلبہ بہتر تعلیم حاصل کرسکتے لیکن ایسانہ کرنے کے سبب انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوںنے کہا کہ انتظامیہ فوری طور اقدام کرے بصورت دیگر لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔