گیلانی کو 8سال بعد نماز جمعہ کی اجازت

سرینگر//  8 برسوں تک خانہ نظربندی کے بعد سید علی گیلانی کو کل نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔وہ اپنی رہائش گاہ حیدر پورہ سے باہر نکلے اور حیدر پورہ میں ہی نماز جمعہ اجتماعی طور پر ادا کی۔ اس موقعہ پر انکے ساتھ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی بھی تھے۔نماز جمعہ پر مختصر خطاب کے دوران حریت(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ اخبارات میں انہوں نے یہ خبر دیکھی’’میرواعظ عمر فاروق،محمد یاسین ملک اور گیلانی کو موقعہ دیا جا رہا ہے کہ وہ آزاد ہیں،اور جہاں چاہیں،جا سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں لیڈرشپ  پولیس بیان پر غور کرے گی۔انہوں نے کہا’’بے تاب ہونے کی ضرورت نہیں ہے،اس بیان پر غور کیا جائے گا اور آئندہ دنوں میں جواب دیا جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ8برس کے بعد انہیں اجتماعی طور پر نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔اتحاد پر زور دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ قوم میں اتحاد اور یکجہتی کامیابی کا نسخہ ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ قوم بھی اپنے صفوں میں اتحاد قائم رکھے۔ قرانی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے بزرگ مزاحمتی لیڈر نے کہا’’آپس میں نہ لڑو،بلکہ اتحاد قائم رکھو، آپسی لڑائی سے انتشار پیدا ہوتا ہے اور کمزوری آتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام1947سے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہی ہے،جبکہ ’’موجودہ جدوجہد مبنی برحق ہے،اور کشمیری عوام بھارت کا کوئی حصہ نہیں مانگ رہے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو حق خوداردایت کا موقعہ دیا جائے گا،تاہم اس وعدے کو عملی جامعہ نہیں پہنایاگیا۔جامع مسجد حیدر پورہ میں10منٹ تک جاری رہنے والے تقریر کے دوران سید علی گیلانی نے نوجوانوں کو ڈاکٹر اقبال کو پڑھنے اور پرکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کردار کو اسلامی سانچے میں رنگ دیں۔ اس سے قبل سید علی قریب ایک بجکر15منٹ پر گھر سے باہر آئے،اور حیدرپورہ جامع مسجد کی طرف رخ کیا۔ سید علی گیلانی کے گھر کے باہر اور صحن میں پہلے ہی بیسوں کارکن جمع تھے،جنہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔