گیلانی مزاحمتی تحریک کی علامت: حریت (گ)

 ہند نواز جماعتوں نے خصوصی دفعات کی بیخ کنی کی
سرینگر//حریت (گ) کے سینئر راہنماو¿ں حاجی غلام نبی سمجھی، زمرودہ حبیب اور غلام احمد گلزار نے مشترکہ بیان میں تنظیم کے چیئرمین سید علی گیلانی کو تحریک آزادی کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کے بے داغ کردار کو ہدف تنقید بنانا آسمان کو تھوکنے کے مترادف ہے۔ مذکورہ لیڈروں نے بھارت نواز سیاسی جماعتوں کی طرف سے دفعہ 370اور دفعہ 35-Aکی منسوخی کے خلاف چیخ وپکار اور ہاہا کار کو ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سبھی جماعتوں نے آئین ہند میں درج مذکورہ دفعات کو اپنے اپنے اقتدار میں کھوکھلا بنادیا ہے اور آج ایک بار پھر یہاں کے حریت پسند عوام کو فریب دے کر ایسا تاثر دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، گویا یہ جماعتیں کشمیر کی تحریکِ آزادی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جموں وکشمیر کی تحریکِ آزادی آئین ہند سے بالاتر ہے اور اس تحریک کے لیے پوری قوم نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAکی طرف سے حریت پسند راہنماو¿ں کی کردار کُشی کو سعی لاحاصل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی سرزمین پر اس ادارے کی اعتباریت زمین بوس ہوکر رہ گئی ہے اور یہاں کے عوام آزادی سے کم کسی بھی جبری حل کو تسلیم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے جس کے لیے آج حریت راہنماو¿ں کو گرفتار کرنے کے لیے NIAکو میدان میں اتار کر تہاڑ جیل کی کال کوٹھریوں میں منانے اور راضی کرنے کے لیے دباو¿ بڑھایا جارہا ہے۔