گیلانی تحریک حریت کی ذمہ داریوں سے دستبردار

 سرینگر// قریب 14برسوں کے بعد تحریک حریت کے تنظیمی ڈھانچے میں ڈرامائی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کر کے محمد اشرف صحرای کو عبوری چیئر مین مقرر کیا گیا ہے۔اس بات کا فیصلہ تحریک حریت کے مجلس شوریٰ اجلاس میں کیا گیا۔اس سے قبل شوریٰ سے خطاب کے دوران گیلانی نے رضاکارانہ طور پر چیئر مین کے عہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کی درخواست کر کے شوریٰ کو نئے چیئر مین کی تقرری کرنے کیلئے کہا۔بعد میں شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ محمد اشرف صحرائی تحریک حریت کے باضابطہ انتخابات ہونے تک بطور عبوری چیئرمین ذمہ داریاں نبھائیں گے۔یاد رہے کہ تحریک حریت کی بنیاد 7اگست 2004میں ڈالی گئی اور گیلانی اسکے چیئر مین اور صحرائی جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔مجلس شوریٰ اجلاس میں گیلانی نے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ آج کی نشست کن صبر آزما اور اعصاب شکن حالات میں منعقد ہورہی ہے۔ دشمنوں کی سازشوں کے ساتھ ساتھ اپنوں کی نادانیوں کی وجہ سے ہم ایک ایسے دوہرائے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمارے لیے اپنے بنیادی اہداف کے حصول کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک حریت کو جن مقاصد اور جس مشن کی آبیاری کے لیے معرض وجود میں لایا گیا ہے اور اس کے جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں نہ تو وہ نئے اور انجانے ہیں اور ناہی ان کے حصول کے لیے اپنایا ہوا راستہ غیر مانوس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاردار اور کٹھن ہونے کے باوصف ہم نے سوچ سمجھ کر یہ راستہ اختیار کیا ہے اس لیے اس راہ میں چھبنے والا ہر کانٹا ہمارے عزم اور استقلال کے لیے زیادہ مضبوطی اور استقامت کا باعث بن گیا۔گیلانی نے کہا کہ اپنے گھر میں 2010سے مسلسل نظربندی، تنظیمی امور اور کارکنوں کے ساتھ روابط سے معذوری کی وجہ سے تحریک حریت کی تنظیمی اور تحریکی ذمہ داریوں کا گراں قدر بوجھ اٹھانے کی سکت سے محرومی کا احساس شدّت سے محسوس کررہا ہوں۔ ملّت کی زیوں حالی اور عوام کے گوناں گوں مسائل بالعموم اور آزادی کے متوالوں اور تحریک کے بہی خواہوں کے مصائب بالخصوص مجھے ایک پل بھی چین سے نہیں رہنے دیتے۔ ان ناگفتہ بہہ حالات میں، میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کندھا ملاکر ان کے شانہ بشانہ شامل سفر رہنے میں اپنے لیے سعادت ہی نہیں اپنی ذمہ داری بھی سمجھتا ہوں، لیکن عملاً کوئی کام نہ کرنے کی حالت میں صرف عہدے سے چمٹے رہنے کو بھی میں اپنے منصب سے کوتاہ اندیشی سے ہی تعبیر کررہا ہوں۔ اس لیے بہت ہی سوچ وبچار اور ٹھنڈے دل ودماغ سے تمام صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں اپنی تنظیمی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوکر یہ امانت شوریٰ کے حوالے کردوں، تاکہ آپ لوگ اس پر باریک بینی سے غور وفکر کرکے آئندہ کے لیے کوئی متبادل انتظام کرسکیں، میں بحیثیت ایک رُکن زندگی کی آخری سانسوں تک شامل سفر رہوں گا۔
 
 

کون ہیں صحرائی ؟

بلال فرقانی
 
سرینگر//سید علی گیلانی کے دست راست اور دیرینہ ساتھی محمد اشرف صحرائی ایک سادہ طبیعت،نرم مزاج اور پر اثر گفتار کے مالک ہیں۔ شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کی خوبصورت وادی لولاب کے ٹکی پورہ علاقے میں محمد اشرف خان عرف صحرائی1944میں شمس الدین خان کے گھر میں تولد ہوئے۔ جانکار حلقوں کے مطابق محمد اشرف صحرائی کا خاندان پاکستانی خانوں سے ملتا ہے،اور انکے آبائو اجداد بہت پہلے کشمیر میں آباد ہوئے تھے۔صحرائی نے پرائمری سطح تک ٹکی پورہ لولاب میں ہی تعلیم حاصل کی،جبکہ بعد میں مزید تعلیم کیلئے سوگام ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔انہوں نے1959میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ محمد اشرف صحرائی کے ہم جماعتیوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہین اور با صلاحت طالب علم مگر شرمیلے قسم کے انسان تھے،اور مذہبی و سیاسی بحث مباحثوں میں بہت حد تک شرکت کرتے تھے۔ان کا ماننا ہے کہ اپنی ذہانت اور ہونہاری کے علاوہ اردو ،فارسی و عربی زبان پر مہارت رکھنے کی وجہ سے صحرائی کو اسکالر شپ بھی فراہم کی گئی تھی۔ محمد اشرف صحرائی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے’بی اے‘(اونرس) کی ڈگری حاصل کی،جبکہ اس کے علاوہ اردو زبان میں انہوں نے ادیب ماہرو ادیب کامل کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ صحرائی کے بردار بھی مذہبی اور سیاسی طور پر متحرک تھے،جبکہ ایک رکن جماعت تھا،کیونکہ جماعت اسلامی نے ٹکی پورہ میں اپنی بنیاد ڈال دی تھی،اور کسی اور نے نہیں بلکہ سید علی شاہ گیلانی نے جماعت کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے میں کافی عرق ریزی سے کام کیا تھا۔جماعت اسلامی کے ایک لیڈر نے بتایا کہ سید علی گیلانی کو بارہمولہ ضلع کا امیر مقرر کیا گیا تھا،اور وہ عام طور پر ٹکی پورہ لولاب کا بھی دورہ کرتے رہتے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ان ہی دوروں کے دوران سید علی گیلانی کی ملاقات محمد اشرف صحرائی سے ہوئی،جبکہ صحرائی، مولانا ابو اعلیٰ مودودیؒ کے لٹریچر پر سید علی گیلانی ،کی گہری نظر،اور انکے انداز بیان و تقاریرسے کافی متاثر ہوئے۔جماعت کے دیرینہ لیڈر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سید علی گیلانی کو بھی محمد اشرف صحرائی سے محبت ہوئی تھی کہ وہ انہیں پیا ر’’عشہ لالہ‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ صحرائی نے جب دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا تو انکی عمر17تھی اور اس وقت گیلانی قریب30سال کی عمر کے تھے اور سوپور حلقہ میں ناظم حلقہ کے عہدے پر فائز تھے۔جماعت کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے سید علی گیلانی نوجوانوں کو جماعت اسلامی کی دعوت دینے میں پیش پیش تھے اور اس دوران صحرائی کو بھی انکے برادر اکبر نے جماعت اسلامی اور سید علی گیلانی کے ساتھ منسلک ہونے پر تیار کیا۔ اس وقت تک محمد اشرف صحرائی مولانا مودودیؒ سے کافی متاثر ہوچکے تھے،اور انکے دل میں یہ بات گھر گئی کہ مولانا مودودی کو سمجھنے کیلئے سید علی گیلانی سے بہتر رہبر کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ صحرائی کے قریبی حلقوں کے مطابق انہوں نے1959 میں جماعت اسلامی میں شمولیت کی،اور تب سے لیکر گزشتہ60برسوں سے وہ ہر صورتحال میں سید علی گیلانی کا ساتھ دئے رہے ہیں۔ 1965میں پہلی مرتبہ محمد اشرف صحرائی کو حکومت مخالف سرگرمیوں میں اس وقت گرفتار کیا گیا،جب انکی عمر صرف22برس کی تھی،اور اس دوران انہیں سرینگر سینٹرل جیل میں6 ماہ تک نظر بند رکھا گیا۔ جیل میں انہوں نے کوثر نیازی کے’’ زریں گل‘‘ کا مطالہ بھی کیا۔صحرائی کے قریبی حلقوں کے مطابق سید علی گیلانی،صحرائی اور سیلو سوپور کے شاہ ولی محمد سرینگر سینٹرل جیل میں نظر بند تھے،اور نیازی کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد  انہوں نے ’’صحرائی‘‘ تحریر کیا۔  ان کا کہنا ہے کہ کم عمری میں محمد اشرف خان،جیل میں اپنے گھر اور والدین کی کمی محسوس کر رہے تھے،اس لئے انہوں نے لفظ صحرائی لکھا،جبکہ شاہ ولی محمد نے جب یہ لفظ دیکھا تو انہوں نے چلا کر کہا ’’صحرائی‘‘ اور سید علی گیلانی کو بھی دکھایا،اور اس دن کے بعد انہیں محمد اشرف صحرائی کا نام مل گیا۔صحرائی کے مداح انہیں گیلانی کی پرچھائی سمجھتے ہیں،جبکہ صحرائی بھی انہیں اپنا رہبر اور خود کو انکا  پیروکارسمجھتے ہیں۔صحرائی ادب،اور شاعری کے دیوانے ہیں،تاہم انکے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مصروفیت کی وجہ سے وہ بہت کم صفحہ قرطاس پر سیاہی بکھیرتے ہیں۔ ماضی میں صرائی کی بیشتر نظمیں اور تحاریر جماعت اسلامی کے اذان اور طلوع رسالوں میں چھپی ہیں۔ صحرائی کو نومبر1986میں جب ’آزادی کے حق میں آواز بلند کرنے‘کی پاداش میںجیل سے ایک سال کی نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا تو،صورتحال کافی تبدیل ہوچکی تھی،اور مسلم متحدہ محاز کا قیام عمل میں آچکا تھا۔1987کے انتخابات کا جب اعلان ہوا تو ،وہ اپنے گھر میںتھے۔گیلانی اور صحرائی کو اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت’راجیو،عبداللہ ایکارڑ‘ کے بعد رہا کیا گیا تھا،جبکہ انہیں غلام محمد شاہ کی حکومت نے نظر بند رکھا تھا۔ انہوں نے 1987کے الیکشن میں حلقہ انتخاب لولاب سے الیکشن میں شرکت کی،تاہم اسمبلی پہنچ نہ پائے۔ریاست میں1989کے بعد عسکریت شروع ہونے کے بعد انہیں کئی مرتبہ جیل جانا پڑا،جبکہ اسی عرصے میں انہیں جماعت اسلامی کے سیاسی شعبہ کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا۔2004میں انہوں نے اپنے دیرینہ ساتھی سید علی شاہ گیلانی کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر کے تحریک حریت کی داغ بیل ڈال دی۔اس دوران سید علی گیلانی اس کے چیئرمین اور محمد اشرف صحرائی جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔