گیلانی بدستور خانہ نظر بند، نماز جمعہ ادا کرنے سے روکا گیا

سرینگر// حریت (گ) چیئر مین سید علی گیلانی جو بدستور اپنے گھر میں نظربند ہیں کو  رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی نماز جمعہ کی ادائیگی سے محروم کیا گیا اور 2018میں ایک بار چھوڑ کر آزادی پسند رہنما کو اس اہم دینی فریضے سے زبردستی روکا گیا۔ ان کے علاوہ  تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی،حریت ترجمان غلام احمد گلزار، محمد یوسف نقاش اور محمد اشرف لایا کو بھی تھانوں اور گھروں میں نظربندکرکے ان کو بھی نماز جمعہ کی ادائیگی سے محروم کردیا گیا، جبکہ حکیم عبدالرشید کے علاوہ درجنوں رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے ڈالے گئے۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ کشمیر کے حوالے بات کرتے ہوئے حریت رہنما نے لوگوں سے اپیل کہ وہ بھارت کے وزیر اعظم کے کشمیر آمد پر پُرامن اور پروقار طور لالچوک کی طرف مارچ کریں ۔گیلانی نے کہا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ ملازمتوں، ڈیلی ویجریوں، اقتصادیات، پانی اور سڑکوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ میں 18؍قراردایں پاس کی جاچُکی ہیں ۔