گھر گھر پر یشانی،میدانوں میں ویرانی

انسانی جسم کی نشونما کے لئے ورزش کا راستہ اختیار کرنا بہترین عمل ہے۔اس سے جسم کے اعضائے رئیسہ مثبت حرکت میں رہتے ہیں۔ورزش کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور تفریحات سے انسان اپنے ذہنی دبائو کو شکست دے سکتا ہے۔ زندگی میں تفریحات کا بھی ایک مقام ہے ۔اس سے آدمی فرحت اور خوشی محسوس کرتا ہے۔تفریح کا ایک بڑا ذریعہ کھیل کود ہے۔ہرقوم کے اپنے مخصوص کھیل کود ہوتے ہیں۔اب تو بعض کھیل کود بین الاقومی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔بچوں کو کھیل کود سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔یہ ان کی عمر کا ایک فطری تقاضہ ہے۔لیکن اس میں شغف اور انہماک سے زندگی کے اعلی مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔اس لیے بہت لوگ کھیل کود کو پسند نہیں کرتے اور بچوں کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔بچے کو کھیل کود کا مناسب موقع ملنا چاہے۔اس سے اس کی صحت اور تندرستی پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ جو بچہ کھیل سے دور رہتا ہے یا دور رکھاجاتا ہے،اس کی صحیح نشونما نہیں ہوپاتی اور وہ کمزور صحت کے ساتھ میدان عمل میں آتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچہ بہت سی باتیں اپنے ہم عمروںکے ساتھ کھیل کود میں سیکھتا ہے۔اس میں صبر وضبط،نظم،ڈسپلن،جرات وہمت اور مسابقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔یہ چیز کسی اور ذریعہ سے مشکل ہی سے پیدا کی جاسکتی ہے۔اس کے برعکس انیسویں صدی میں سائنس نے موبائل فون کی ایجاد سے کھیل کو د کے تمام راستے بدل دیئے۔اب کھیل کے بڑے بڑے میدان خالی پڑے ہیں۔وہاں صرف اب خاموشی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
 یورپ سے آنے والا ایک دلفریت مگر انتہائی نارک شغل، جس نے ہماری نئی نسل سے تمام اچھے صفات چھین لیے، وہ موبائل فون اور موبائل فون کی گیمز بھی ہیں۔بظاہر یہ گیمزبڑی دلچسپ معلوم ہوتی ہیں مگر ان کی جو قباحتیں اور مضر اثرات معاشرے پر مرتب ہو رہی ہیں کوئی ذی حس انسان ان کا انکار نہیں کرسکتا ۔یہ گیمز آج کل بہت مقبول ہو رہی ہیں او ر اس کی مختلف شکلیں ہیں ۔ہر چھوٹا اور بڑا ان میں اس قدرمگن ہے گویا وہ پیدا ہی اس مشغلہ کی خاطر ہوا ہے۔اور خاص طور پر بچوں کی اس مصنوعی تفریح میں مشغولیت قابل تعجب ہی نہیں بلکہ قابل ماتم بنی ہے کہ انہوں نے مستقل ان کھیلوں کو تجارت کا پیشہ دے کر اپنے ہاتھوں اپنی قوم وملت کو بتاہ و برباد کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔جگہ جگہ نوجوانوں کی ٹولیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔پہلے ان گیمز کی طرف سرمایہ دار اور ان ہی کے بچے متوجہ ہوتے تھے مگر اب غریب طبقہ بھی بآسانی اس سے لطف اندور ہوسکتا ہے۔اور جدید ذہن مگر اپنے مستقبل سے ناواقف اور بالکل جاہل طبقہ اس کو دلفریب تفریح قرار دے رہا ہے۔اگر چہ اس میں شک نہیں کہ یہ دلچسپ ہے مگر یہ بھی خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ یہ مصنوعی گیمزکھیل آپ کی،آپ کے بچوں کی،آپ کے قوم وملت کے مستقبل والی زندگی کو بھی تباہ و برباد کرتی جارہی ہیں۔نیر قابل حیرت بات یہ بھی ہے کہ ہماری نوجوان لڑکیاں بھی اس میدان میں لڑکوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ میں نے اکثر طلبہ و طالبات کو گاڑی میں بھی موبائل گیمز میں مشغول ہوتے دیکھا ہے۔
تاہم ان گیمز کے جو مضر اثرات انسانی صحت پرپڑتے ہیں، وہ کافی تشوشناک ہیں۔مضر اثرات کی تفصیل لمبی چوڑی ہے اور پھر چونکہ ہم طوالت سے بھی گھبر ا رہے ہیں،اس لیے صرف خاص نقصانات مختصر سی صورت میں پیش کئے دیتے ہیں۔نگاہ کا کمزور ہونا،دن میں زیادہ تر وقت موبائل فون پر صرف کرنے سے آنکھیں کی بینائی متاثر ہوتی ہے جس سے آپ کو دیکھنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔آپ کی آنکھیں ہمیشہ بیماریوں میں مبتلا رہیں گی جس سے آپ نابینا بھی ہوسکتے ہیں۔دل ودماغ کا محض فضول اور لایعنی کاموں میں الجھ کر رہ جانا۔ان گیمز سے انسان کی تخلیقی قوت بھی متاثر ہوسکتی ہے جس کے سبب وہ مثبت سوچنے سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔با ر بار ان گیمز میں الجھ کر انسان کا دماغ تھک جاتا ہے ۔دماغ کی نسیں کئی بیماریوں میں گرفتار ہوتی ہیں۔زندگی کے قیمتی لمحات کو غیر ضروری کاموں پر ضائع کرنے کے افعال میں موبائل گیمز سر فہرست ہیں۔جووقت بچوں کو پڑھنے،سیکھنے ،لکھنے یا کوئی اچھا کام کرنے میں صرف کرنا تھا تاکہ ان کا مستقبل سنور سکے،وہ وقت ان کا موبائل گیمز میں صرف ہورہا ہے۔ 
اب جو درس تدریس کے نظام میں بھی تبدیلی لائی گئی ،اس کے سبب ہر بچے کو آسانی سے موبائل فون ملا۔ نیز آن لائن کلاسز سے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے وہ تمام بچے یہ قیمتی وقت موبائل گیمز پر صرف کرتے ہیں۔موبائل فون پر مار دھاڑوالے گیمزاور فلمیں دیکھنے والے بچوں کی نفسیات میں جارجیت رچ بس جاتی ہے۔انتہائی غورفکر پرمبنی تحقیقی رپوٹ کے مطابق موبائل فون پر گیمز کھیلنے والے بچوں کی نفسیات بھی مجروح ہوجاتی ہے۔محققین کا کہناہے کہ موبائل گیمز کھیلنے کے بعد مردوں اورعورتوں کے خیالات اور رویہ پر بھی تشد آمیزی غالب آجاتی ہے اور زیادہ دیر تک موبائل گیمز کی لت میں مبتلا لڑکے اور لڑکیاں تعلیمی میدان میں بھی اچھی کارکاردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔بعض ماہرین نفسیات نے ایسی گیمز پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں بچوں کے استحصال سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موبائل فون بحیثیت کھیل کا آلہ سمجھ کربچوں کو تحفے میں دے کرخوش ہونے والے والدین یقینا بچوں کے ساتھ کوئی اچھائی نہیں کر رہے ہیں۔اس سے بہتر ہے کہ والدین اپنے بچوں کو کھیل کے میدان میں لے جائیں جہاں وہ کرکٹ،فٹ بال ،ہاکی اور بھی کچھ کھیلیں کھیل سکتے ہیں۔یہ وہ کھیل ہیں جن میں پیسہ کا خرچ بہت کم ہے۔ان کھیلوں میں جسمانی ورزش بھی بہت اچھی ہوتی ہے اور کھیل میں شامل کھلاڑی بالعموم یکساں طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔ان کھیلوں میں گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ میں عمدہ تفریح ہوجاتی ہے اور زیادہ تر قیمتی وقت بھی ضائع نہیں ہوتا ہے اور بچے کو آپ آس پاس کے ماحول پر غوروفکر کرنے کا اچھا موقعہ بھی فراہم ہوگا۔
 پتہ۔رعناواری ،سرینگر کشمیر
 رابطہ۔[email protected]
 فون نمبر۔9103654553