گھر کے اندر داخل ہوکر خاتون کے بال کاٹنے کی کوشش

سرینگر //نوگام میں اس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب ایک خاتون کے بال کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ خاتون کی چیخ و پکار کے بعد 2افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نے دونوں کی گرفتاری عمل میں لائی ہے تاہم پولیس نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ روپوش افراد کی تلاش کر رہے ہیں اور ابھی تک کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے زبردادست احتجاج کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک سرینگر جموں شاہراہ پر دھرنا دیا جبکہ جلوس کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارچ کیا ۔حجام محلہ نوگام کی رہنے والی ایک خاتون سکینہ زوجہ محمد الطاف گھر میں بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی تو اس کے بال کاٹنے کی کوشش کی گئی ۔سکینہ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دو افراد جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے ،سنیچر کو اُن کے گھر میں داخل ہوئے اور اُس کے دو بچوں کو ایک کمرے میں بند کر دیا جس کے بعد میرے بال کاٹنے کی کوشش کی گئی تاہم میں نے چیخ وپکار کی جس کے بعد آس پاس کے مرد زن فوری طور پر وہاں جمع ہو ئے لیکن اس دوران دونوں افراد بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے‘‘۔واقعہ کے بعد علاقے میں مردو زن نے سرینگر جموں شاہراہ پر جمع ہوکر کئی گھنٹوں تک احتجاج کیا ۔مظاہرین نے اُس دوران پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس واقعہ رونما ہونے کے 2 منٹ بعد وہاں پہنچی گئی تھی اور انہوں نے ملزموں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ہے ،تاہم اب پولیس ایسے افراد کی گرفتاری سے انکار کر رہی ہے ۔مظاہرین نے اس دوران ’’بال کاٹنے والوں کو پیش کرو ‘‘، ’’ملزموں کو سزا دو‘‘ ، ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ کے فلک شگاف نعرے بھی بلند کئے۔ احتجاجی مظاہروں کے چلتے کچھ وقت تک جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک میں خلل پڑا ۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارچ کرنے کے علاوہ ٹیر گیس شلنگ کی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوئے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے جبکہ پولیس نے مجرموں کی تلاش کیلئے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔