گپکار الائنس نے حد بندی کمیشن کی رپورٹ کو ‘تقسیم انگیز’ قرار دیا/ آئندہ سال کے پہلے دن کشمیر میں احتجاج کرنے کا انتباہ

 
جموں//پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے جموں و کشمیر حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ سفارشات کو’تفرقہ انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس ڈرافٹ کے خلاف یکم جنوری کو سری نگر میں پر امن احتجاج درج کریں گے۔
الائنس کا ماننا ہے کہ حد بندی کمیشن کی یہ سفارشات کسی بھی طرح جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق میں نہیں ہیں بلکہ ان سفارشات کو آئینی ضوابط خاص طور پر مردم شماری کی بنیاد کو نظر انداز کرکے تیار کیا گیا ہے۔
ان باتوں کا اظہار الائنس کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے منگل کے روز پی اے جی ڈی کی یہاں ایک میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ’جموں وکشمیر حد بندی کمیشن کی جو ڈرافٹ سفارشات سامنے آئی ہیں وہ ہماری نظروں میں تفرقہ انگیز ہیں اور کسی بھی شکل میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کے حق میں نہیں ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ حد بندی کمیشن جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت بنایا گیا جس کو ہم نے عدالت عظمیٰ میں چلینج کیا تھا لہذا سرکار کو چاہئے تھا کہ انتظار کرتی۔
بتادیں کہ حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ سفارشات کے مطابق جموں و کشمیر کی نئی اسمبلی نشستوں میں چھ سیٹیں جموں کو جبکہ کشمیر کو ایک سیٹ دی گئی ہے اور جموں وکشمیر کی 90 اسمبلی نشستوں میں سے اب 9 نشستیں شیڈول ٹرائب اور7 نشستوں کو شیڈول کاسٹ کے لئے مختص رکھی گئی ہیں۔
موصوف ترجمان نے کہا کہ ہمیں یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسمبلی نشستوں کی سر نو حد بندی کے لئے بھی کسی آئینی ضابطے خاص طور پر مردم شماری کی بنیاد کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسے فیصلے لئے گئے تو ہمیں ڈر ہے کہ جموں و کشمیر میں بحرانی صورتحال مزید سنگین ہوگی اور لوگوں کے درمیان دوریاں مزید بڑھ جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم ان سفارشات کے خلاف یکم جنوری گیارہ بجے دن سری نگر میں پر امن احتجاج درج کریں گے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن لوگوں کے مفادات کے دفاع کے لئے ہم ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے‘۔
مسٹر تاریگامی نے کہا کہ بی جے پی سرکار ایک طرف جموں وکشمیر میں مین اسٹریمنگ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ایسے اقدام کرتی ہیں جن سے قومی وحدت کو نقصان پہنچنے کے خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا: ’ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب اور حسنین مسعودی صاحب نے حد بندی کمیشن کی دلی میں منعقدہ میٹنگ میں ہی کمیشن سے کہا کہ یہ سفارشات عوام کے مفادات میں نہیں ہیں اور ان سے جموں وکشمیر میں علاقائی سطح پر دوریاں مزید بڑھ جائیں گی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے ایسے فیصلوں سے جہاں لوگوں میں دوریاں مزید بڑھ جائیں گی وہیں ہم سب لوگوں کے دل ٹوٹ بھی جائیں گے۔
موصوف سی پی آئی (ایم) لیڈ نے کہا کہ پی اے جی ڈی کسی خاص خطے یا کمیونٹی کی طرفدار نہیں ہے بلکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام خطوں اور کمینٹیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جموں وکشمیر میں دراڑیں پیدا کرنے کے کسی بھی غیر آئینی طریقہ کار کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا: ’آج یہاں گجر آبادی اور پہاڑی بولنے والوں کو ہندو مسلم کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف لڑانے کی کوششیں کیا جا رہی ہیں اور ووٹ بٹورنے کے لئے تمام آئینی و اخلاقی حدود کو پار کیا جا رہا ہے‘۔
موصوف ترجمان نے کہا کہ حد بندی کمیشن کی سفارشات مجموعی طور پر ملک کے مفادات کے لئے ضرر رساں ثابت ہوں گی