گپکار اتحاد وزیر اعظم کی کل جماعتی میٹنگ سے مایوس، انتخابات سے قبل ریاستی درجے کی بحالی پر زور

سرینگر// پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ نے پیر کو کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ آل پارٹی میٹنگ سے مایوس ہے کیو نکہ مذکورہ میٹنگ کے بعد اعتماد سازی کے لئے مرکزی سرکار نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں۔
گپکار الائنس کے ترجمان یوسف تاریگامی نے ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کی کل شام کو منعقد ہوئی میٹنگ میں الائنس کے تمام ممبران نے شرکت کی جن میں صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ، نائب چیئرپرسن محبوبہ مفتی، ایم وائی تاریگامی، جسٹس (ر) حسنین مسعودی، جاوید مصطفیٰ میر اور مظفر احمد شاہ شامل تھے۔یہ میٹنگ فاروق کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔
پی اے جی ڈی ترجمان یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ تمام ممبران نے کل جماعتی اجلاس سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کی طرف سے اعتماد سازی کے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جیلوں سے سیاسی اور دوسرے قیدیوں کو رہا کرنا اور جموں و کشمیر میں دھونس دباو کے ماحول کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پی اے جی ڈی نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کے عوام پر” غیر آئینی اور ناقابل قبول تبدیلیوں“ کے خاتمے کیلئے مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں کو واپس لینے کے لئے پی اے جی ڈی کی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک کہ یہ غیر قانونی اور آئینی فیصلے واپس نہیں لئے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدو جہد آئین، قانون اور سیاسی دائرے کے اندر جاری رہے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں تک ریاستی درجہ کی بحالی کا تعلق ہے تو پارلیمنٹ میں بی جے پی نے وعدہ کیا ہے کہ یہ بحال کیا جائے گا اور مرکزی سرکار کو اپنے الفاظ کا احترام کرنا چاہئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انتخابات سے قبل ریاستی درجے کی بحالی کے لئے پی اے جی ڈی جموں و کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کرے گی۔