گوہلد میں مشکوک موت کا معاملہ قتل میں تبدیل | بہنوئی ہی قاتل نکلا ،پولیس نے گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی

مینڈھر //جموں وکشمیر پولیس نے مینڈھر سب ڈویژن کے گوہلد علاقہ میں ہوئی مشکوک موت کے معاملہ کو حل کرتے ہوئے نوجوان کے قاتل کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔ایس ڈی پی او مینڈھر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ رواں برس کے جون ماہ میں محمد شارک ولد محمد صدیق عمر 13برس کی مشکوک موت ہوئی تھی جس کے بعد لواحقین نے بغیر پوسٹ مارٹم کے آخری رسومات ادا کر دی گئی تھی لیکن اعلی حکام کے حکم کے بعد تحصیلدار اور جموں وکشمیر پولیس کی موجود گی میں نوجوان کی قبر کشائی کر کے جانچ کیلئے نمونے حاصل کئے گئے تھے تاہم تحقیقات کے دوران مشکوک موت کا معاملہ قتل میں تبدیل ہو گیا اور پولیس نے محمد قاسم ولد محمد صغیر نامی ملزم کو گرفتارکر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔غور طلب ہے کہ 8جون 2021کو مینڈھر کے گوہلد علاقہ میں ایک نوجوان کی لاش پانی کے ایک تالاب سے برآمد ہوئی تھی جبکہ اہل خانہ نے نوجوان کو مینڈھر ہسپتال منتقل کیا تھا جہاں پر ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دے دیا تھا اس کے بعد سوشل میڈیا پر مشکوک موت کے سلسلہ میں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اعلی ٰ حکام کی ہدایت پر نوجوان کی قبر کشائی کی گئی تھی جبکہ پولیس نے بھی تحقیقات شروع کر دی تھی جس کے دوران مذکورہ نوجوان کا بہنوئی ہی اس کا قاتل نکلا ۔ایس ڈی پی او مینڈھر نے بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مشکوک معاملات کے سلسلہ میں گھریلو پنچایتیں نہ کی جائیں جبکہ پولیس کو ایسے معاملات کی تحقیقات کرنے دی جائے تاکہ سچائی کو سامنے لانے کیساتھ ساتھ ملزمان کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جاسکے ۔