’’گوگل انٹرنیٹ ‘‘عوام کیلئے متبادل ڈاکٹر نہیں ہوسکتا

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر بیماریوں کا علاج نہ ڈھونڈیں کیوں کہ یہ ایک ایسی مشق ہے جس سے مریض کو فائدہ ملنے کے بجائے نقصان ہی پہنچ سکتا ہے اور بغیر مریض کو دیکھے سمجھے کسی مرض کا علاج ناممکن ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹر نثارالحسن نے لوگوں کومشورہ دیا ہے کہ وہ گوگل انٹرنیٹ پر امراض کی تشخیص تلاش کرنے کے بجائے متعلقہ ڈاکٹروں سے مشورہ کرلیں ۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ وادی کشمیر میں اب زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ سے جڑ رہے ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہے امراض کا علاج ڈھونڈرہے ہیں جو کہ ایک خطرناک عمل ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ Googleآپ کو ڈاکٹر کا متبادل فراہم نہیں کرسکتا ۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ بہت سے لوگ گوگل کو اپنامعالج تصور کررہے ہیں اور یہ رجحان دن بدن بڑھتا جارہا ہے جو کہ صحت کے حوالے سے ایک تشویشناک بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مریض کی نشانی دوسرے کسی مرض کی طرف اشارہ ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے سر میں درد ہے تو یہ مائیگرین یا سائنو سائٹ بھی ہوسکتا ہے اور گوگل کے ذریعے سر درد کے علاج سے برین ٹیومر بھی ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چھاتی کے درد کو ’’گوگل ‘‘ڈاکٹر بدہضمی بھی ظاہر کرسکتا ہے جبکہ یہ چھاتی کا درد دل کا دورہ پڑنے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے ۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ’’فزکومسٹک‘‘نفسیاتی امراض بھی ایک خطرناک بیماری ہے جس کا گوگل ڈاکٹر جسمانی مرض جان کر ادویات تفویض کرسکتا ہے جبکہ نفسیاتی امراض میں جسم پر نشانیاں ذہنی امراض کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور اس طرح کے مریضوں کو اگر وقت پر مرض کی علاج نہیں کیا گیا تو وہ کوئی خطرناک مسئلہ پیداکرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امراض کا غلط علاج اور غلط ادویات لینے کی وجہ سے لوگوںکو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچاسکتا ہے اور اس سے مریض اور زیادہ بیمار پڑسکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ سمارٹ فون اور کمپوٹر آپ کو ڈاکٹر کا متبادل فراہم نہیں کرسکتا ۔ ڈاکٹر مریض کو علاج کے دوران صرف ادویات تفویض نہیں کرتا بلکہ مریض سے کئی طرح کے سوالات بھی پوچھتا ہے ۔ مختلف ٹیسٹ کرواتا ہے تشخٰص امراض کیلئے اس مریض کا نبض اپنے ہاتھوں سے دیکھتا ہے ۔ ہاتھوں سے جسم کے اجزاء کی حرکت محسوس کرتا ہے جس کے بعد ہی مریض کیلئے کوئی دوائی تفویض کرتا ہے اور یہ سب چیزیں گوگل ڈاکٹر نہیں کرسکتا ۔ انہوںنے کہا کہ ٹیکنالوجی ہمیں بہتر معالج فراہم نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہوتا ہے اور ایک انسان انسان کو چھوکر ہی اس کے مرض کو جانچ سکتا ہے اور سائنس میں یہ جذبات پیدا نہیں ہوسکتے ۔