گوٹلی باغ اور ملحقہ علاقوں میں احتجاج | پرانے وائل پل کو موجود رکھنے کا مطالبہ

راجا ارشاد احمد

گاندربل//سال 1992 ستمبر کے مہینے میں نالہ سندھ میں سیلاب آنے کے نتیجے میں وائل کے مقام پر لکڑی کا بنا ہوا پل پانی کے تیز بہاو میں بہہ گیا تھا اورتین سال کے طویل عرصے کے بعد 1995 میں وائل کے مقام پر لوہے کا بنا ہوا بیلی پل تعمیر کرکے یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا جس پر 30 سال سے زائد عرصہ تک یکطرفہ ٹریفک رواں رہا۔ جون 2023 میں ورلڈ بینک کی جانب سے مالی معاونت کے بعد جموں کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا پل تعمیر کرکے 30 سال بعد دو طرفہ ٹریفک کیلئے عوام کے نام وقف کردیا گیاجس کے ساتھ ہی عوام نے گھنٹوں ٹریفک جام سے راحت محسوس کی۔ پچھلے ایک سال سے پرانے بیلی پل کو گوٹلی باغ کی مقامی آبادی عبور و مرور کیلئے استعمال کررہی تھی۔ ہفتہ کے روز محکمہ تعمیرات عامہ نے پرانے بیلی پل کو اکھاڑنے کا کام شروع کردیا جس کے نتیجے میں گوٹلی باغ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہیڈر میدان، چھانہار، بابا وائل اورعثمان آباد سمیت درجنوں افراد نے پل پر آکر احتجاج کیا۔ احتجاج میں شامل افراد کے مطابق ہم اور ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے منیگام اور کنگن جانے کیلئے اسی بیلی پل کا استعمال کرتے ہیں۔ جب امرناتھ یاترا، لداخ کرگل اور سیاحتی مقام سونمرگ کی وجہ سے نئے بنے پل پر ٹریفک کا زبردست دباؤ رہتا ہے ایسے میں پرانے بیلی پل کو متبادل آمدورفت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوںنے مطالبہ کیا کہ اس بیلی پل کو نہ اکھاڑا جائے۔ اس موقع پر سابق اسمبلی ممبر گاندربل اشفاق جبار، چیئرپرسن ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل نذہت اشفاق نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے دھرنا دیا جس کے بعد پل اکھاڑنے کا کام بند کردیا گیا ۔