گول ہسپتال کی 23کنال ارضی کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا

گول//گول ہسپتال کی اراضی مبینہ طور23کنال سے سکڑ کر صرف تین کنال رہ گئی ہے جس پر عوام انگشت بدندان ہیں۔ جہاں تک گول ہسپتال کی اراضی کا تعلق ہے تو اہلیان گول کے مطابق ہسپتال کی کل اراضی تقریباً23کنال ہے جو اْس وقت ہسپتال کیلئے دی گئی تھی لیکن آج کے منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو گول ہسپتال کی عمارت زیادہ سے زیادہ تین کنا ل میں ہوگی اور سڑک کی زد میں بھی زائد از دو کنال اراضی آئی ہوگی۔ اس کے علاوہ ہسپتال کی جو بچی اراضی ہے اْس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں گئی، کیا زمین کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟۔مقامی آبادی کے مطابق یا تو محکمہ کے پاس کوئی اراضی کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے یا پھربقیہ اراضی محکمہ کی ملی بھگت کے باعث ناجائز قبضے میں ہے اور محکمہ خود شریک ِ جرم ہے۔ ہسپتال اراضی سے متعلق گو ل کے کچھ سیاسی لیڈران سے پوچھا گیا تو اْنھوں نے کہا کہ ہسپتال کی جتنی بھی اراضی ہے متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ریکارڈ منظر عام پر لائے اور اگر ریکارڈ کے مطابق ہسپتال کی اراضی پرکسی کا ناجائز قبضہ ہے اْسے فوری طور ہٹایا جانا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر کلدیپ راج دوبے المعروف منگو شاہ کو جب اِس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو فوری طوراِس اہم مسئلے پر ایکشن لینا چاہیے اور ہسپتال اراضی پراگر کسی کا ناجائز قصبہ ہے اْسے فوری طور ہٹاکر اراضی حاصل کی جائے۔انھوں نے چیف میڈیکل آفیسر رام بن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملہ کو سنجیدگی سے دیکھیں اور ہسپتال اراضی کو جلد از جلد اپنے قبضے میں لیں، انھوں نے ایس ڈی ایم گول سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اِ س حساس معاملے پر ذاتی توجہ دیکر ہسپتال اراضی سے متعلق لوگوں کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ادھر کانگریس لیڈر گلزار احمد وانی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال اراضی کا کوئی ریکارڈ نہ ہونا ہی محکمہ کیلئے باعث ِ شرمندگی ہے۔انھوں نے کہا کہ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی اگر محکمہ کے پاس اراضی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ محکمہ ہی کسی کی اراضی پر ناجائز طور قابض ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر محکمہ ہسپتال اراضی کا ریکارڈ منظر عام پر لانے میں لیت و لیل سے کام کیوں لے رہا ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ ہم بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اِس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔وانی کا مزید کہنا تھا ہم آج بھی ہسپتال کیلئے مزید اراضی دینے کیلئے تیار ہیں جس کے ہم وعدہ بند ہیں لیکن محکمہ کو پہلی والی اراضی کا ریکارڈ بھی سامنے لانا چاہیے، انھوں نے کہا کہ اگر سرکاری محکمہ جات کے ریکارڈ کی حالت یہ ہے تو پھر عوامی مسائل کب اور کیسے حل ہونگے،یہاں تو سرکاری محکموں کو اپنے ہی مسائل حل نہیں ہوتے تو اِن سرکاری اداروں میں عوامی مسائل کا ازالہ کب ہوگا۔مزید ڈی ڈی سی ممبرگول سخی محمد نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہ انتظامیہ کو اِس حساس مسئلے پر فوری ایکشن لینا چاہیے جہاں کہیں بھی کوئی قصور وار پایا جائے اْس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔سخی محمد کا مزید کہنا تھا کہ اِس طرح کے معاملات پر خاموشی اپنائے رکھناانتہائی افسوسناک ہے ،لہٰذا انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کو خاموشی توڑتے ہوئے تمام عوامی خدشات کو دور کرنے کیلئے اراضی سے متعلق ریکارڈ سامنے لانا چاہیے تاکہ آئندہ کیلئے کوئی لائحہ عمل طے ہو سکے۔