گول میں پی ایم جی ایس وائی کی نئی تکنیک

گول//جہاں اک طرف سے مرکزی سرکار ہر گاﺅں کو سڑک رابطہ کے ساتھ جوڑنے کے لئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے وہیں زمینی سطح پر محکمہ کی نا قص کار کردگی سے عوام کافی پریشان ہے ۔ محکمہ پہلے سالہا سال سڑکوں کو صرف کٹائی کر رکھتی ہے جس وجہ سے زمینداروں کو کافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے وہیں ان سڑکوں کو آخری مرحلے تک لے جانے کے لئے محکمہ پی ایم جی ایس وائی ناقص تکنیک کا استعمال کر رہا ہے جس وجہ سے لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ سنگلدان ٹھٹھارکہ پی ایم جی ایس وائی روڈ پر محکمہ پی ایم جی ایس وائی پر لوگ اُس وقت برہم ہوئے جب محکمہ نے نکاسی آب کے لئے بیت الخلاءمیں استعمال ہونے والی پلاسٹک کی پائپوں کا استعمال کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ خزانہ عامرہ کو لوٹنے میں کس طرح سے مصروف ہے ۔ اگر چہ سرکار اور گورنر انتظامیہ یہ دعویٰ کر رہی ہےں کہ ہر گاﺅں کو سڑک رابطہ کے ساتھ جوڑا جائے گا اور سڑکوں میں بہتر میٹریل اور نئی قسم کی تکنیک اور بہتر انجینئرنگ کا استعمال ہو رہا ہے لیکن جب لوگوں نے خو د زمینی سطح پر محکمہ کے انجینئروں کی ناقص کار کردگی دیکھی تو عام لوگ بھی حیران ہو گیا آخر کار یہ پی ایم جی ایس وائی کیا کرنا چاہتے ہیں ۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے مشتاق احمد ، مجید احمد و دوسرے لوگوں نے کہا کہ سرنڈا کے مقام پر جہاں کافی عرصہ سے یہ سڑک خراب ہے اور یہاں ہمیشہ پانی رہتا ہے اور بارشوں کے دوران بھی کافی زیادہ پانی کا بھاﺅ ہوتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ محکمہ جہاں بڑی بڑی سیمنٹ کی پائپیں لگتی ہیں جس سے آبِ نکاس بہتر ہے اُس جگہ پر محکمہ بیت الخلاءکی پلاسٹک کی پائپیں استعمال میں لے رہا ہے ۔انہوںنے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایم جی ایس وائی کی اس ناقص کار کردگی کے خلاف سخت سی سخت کاروائی ہونی چاہئے تا کہ خزانہ عامرہ کو اس طرح لوٹا نہ جا سکے ۔