گول میں شدید بارشیں ،ندی نالوں میں طغیانی

گول// گول و ملحقہ جات میں شدید بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی کی سی صورتحال بنی جس وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ۔ گزشتہ دوروز سے وقفے وقفے سے شدید بارشوں کی وجہ سے سڑکیںزیر آب آئیں ۔ سڑکوں میں آبِ نکاس کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے رہاےشی مکانات اور زرعی اراضی میں پانی جانے کی وجہ سے لوگوں کو کافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ۔ گول میں گول سلبلہ ، بائی پاس پرتمولہ و دیگرسڑکوں میں نالیوں کی خستہ حالت کی وجہ سے تمام پانی سڑکوں پر رواں دواں رہا جس وجہ سے جہاں لوگوں کو پیدل چلنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری جانب یہ سارا پانی لوگوں کی زرعی اراضی اور رہائشی مکانات میں گیا جس وجہ سے لوگوں کو نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ۔ اسی طرح کی صورتحال سنگلدان میں بھی رہی ۔ گول اور سنگلدان کے بازاروں میں آبِ نکاس کی حالت نہایت ہی ابتر ہے اور تمام گندگی نالیوں میں جمع ہونے کی وجہ سے بارشوں سے یہ گندگی سڑکوں پر آئی اور راہگیروں کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو بھی شدید پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ اگرچہ انتظامیہ ، ڈی ڈی سی ممبران ، پنچایتی نمائندگان و محکمہ جات ہر وقت لوگوں کو یقین دہانی کراتے آئے کہ نالیوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے گا لیکن زمینی سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے جا رہے ہیں ۔حال ہی میں ایس ڈی ایم گول کی ہدایت پر محکمہ تعمیرات عامہ نے دکھاوے کے لئے گول سلبلہ روڈ پر دوتین مزدور نالیوں میں گندگی نکالنے کے لئے لگائے تھے جنہوں نے پورے دو کلو میٹر ایک دو دن کے اندر بیلچہ پھیر دیا اور تمام گندگی نالی کے ایک طرف رکھ دی اور دوسرے دن تمام گندگی اور مٹی واپس نالیوں میں گئی اور پوری نالیوں کو صاف نہیں کیاگیا جہاں آسان لگا وہیں مزدوروں نے نالیوں کو صاف کیا اور محکمہ کے کسی بھی ملازم یا آفیسر نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ اگر چہ دوروز قبل اے ای ای پی ڈبلیو ڈی اور جے ای سے گزارش کی تھی کہ سڑکوں کی نالیوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے جو اس میں گندگی اور مٹی جمع ہے اور جہاں پر نالیوں کافی ٹوٹی ہوئی ہیں ان کو ٹھیک کیا جائے تا کہ بارشوں کا پانی سڑکوں میں نہ آ جائے اور لوگوں کو نقصان نہ ہو لیکن جیسے اُن کو ”صم بکم امین “کی دعا پڑی ہوئی تھی اور لوگوں کی فریاد کا اُن پر کوئی اثر نہیں پڑا اور چل پڑے جس پر لوگوں میں کافی تشویش پائی گئی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ تعمیرات عامہ اور انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ کاغذی گھوڑے دوڑانے سے گریز کریں اور زمینی سطح پر صورتحال کی طرف توجہ دیں اور لوگوں کی پریشانیوں کا اذالہ کریں ۔