گول میں سب ڈویژن میں سرکاری ایمبولینس میں تیل کی شدید قلت

گول//”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی “۔کیا تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے سرکاری ایمبو لینس میں تیل کی شدید قلت پائی جا رہا ہے یا اس کے پیچھے کوئی دوسرا کار فرما ہو سکتا ہے ۔ گول سب ڈویژن میں ہمیشہ اس طرح کی شکایات آ رہی ہیں کہ محکمہ سے جب بھی بات کی جاتی ہے تو وہاں سے تیل کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے وہیں دوسری طرف108نمبر پر کام کرنا فضول ہے کیونکہ اس پر کوئی کال اُٹھاتا ہی نہیں ہے ۔ ان باتوں کا اظہار سنگلدان میں زچہ گی میں مبتلا خواتین کے ساتھ آئے ہوئے رشتہ داروں نے کیا ۔ شائستہ بیگم زوجہ محمد آصف ساکنہ ٹھٹھارکہ اور ارشاد حسین کی بیوی جو کہ داڑم سے آئے ہوئے تھے نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے یہ واقعات سنگلدان پی ایچ سی میں لوگوں کو ہمیشہ آتے ہیں بالخصوص زچہ گی میں مبتلا خواتین کے ساتھ محکمہ ہمیشہ ناروا سلوک کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ یہاں پر ڈاکٹر گھر سے ہی چپراسی کو ٹیلیفون کے ذرےعے ریفر کی پرچی دینے کا حکم کرتا ہے اور مریض کو بناءدیکھے یہاں سے ریفر کیا جاتا ہے ۔ یہ الگ الگ دوقعات ہوئے ۔ دوروز قبل داڑم سے آئے لوگوں کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا اور اُس کے بعد کل ایک اور واقعہ ٹھٹھارکہ سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ پیش آیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب 108پر کال کی تو وہاں کوئی فون نہیں اُٹھاتا ہے تو جب محکمہ سے بات کی جاتی ہے تو محکمہ کوئی جواب نہیں دیتا جبکہ ہسپتال سے ریفر کی پرچی ہاتھ میں تھما دیتے ہیں اور وہاں سے باہر جانے کو کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ درد زہ میں مبتلا خاتون کو سڑک کے بر لب پڑی تھی اور محکمہ کو کوئی ترس نہیں آیا جب بی ایم او گول سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جیب سے پیسے ڈالو اور تیل لاﺅ پھر ایمبو لینس جائے گی ورنہ کوئی نجی گاڑی کا بندو بست کرو ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار بڑے بڑے دعوی کر رہا ہے تو زمینی سطح پر محکمہ کی حالت کو کیوں نہیں سدھار رہا ہے اور محکمہ بالخصوص خواتین کو زچہ گی میں کافی سہولیات کا اعلان کرتا ہے لیکن یہ اعلان صرف ٹیلی ویژنوں ، ریڈیو اسٹیشنوں ، وزیر اعظم کے من کی بات تک ہی محدود ہوتے ہیں زمینی سطح پر ہر جگہ اس طرح کی سہولیات ندارد ہیں ۔ لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ محکمہ کی اس طرح لا پروائی سے کسی کی بھی جان جا سکتی ہے اس طرح کے لا پرواہ آفیسران کے خلاف کاروائی کی جائے تا کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔