گول میں ترقیاتی پروجیکٹوں کی تعمیرسست روی کا شکار کالج پر تعمیری کام کچھوے کی رفتار سے جاری ، کام ایک سال سے مکمل طورپرٹھپ

زاہد بشیر

گول//جہاں ایک طرف سے مرکزی سرکارتعلیم کوگھرگھرپہنچانے اورتعلیم کے لحاظ سے ہرمسئلے کوجلدازجلدحل کرنے کادعویٰ کررہی ہے وہیں یوٹی جموںوکشمیرمیں تعلیمی ڈھانچوں کی حالت نہایت ہی ابتر ہے اورنئی تعمیرپررقم دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بریک لگ گئی ہے۔ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول میں قریباً ۵سال قبل ڈگری کالج کی عمارت پر تعمیری کام شروع ہوا تھالیکن آج تک اس کی تعمیرمکمل نہیں ہو پا رہی ہے ۔اگر چہ اس کے بعد یہاں ڈگری کالج کے ساتھ میں ایک کنٹین ، دو بیت الخلائوں کی تعمیر مکمل بھی ہو چکی ہے لیکن ڈگری کالج کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔ کروڑوں روپے خرچنے کے با وجود یہ عمارت ایک کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ڈگری کالج میںزیر تعلیم بچے آئی ٹی آئی گول کی عمارت کے ایک دوکمرے میں اپنی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ان ہی ایک دو کمروں میں ڈگری کالج کا سازوسامان بھی ہے اور کالج کے دیگرکام بھی ان ہی دوکمروںمیں چلتے ہیں جس وجہ سے بچوں کی پڑھائی پر کافی زیادہ منفی اثر پڑ رہا ہے۔ گول کے موئلہ علاقہ میں قریباً۵سال قبل ڈگری کالج کی عمارت پرتعمیری کام شروع ہوا تھا جس کا تخمینہ چار کروڑکے قریب تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس رقم میں بھی بدلائو آ گیا۔اْس وقت کے وزیرتعلیم نعیم اختر نے بھی ڈگری کالج کاجائزہ لیا تھا اوراس دوران انہوں نے اس کی تعمیرمیں کچھ بدلائولایا تھا جس وجہ سے اس کی لاگت میںبھی اضافہ ہو گیا اور آج اس کی لاگت11کروڑ سے زیادہ تک ہو گئی ہے اور اتنی رقم محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پاس موجود نہیںہے۔

 

اس کالج کی تعمیرمحکمہ تعمیرات عامہ کے زیر نگرانی ہو رہا تھا۔ڈگری کالج جہاںپراس وقت موجود ہے یہاںپرطلباء کے ساتھ ساتھ عملہ کوبھی شدیدپریشانیوںسے دوچارہوناپڑرہاہے۔ عبدالرحیم ، محمد شفیع ، عبدالطیف و دیگر معزز شہریوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی اُمید تھی کہ جس طرح سے ملک کے وزیر اعظم اور جموںو کشمیر کے لفٹنٹ گورنر جموںو کشمیر یوٹی میں دفعہ370کے ہٹنے کے بعد تعمیر و ترقی کی باتیں کر رہے ہیں لیکن زمینی سطح کی صورتحال اس کے بر عکس ہے ۔ اگر ہم صرف ایک سب ڈویژن گول کی بات کریں تو یہاں پر کچھ ایسے بھی بڑے بڑے کام ہیں جو گزشتہ بیس برسوں سے زیر تعمیر ہیں لیکن ابھی تک پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری کالج عمارت کی یہاں پر کافی شدت سے کمی محسوس ہو رہی ہے اور اس وقت جو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ آئی ٹی آئی کی عمارت میں پڑھائی کر رہے ہیں جہاں پر آئی ٹی آئی کے بچے بھی ہیں جس وجہ سے پڑھائی میں کافی منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے سہولیات کا ہونا لازمی ہے لیکن یہاں پر بچے صرف ایک کمرے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ڈگری کالج کی عمارت پر کافی بہت ہی زیادہ سست رفتاری سے چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ٹھیکیدار اس پر کام کر رہا ہے وہ دو سال سے غائب ہے پچھلے سال دو یا تین دن تھوڑا کام کیا تھا اور اُس کے بعد یہاں کوئی نہیں آئی ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ڈگری کالج گول کی تعمیر کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے تا کہ جو بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ سکول سے تعلیم حاصل کر سکیں اور انہیں پڑھائی میں کس قسم کی دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت کروڑوں کی عمارت کھنڈرات کی شکل اختیار کر رہی ہے اور یہاں پریہ مال مویشیوں اور اوباشوں ور چرسیوں کامسکن بنا ہوا ہے جس پر مقامی لوگوں میں بھی کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔