گول میں اپنی پارٹی کا اجلاس

گول//گول میں جمعہ کوجموں و کشمیر اپنی پارٹی کی جانب سے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ضلع صدر اپنی پارٹی الطاف احمد لون نے کی ۔ ا س موقع پر پارٹی کے دیگر عہدیداران و ورکران بھی موجود تھے ۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہاں پر کچھ خدشات پیدا ہوئے تھے جس کے پیش نظر آج ہم نے سب ڈویژن گول میں پارٹی کار کنان کی ایک میٹنگ بلائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ اٹھارہ سالوں سے ایک لیڈر شپ کے ساتھ کھڑے ہیں اگر گول بانہال اسمبلی حلقہ بنے گا اور ہمارا لیڈر اعجاز احمد خان یہاں سے ہی انتخاب لڑے گا ۔ حد بندی کمیشن کی رپورٹ پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے بلکہ پورے جموںوکشمیر کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور کمیشن کی رپورٹ جغرافیائی لحاظ سے بھی کسی بھی جگہ میل نہیں کھاتی ۔ اور جو کچھ بھاجپا کر رہی ہے یہ ہندو مسلم آبادی کو الگ کرنے کی بات کر رہی ہے جو نا ہی یہاں کے ہندووں کو پسند ہے اور نا ہی یہاں کی مسلم آبادی اس چال کو کامیاب ہونے دے گی اور جموںوکشمیر کی عوام نے صدیوں سے ہندومسلم بھائی چارے کو کامیاب بنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گول ارناس اسمبلی حلقہ کو سرے سے ختم کرنا نا انصافی ہے اور اُس کے بعد گول سب ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کرنا اور یہاں کی عوام کو تقسیم کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ گول سب ڈویژن گول ٹکڑے کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ گول سب ڈویژن کو یا رام بن کے ساتھ جوڑا جائے یا پھر اس کو بانہال کے ساتھ جوڑا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اب کی بار بھاجپا کو اپنے دماغ سے یہ خیال باہر کر دینا چاہئے کہ وہ رام بن اور ریاسی کی سیٹ نکالے گی یہ دونوں سیٹیں بھاجپا کے ہاتھوں سے جا رہی ہیں ۔ الطاف احمد نے کہا کہ گول سب ڈویژن اپنے آپ میں ایک اسمبلی حلقہ ہے لیکن اگر یہاں کی عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے ایک بہت بڑی حماقت کی کہ گول اور گلاب گڑھ کا نام مٹانے کی ۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم علاقے کا نام ہٹانا نہیں چاہئے اور بھاجپا جو کچھ بھی اس وقت کر رہی ہے یہ حکومت کی نشہ میں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے دور حکومت میں حد بندیاں ہوئی ہیں لیکن تب ایسا ننگا ناچ نہیں رچا گیا جس طرح سے آج بھاجپا والے کر رہے ہیں ۔