گولی کے بدلے گلدستہ نہیں ملے گا : گورنر

سرینگر // ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ جنگجوگولی کے بدلے گلدستے کی توقع نہ رکھیں۔ ملک نے وادی میں آئے روز جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران جنگجوئوں کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سے میں نے ریاستی گورنر کا عہدہ سنبھالا، تب سے لے کر اب تک 40جنگجوئوں کو جاں بحق کیا گیا ہے۔گورنر نے کہا کہ رواں سال کے اگست مہینے سے وادی میں 40جنگجوئوں کی ہلاکت ہوئی ہے، جنگجوئوں کو اس وہم و گمان سے باہر آنا چاہیے کہ ان کی زندگی طویل ہوگی۔ انہوں نے جنگجوئوں  سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’گولی چلائو گے تو گولی ملے گی، کوئی گلدستہ تو ملے گا نہیں‘۔انہوں نے بتایا کہ ماضی کے برعکس ریاست میں صورتحال قدرے بہتر ہے۔ وادی میں سنگ باری کے واقعات میں بھی اُسی طرح نمایاں کمی دیکھنے میں مل رہی ہے جس طرح جنگجوئوں کی صفوں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی! انہوں نے بتایا کہ وادی میں اب حالات دن بہ دن بہتر ہوتے جارہے ہیں اور نوجوانوں اب سنگ بازی سے اکتاہٹ محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی کے برعکس مقامی نوجوانوں کی بھرتی اب جنگجوئوں کی صفوں میں بھی کم ہی دیکھنے کو مل رہی ہے، لہٰذا میں اس ساری صورتحال سے مطمئن ہوں اور اس معاملے پر کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کا نوجوان نہ صرف نئی دہلی سے ناراض ہے بلکہ وہ پاکستان، مقامی سیاسی جماعتوں اور حریت نواز تنظیموں سے بھی خفا ہے۔ایسی صورتحال میں نوجوانوں کے ساتھ تعلق اُستوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی خواہشات کو ایڈرس کیا جاسکے، نوجوان پود کو یہ احساس دلایا جائے کہ نئی دہلی ان کی مخالف نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ جنگجوئوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ جنگجوئیت کو ختم کرنا ہے، اس حوالے سے ایک مخصوص لائحہ عمل ترتیب دیا جارہا ہے کہ انسانی جان کو تلف ہونے سے بچایا جائے اور صرف جنگجوئیت کا ختم کیا جائے۔
 
 
 

 ایس پی اووز کے مشاہرے میں اضافہ کو منظوری 

 کمرشل ٹیکسز محکمے کا نام تبدیل

سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقدہ ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں2004 بیچ کے2 آئی پی ایس افسروں اتل کمار گوئل اور بھیم سین توتی کو آئی پی ایس کے سلیکشن گریڈ کے طور یکم جنوری2017 سے ترقی کو منظوری دی گئی۔ ان افسروں کے لئے سُپر ٹائم سکیل کو بھی منظوری دی گئی۔انتظامی کونسل کی میٹنگ میں ریاستی پولیس میں کام کر رہے ایس پی اوز کے مشاہرے میں26 ستمبر2018 سے اضافے کو منظوری دی گئی۔اس فیصلے کی رُو سے ایس پی اوز کے مشاہرے میں بالترتیب6 ہزار،9 ہزار اور12 ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے۔مشاہرے میں اضافے سے30 ہزار ایس پی اوز کو فائدہ ہوگا اور مزید106 کروڑ روپے سالانہ درکار ہوں گے۔ انتظامی کونسل میٹنگ میں کمرشل ٹیکسز محکمہ کے کام کا ج کو جی ایس ٹی کے مطابق چلانے کے حوالے سے اس کی تشکیل نو کو منظوری دی ہے۔ محکمہ کو اب سٹیٹ ٹیکسز محکمہ کے نام سے جانا جائے گا اور اسسٹنٹ کمشنروں کی10 اسامیوں کو اسسٹنٹ کمشنر سٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ انتظامی کونسل نے محکمہ میں ڈپٹی کمشنر سٹیٹ ٹیکسز کی4 ،اسسٹنٹ کمشنر کی ایک اور سسٹم اینالسٹ کی4 اسامیوں کو معرض وجود میں لانے کو بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ افسر کی ایک، سٹیٹ ٹیکسز افسر کی 14 ، ایڈمنسٹریٹو افسر کی2  اور اکاؤنٹس افسر کی ایک اسامی کو بھی وجود میں لانے کو منظوری دی گئی۔علاوہ ازیں انسپکٹروں کی اسامیوں سمیت کیشرؤں کی11 اور چراسیوں کی148 اسامیوں کے قیام کو بھی منظوری دی گئی۔ کونسل نے آڈٹ سُپر وائزروں کی6 اسامیوں کی اپ گریڈیشن، سٹیمپ سُپروائزروں کی2 اسامیوں کی سیکشن افسروں کے طور اپ گریڈیشن اور14 اسسٹنٹ سُپر وائزروں کی کیشرؤں کے طور اپ گریڈیشن سمیت آڈیٹروں کی16 اسامیوں کو سنئیر اسسٹنٹوں کے طور اپ گریڈ کرنے کو بھی منظوری دی۔انتظامی کونسل میٹنگ میں بھلوال تحصیل جموں میں23 کنال2 مرلہ ریاستی اراضی پر کمپوزٹ ریجنل سینٹر کے قیام کے لئے مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کو منظوری دی۔سرینگر میں اسی طرح کا ایک ادارہ مرکزی سماجی بہبود وزارت کے تحت چلایا جارہا ہے جہاں جسمانی طور ناخیز افراد کو مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔انتظامی کونسل میٹنگ میں ریاست کے مختلف حصوں میں سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے9.335 ہیکٹر جنگلاتی اراضی کے استعمال کو منظوری دی گئی۔اس سلسلے میں جن معاملات کو منظوری دی گئی اُن میں جموں۔ اکھنور روڈ کو چار گلیاروں والی بنانے،سرینگر۔ بانہال حصہ پر کام مکمل کرنے، رام نگر اور بانڈی پورہ میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔