گولـ :چار سال سے بند پڑا روڈ لوگوں نے چندہ کر کے کھولا

 گول//جہاں ایک طرف سے سرکار اور انتظامیہ کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے روڈ کو اہم قرار دیتے ہیں اور روڈ میں ہی علاقوں کی ترقی مضمر ہے کے اعلانات کئے جاتے ہیں لیکن یہ اعلانات صرف کاغذوں اور اخبارات اور ٹیلی ویژنوں کی زینت بنانے کے لئے دئے جاتے ہیں اور اگر زمینی سطح پر دیکھا جائے تو لوگوں کی حالت اس اکیسویں صدی میں بھی کافی حد تک خراب ہے اور سالہا سال سے کھودے گئے روڈ ابھی بھی قابل استعمال نہیں ہے ۔ یہاں سب ڈویژن گول کے علاقہ اندھ جسے چھوٹا پنجاب بھی کہا جاتا ہے کے ملحقہ جات علاقوں کو ملانے والا واحد روڈ جسے شہیدی روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے گزشتہ چار سال سے مکمل طور پر بند پڑا ہوا ہے جہاں پر کئی بار پسیاں گر آئیں اور لوگوں کے رہائشی مکانات کوبھی کافی نقصان پہنچا تھا لیکن اس کے با وجود اس روڈ کو کھولنے کے لئے کوئی آگے نہیں آیا ۔ تقریباً چار سو میٹر پر یہاں پسی گر آئی تھی اور آج چار سال کے بعد لوگوں نے خود چندہ جمع کر کے اس روڈ کو کھولا لیکن اس روڈ پر کام کرنے میں بھی لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا گیا ۔ آج چار روز بعد جب اس روڈ پر گاڑی چلی تو لوگ کافی خوش ہوئے اور یہاں پر یہ شہیدی روڈ مولکوٹ، بڑا کنڈ، اندھ، سیری پورہ ، فمروٹ وغیرہ علاقوں کو ملاتا ہے جہاں کی آبادی بیس ہزار سے زائد ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چار سال سے بیس ہزار کی آبادی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہی اور کسی نے ان پر رحم نہیں کھایا ۔ سردار علی چھچھواہ کے رہنے والے ایک شہری کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاقے میں چندہ جمع کیا اور کسی نے مال مویشی اور زیورات تک بیچ دیا اور روپے جمع کر کے اس روڈ پر آج چار دن کے بعد کھولا ۔سردار علی کا کہنا ہے کہ یہ روڈ گزشتہ چار سال سے مکمل طورپر بند پڑا ہوا تھا اور کسی نے آج تک اس پر دھیان نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ پی ایم جی ایس وائی دفتر رام بن بھی گئے ، ایس ڈی ایم گول ، تحصیلدار گول کے پا س بھی گئے لیکن کوئی ہماری روداد سننے کے لئے تیار نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے گول ارناس اعجاز احمد خان صاحب نے بھی کئی بار اپنے دربار میں یقین دلایا کہ الگے ہفتے اس روڈ کو کھولا جائے گا اور پی ایم جی ایس وائی کے اے ای ای و دوسرے آفیسران بھی درباروں میں موجود تھے لیکن اس کے با وجود بھی آج کل کرتے رہے جو عوام کے ساتھ دھوکہ سے کم کچھ نہیں ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہاں پر چندہ جمع کیا اور ایک نوجوان سماجی کار کن محمد امین بٹ نے ان کو تعاون پیش کیا اور انہوں نے اپنی مشین لائی اور چار روز میں اس روڈ کو کھولا اور لوگ کافی حد تک راحت محسوس کر نے لگے ۔محمد امین بٹ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ چار سال سے لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور کوئی ان کی روداد نہیں سن رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیڈران کو کرسیوں کی پڑی ہوئی ہے یہاں عوام مسائل سے جوجھ رہے ہیں ۔ محمد امین بٹ نے کہا کہ ہم نے چار روز میں روڈ کھولا اس طرح سے محکمہ پی ایم جی ایس وائی نہیں کھول پایا، لوگوں نے تعاون کیا۔ یہاں کرسیوں کے پیچھے ہیں عوامی کام کیلئے کوئی دھیان نہیں دیا ۔محمد امین بٹ نے کہا کہ جب یہاں پر عوام خود اس روڈ کو کھولنے لگی تو افسوس کا مقام ہے کہ مقامی ایم ایل اے اعجاز احمد خان نے لوگوں پر دبائو بنایا کہ اس روڈ پر کیسے کام کر رہے ہو اس کو بند کرو کام مت کرو ، پی ایم جی ایس وائی کی جانب سے بھی دبائو آیا لیکن لوگوں کی مدد سے اور عوام نے ہمت کی اور اس روڈ کو کھولا اور یہ محکمہ اور یہاں کے نمائندوں پر کسی طمانچہ سے کم نہیں ہے ۔