گول:آٹھویں جماعت کے نتائج کا اعلان

 گول//ضلع رام بن میں محکمہ تعلیم (ڈائیٹ بانہال) آٹھویں جماعت کے نتائج شائع ہونے کے ساتھ ہی جہاں زون رام بن ، بانہال میں کچھ یکساں نتائج برآمد ہوئے اور ٹاپ 10میں طالب علموں نے میدان مارا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ زون گول میں ٹاپ10کی دور کی بات ہے یہاں پر تین کلسٹروں میں کچھ ایسے نتائج ہوئے جس پر ایک عام انسان بھی شک کے بناء نہیں رہ سکتا ہے ۔ اورتینوں کلسٹروں میں الگ الگ قسم کے حیران کن نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔اعداد و شمار کے مطابق زون گول میں 56فیصدنتائج برآمد ہوئے ہیں ۔کلسٹر ٹھٹھارکہ 98فیصد،سنگلدان 66فیصد جبکہ کلسٹرگول میں صرف 33فیصدنتائج برآمد ہوئے ہیں۔کلسٹر گول کے امتحانی نتائج پر جہاں والدین نے  برہمگی کا اظہار کیا وہیں زونل ایجوکیشن آفیسر نے یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلسٹر گول میں صرف ۳۳ فیصد نتائج آنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ امتحان ہماری کڑی نگرانی میں کرائے گئے ہیں۔ متعلقہ آفیسر نے زون گول کے امتحانی نتایج کو لیکر صحافیوں سے کہا کہ میں زون گول میں امتحانی نتائج کو لیکر اطمنان بخش ہوں اور اساتذہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ زیڈ ای او نے کمزور نتائج کو یہاں پر اساتذہ کی کمی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے اور سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی معیار گرتا جا رہا ہے ۔وہیں لوگوںنے زونل ایجوکیشن کے اس طرح سے بچگانہ بیان پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرکلسٹر کم فیصد نتائج آنے کا مطلب امتحان متعلقہ آفیسر کی کڑی نگرانی میں ہونا ہے تو صاف طور سے ظاہر ہے کہ دیگر کلسٹروں میں اچھے نتائج آنا نقل کرانے کا شاخسانہ ہے،کیونکہ دیگر کلسٹروں میں متعلقہ آفیسر کی نگرانی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔کلسٹرگول میں آٹھو اور ٹھٹھارکہ میں ایک اسکول کے صفر نتائج برآمد ہونے پرگول کے متعدد شہریوں فاروق احمد ،محمد یوسف،ریاض احمد،محمد اشرف، محمد صادق و دیگران نے شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمہ کے عین ناک کے نیچے چل رہے اسکولوں کے امتحانی نتائج اس قدر مایوس کن ہونا متعلقہ محکمہ کیلئے سوالیہ ہے۔مڈل اسکول اپر ہارا میں زیر تعلیم صرف ایک طالب علم کا ناکام ہونا متعلقہ محکمہ کیلئے باعث ِشرم ہے۔اگر یہاں تعلیمی نظام پر نظر دوڑائی جائے تو تعلیمی نظام اس قدر بگڑ چکا ہے کہ صرف ایک طالب علم سال بھر تعلیم حاصل کرتے کرتے کامیاب ہونے سے قاصر رہ جاتا ہے جس کی تازہ مثال مڈل سکول اپر ہارامیں زیر تعلیم صرف ایک طالب علم ہے ۔وہیں اگر نجی تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو ان کے نتائج سرکاری تعلیمی اداروں کے برعکس ہے اور اطمینان بخش ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ اسکولوں میں اساتذہ کی قلت کو دور کریں اور یہاں پر بہتر ساز وسامان کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اوراساتذہ کو ڈیوٹی کے پابند بنایا جائے تا کہ اسکولوں میں بہتر نتائج کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیم بھی طالب علموں کو میسر ہو ۔