گولان کی پہاڑیاں

امریکی  صدر اور امریکا کی تاریخ کے نمبر ایک احمق ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں لکھا کہ گولان کی پہاڑیوں کے معاملے پر اسرائیل کی خود مختاری ہے، یعنی امریکی صدر نے بالکل اسی طرح یک طرفہ اور احمقانہ اعلان کیا ہے جیسا انہوں نے گزشتہ برس میں یروشلم شہر کو صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا یک طرفہ اعلان کیا تھا جس پر پھر انہیں منہ کی کھانی پڑی تھی ۔گولان کی پہاڑیاں شام کا وہ علاقہ ہیں کہ جہاں 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا۔ پھر 1981 میں باقاعدہ اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں یہ کہتی ہیں کہ گولان کی پہاڑیاں تاحال شام کا علاقہ ہیں اور اسرائیل ان پر غاصب اور قابض کی حیثیت سے موجود ہے۔امریکی صدر نے شام کی ان پہاڑیوں کے بارے میں اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا احمقانہ یک طرفہ اعلان کیا ہے جس پر ایک مرتبہ پھر امریکی صدر کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا ہے اور اکثر ممالک نے اس فیصلے یا اعلان کو مسترد کردیا ہے۔مشرق وسطیٰ کے سیاسی ماہرین امریکی صدر کے اس اعلان کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید ایسا لگ رہا ہے کہ امریکا میں موجود صہیونی لابی نے امریکی سیاستدانوں اور کچھ سینیٹرز کے ذریعے امریکی صدر کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ امریکا میں موجود صہیونی لابی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے نام نہاد ہونے والے نئے انتخابات میں نیتن یاہو کو مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی لیے امریکی صدر نے ان کو ایک تحفے کے طور پر گولان کی پہاڑیاں دی ہیں۔البتہ امریکی صدر کا یہ یک طرفہ اعلان گولان کی پہاڑیوں کی اصل شناخت یعنی شام کے علاقے سے تبدیل کرکے اسرائیلی علاقہ نہیں بنا سکتا کیونکہ امریکی صدر کا یہ احمقانہ اعلان دراصل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 242 سے براہ راست متصادم ہے۔
دراصل امریکی صدر کی جانب سے شام کی گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری تسلیم کرنے کا اعلان جہاں اسرائیل کے نئے انتخابات پر اثر انداز ہونے سے متعلق ہوسکتا ہے وہیں امریکا و اسرائیل کی پریشانی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے؛ کیونکہ امریکا اور اسرائیل شام کی گزشتہ سات برس کی صورتحال میں اب تک کسی قسم کی کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حالانکہ اب یہ رپورٹس منظرعام پر آچکی ہیں کہ شام کو غیر مستحکم کرنے کےلیے بنائی جانے والی دہشت گرد تنظیم داعش کو امریکا اور اسرائیل نے ہی بنایا تھا اور ان ہی کی جانب سے اس کو اسلحہ اور مالی معاونت کی جا رہی تھی تاکہ شام سے بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن نتائج اس کے بالکل برعکس نکلے ہیں کیونکہ شام کے اتحادیوں بشمول روس، ایران، چین، حزب اللہ اور دیگر کی مشترکہ کوششوں سے شام سے تادم تحریر آنے والی اطلاعات کے مطابق کرد علاقوں میں موجود آخری داعشی ٹھکانوں پر بھی شامی افواج نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔شاید امریکا کےلیے سب سے بڑا درد سر اب یہی ہے کہ شام، جو داعش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیموں سے نمٹ سکتا ہے اور ماضی قریب کی طرح اسرائیلی میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ جوابی کارروائی بھی کرسکتا ہے، تو وہ کسی بھی وقت اپنے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل کے تسلط سے آزاد کروانے کےلیے بھی خاموش نہیں رہے گا۔شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں پر صہیونیوں کے تسلط کے عنوان سے امریکی صدر نے اسرائیل کی خودمختاری کا اعلان کیا ہے تو یاد رہے کہ امریکی فیصلہ 1974 میں طے پانے والے اسرائیل اور شام کے درمیان امن معاہدے کے بھی خلاف ہوگا۔ ہمیں اچھا لگے یا نہ لگے، ’’گولان ہائٹس شام کی سرزمین کا حصہ ہیں۔‘‘
سیاسی مبصرین کی نظر میں گولان ہائٹس کے بارے میں اسرائیل کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کی ایک وجہ شام کے موجودہ حالات بھی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کے بعد شام حکومت نہ صرف کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے بلکہ شام کی مسلح افواج کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کےلیے مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ اسلامی مزاحمتی فورسز نے بھی گولان ہائٹس کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط بنالی ہے۔
شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے حال ہی میں کہا ہے: ’’دمشق گولان ہائٹس پر قبضہ مضبوط بنانے کےلیے انجام پانے والی اسرائیلی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے میں تذبذب کا شکار نہیں ہوگا۔‘‘
خلاصۂ کلام یہ کہ امریکا جو پہلے ہی مشرق وسطی میں متعدد محاذوں پر شکست سے دوچار ہوچکا ہے، اب اپنی رہی سہی ساکھ کو اس طرح کے احمقانہ اعلانات اور یک طرفہ فیصلوں سے مزید کمزور کررہا ہے۔ صہیونی مفادات کی خاطر امریکا دنیا بھر کی مخالفت اور نفرت مفت میں ہی خرید کر اپنی قبر کھودنے کا کام کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے پر سیاسی ماہرین کی رائے یہی تھی کہ امریکا کو اب کسی دشمن کی ضرورت نہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی امریکا کو تہس نہس کرنے کےلیے کافی ہیں۔ اب یہ آراء درست ہوتی نظر آ رہی ہیں۔
امریکی صدر کے اس طرح کے احمقانہ اعلانات اور فیصلوں سے جہاں دنیا بھر میں امریکا کو سبکی اٹھانا پڑتی ہے وہیں عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز اور قوانین پر بھی سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہوتے ہیں۔کیا دنیا کی سیاست کے معاملات اسی طرح چلائے جائیں گے کہ جب امریکی صدر کا دل چاہے گا، وہ شام پر دہشت گرد گروہوں کے حملوں کی حمایت کریں گے یا پھر جب شکست کھا جائیں گے تو شام کی سرزمینوں پر اسرائیل کی خودمختاری تسلیم کرکے بین الاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی دھجیاں بکھیر دیں گے؟کیا عالمی سیاست اسی بات کی متقاضی ہے کہ امریکی صدر کو بے لگام چھوڑ دیا جائے کہ وہ ایران اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر اپنا قبضہ جمانے کےلیے ایران پر پابندیاں عائد کریں اور وینزویلا میں انارکی پھیلانے میں براہ راست ملوث ہوں؟کیا دنیا کے سیاسی نظام کو امریکی صدر کی من مانی پر چھوڑ دیا جائے کہ جہاں امریکی صدر کی آشیر باد سے فلسطین میں اسرائیل ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھے تو دوسری جانب عرب حکمران یمن میں قتل عام کی سرپرستی جاری رکھیں اور ان دونوں پر نگرانی امریکی حکام کی ہو؟آج امریکی صدر کے احمقانہ فیصلے اس بات کی دلیل ہیں کہ امریکہ ، شام سے متعلق شدید پریشانی کا شکار ہو چکا ہے اور امریکہ سمیت اسرائیل کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ جلد یا بدیر بہرحال شام اپنی مقبوضہ سرزمین کو صہیونی دشمنوں سے آزاد کروانے کےلیے ضرور اقدامات کرے گا۔ یہی اقدامات آگے چل کر عنقریب فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ 
