گوشہ اطفال|18جولائی 2020

کہانی

ایک شرارت بچپن کی!

 
 رئیس صدیقی  
 
یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب میں قریب سات آٹھ سال کا تھا اور اپنی نانی  کے یہاں گرمیوں کی چھٹیاں منانے لال پور گیا ہوا تھا۔ایک دن میں اپنے شرارتی دوستوں کے ساتھ،  جنھوں نے کسی حد تک مجھے بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا، اپنے کھیت گیا۔ کھیت کے پاس ایک کنواں تھا۔ ہم لوگ گرمی سے بچنے کے لیے اکثر وہیں بیٹھا کرتے تھے۔ روزانہ کی طرح، اس دن بھی ہم لوگ کنویں کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اس دن ایک دوسرے گائوں کے آدمی کا اُدھر سے گزر ہوا۔ ہم لوگوں کو ایک شرارت سوجھی اور اس پر عمل کرڈالا۔
میں چلّا چلّا کر رونے لگا۔ایں۔۔۔ایں۔۔۔۔ایں !
 وہ آدمی مجھے روتا دیکھ کر وہیں ٹھِٹک گیا۔ پھر میرے  پاس آکر میرے رونے کی وجہ پوچھی۔ میں نے منہ بسور کر روتے ہوئے کہا:’ایں ایں۔ میری  ٹوپی اس کنویں میں گرگئی ہے۔ ایں ایں ایں۔ اگر ٹوپی مجھے نہیں ملی تو میری نانی مجھے بہت ماریںگی‘۔
 پہلے اس آدمی نے بڑے غور سے میرا معصوم چہرا دیکھا۔ کچھ سوچا۔پھر اپنی قمیص اتاری اور کنویں میں سیڑھی سے نیچے اُتر کر میری ٹوپی تلاش کرنے لگا۔ ادھر ہم لوگوں نے اس کے کپڑے اٹھائے اور بھاگ کر ایک قریب کی جگہ چھپا دئے۔ جب تھوڑی دیر کے بعد ہم واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ آدمی کنویں سے اپنا آدھا دھڑ باہر نکالے بڑی حیرت سے ہم لوگوں کو تک رہا ہے۔ پھر وہ کنویں سے باہر آیا اور بولا :’ بیٹا، ہمارے کپڑے کہاں ہیں؟ اور ہاں، تمھاری ٹوپی مجھے نہیں ملی۔ اچھا ایسا کرو تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو اور بازار سے خرید لو تاکہ تم  اپنی نانی سے مار کھانے سے بچ جائو‘۔
 یہ سننا تھا کہ میرا ضمیر مجھ پر ملامت کرنے لگا۔ میں جلدی سے دوڑ کر اس نیک آدمی کے کپڑے واپس لایا اور اس کو دیتے ہوئے بڑی مدھم آواز میں بولا:’ میں شرمندہ ہوں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب ــ میںکبھی بھی، اسطرح کی کوئی بھی شرارت نہیں کرونگا!‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’چور کی داڑھی میں تنکا‘

محاورہ کیسے بنا؟
’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ محاورہ کیسے بنا؟ آئیں اس کی تاریخ جانتے ہیں ایک مرتبہ اکبر بادشاہ کی انگوٹھی کھو گئی۔اکبر بڑا پریشان ہوا کیونکہ یہ اس کے باپ کا تحفہ اور نشانی تھی۔ جب بیربل دربار میں پہنچا تو اکبر نے سارا ماجرا اس کو سنایا اور اس سے کہا،کہ تم بہت سیانے بنتے ہو۔ اب زرا ہماری انگوٹھی ڈھونڈ کر دکھائو تو تم کو جانیں۔بیربل بولا۔ ’’ جہاں پناہ، آپ فکر نہ کریں۔ 
’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ یہ محاورہ کیسے بنا؟
آپ کی انگوٹھی ابھی مل جاتی ہے۔’’آپ کی انگوٹھی دربار میں ہی موجود ہے اور کسی درباری نے اسے اپنے پاس چھپایا ہوا ہے۔اور یہ …چور درباری وہ ہے کہ جس کی داڑھی میں تنکا اٹکا ہوا ہے۔ 
جس درباری کے پاس انگوٹھی تھی وہ خوفزدہ ہو گیا اور غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ اپنی داڑھی کی طرف اٹھ گیا۔بیربل کی تیز نگاہوں نے فوراً اس درباری کو بھانپ لیا اور اس کی طرف اشارہ کر کے بولا کہ۔’’ جہاں پناہ یہی وہ چور ہے، جس کے پاس آپ کی انگوٹھی ہے۔’’اس کی تلاشی لیجئے۔’’تلاشی لینے پر انگوٹھی برآمد ہوگئی۔ اکبر بڑا حیران ہوا کہ بھلا بیربل کو چور کا پتہ کیسے چلا۔اسی لئے مشہور ہو گیا کہ چور کی داڑھی میں تنکا یعنی کہ مجرم ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے۔
 

بوجھو تو جانیں!!!!!

1۔پوسا نہ پالا بن گئی خالہ
"خالہ! بھانجے کو کھلاو "
بولی: "ہوش میں آئو "
2۔ڈبکی کھا کر آئی نکل
دیکھ کے جائے پھسل
دیکھنے میں پھول نہ پھل
کہنے کو اک پھول اک پھل
3۔سیکھنے والا بولتا جائے
سیکھانے والا چپ
اس سے میرا دھیان لڑا ہے
شور نہ کرنا، چپ!
              4۔ڈبیا سے نکلا، جس نے بھی کھولی
چاندی کا پانی، سونے کی گولی
5۔مٹھی میں وہ لاکھوں آئیں
گن کر ہم کیسے سمجھائیں
6۔مخمل کے پردے، خوشبو کا گھر
صبح سویرے کھلتا ہے در
7۔ایک جگہ پر چکر کھائے
وہ آگے نہ پیچھے جائے
اس کا چلنا سب کو بھائے
جیسی چاہو چال دکھائے
8۔کبھی ہیں لال، کبھی ہیں کالے
لاکھوں بار دیکھے ہیں بھالے
9۔دھوپ کبھی اسے سکھائے
سوکھا، جب سائے میں آئے
10۔منہ ہے چھوٹا بڑی ہے بات
سن لو دنیا کے حالات
جوابات:
1۔بلی 2۔گلاب جامن 3۔کتاب 4۔انڈا 5۔ریت کے ذرات 6۔گلاب 7۔بجلی کا پنکھا 8۔کوئلے 9۔پسینہ 10۔لائوڈ سپیکر
معلومات ِ عامہ
لیاقت مظہر 
فوٹو گرافی یونانی زبان کا لفظ جس کے معنی "روشنی سے پینٹنگ"۔
ڈاکٹر لاطینی زبان میں استاد کو کہتے ہیں۔
ملیریا اطالوی زبان کا لفظ ھے جس کے معنی "بری ہوا" کے ہیں۔
ابلیس عبرانی زبان کا لفظ ھے جس کے معنی "انتہائی مایوس" کے ہیں۔
جہلم سنسکرت زبان کے دو الفاظ "جل" اور "ہم" کا مرکب ھے، جس کے معنی "میٹھا پانی" کے ہیں۔
اولمپک گیمز کا آغاز 1896 عیسوی میں یونان سے ہوا۔
ہسپتالوں کی بنیاد "محمد بن زکریا رازی" نے رکھی۔
 

بچوں میں کارٹون بینی کا بڑھتا چلن

ذہنی و جسمانی صحت کو برباد ہونے سے بچائیں

حسبِ حال
 
ڈاکٹرامتیاز اسماعیل
 
وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ایک قدرتی امر ہے ۔کچھ تبدیلیاں زور شور کے ساتھ وقوع پذیر ہوتی ہیں جبکہ بعض انتہائی غیر محسوس طریقے سے عمل پذیر ہوتی ہے۔ایسی ہی ایک تبدیلی بچوں کے اندر رونما ہونے والی ہے۔جس کی وجہ سے نسل نو کے بچے زیادہ تر باہری کھیل کود کے بجائے گھر کی چار دیواری میں ٹیلی ویژن اسکرین کے سامنے نظر آتے ہیں ۔ٹیلی ویژن کی مقبولیت کاعالم یہ ہے کہ ہماری روز مرہ زندگی کا لازمی جز بن گیا ۔ گھر کے چھوٹے بڑے اپنی ترجیحات کا تعین ٹیلی ویژن دیکھ کر کرتے ہیں ۔ گھر کے بڑے جہاں نیوز ،ڈراما اور قلمیں دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہیں ٹیلی ویژن کارٹون کے تئیں بچوں کا غیر معمولی رحجان پایاجا تاہے ۔ ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ حد سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے سے بچوں میں جسمانی کمزوری اور بھوک نہ لگنے کی شکایت عام ہے ۔جنوبی کشمیر کے معروف امراضِ اطفال ڈاکٹر مظفر ملک کا کہنا ہے: ’’بچے اور ٹیلی ویژن کا گہرا رشتہ نسل نو کو کئی طرح سے متاثرکر رہا ہے ۔اس کے منفی اثرات ان کے جسم پر بھی پڑتے ہیں اور دماغ کو بھی بُری طرح متاثر کرتے ہیں ۔‘‘ان کا  مزید کہنا ہے کہ بچوں میں کمزوری اور بھوک نہ لگنے کی شکایت کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں ۔
 تاہم جب موصوف نے والدین کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تو ان کا استدال تھا کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر بچوں کو چار دیوراری میں مقیدرکھنے کو ترجیح دی جاتی ہیں ۔بیشتر والدین کی شکایت تھی کہ مجموعی طور سرکای اور غیر سرکاری اسکولوں میں غیر تدریسی سرگرمیاں نہیں کی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں بچہ پڑھائی کے بعد ٹیلی ویژن اسکرین کے روبرو پائے جاتے ہیں ۔دوسری وجہ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے جن حالات واقعات نے وادی کشمیر کو اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس کی وجہ سے والدین بچوں کو گھر سے باہر کھلے میدانوں میں نظروں سے اُوجھل نہیں ہونے دیتے ہیں ۔ بہرحال جوہات کچھ بھی ہوں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کارٹون کی فیشن پرستی نے بچوں کی موجودہ نسل پر غیر معمولی اثرات مرتب کئے ہیں جس کے سبب بچوں میں تند مزاجی ،عدم تعاون اور برداشت نہ کرنے کا عمل پایا جاتا ہے۔ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے کارٹون سیریل میں اگر چہ کچھ مثبت موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں لیکن marven avengersجیسے لڑاکارٹون نے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈال دئے ہیں۔ 
 مختلف چینلوں پر کارٹون سیریل نشر کر کے ان کو فحاشی اور عریانیت کا دلدادہ بنایا جاتا ہے۔والدین بھی کارٹون پروگراموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کارٹو ن بچے کی تفریح اور تعلیم کا ذریعہ ہیں۔ دوسرا یہ کہ انہیں بچوں کی فرمایش سے کچھ وقت کے لیے راحت ملتی ہے۔ اکثر والدین کہتے ہیںکہ کارٹوں دیکھتے وقت بچے کوکھانا کھلانا آسان ہوجاتا ہے ۔مگر ان کو معلوم نہیں جو بچے زیادہ کارٹون دیکھتے ہیں وہ عام طور پُر تشدد ہوتے ہیں۔
ہندوستان میں کارٹون چنیلز کی شروعات ۱مئی ۱۹۰۵ ء کو ہوئی اور آج تقریبا ۱۸ کارٹوں چنیلز چل رہے ہیں۔اگر چہ کارٹون میں ایک طرح تفریح طبع دیکھنے کو ملتی ہے وہیں دوسری جانب بچوں کو بگاڑنے اور حیا کا پردہ ہٹانے میں نمایاں کردارنبھا رہے ہیں ۔بچہ کارٹون میں جو دیکھتاہے، گھر میں اس چیز کی مشق کر کے اس کا رویہ انتہائی متشد ہو جاتاہے ۔کارٹون چنیلز کو دیکھنے کا رحجان دن بہ دن بڑھ رہا ہے جن سے ان کی نفسیات پر منفی اثرات پڑتے ہیں ۔بچوں میں تہذیب و تمدن ،رسم ورواج اور اخلاقی اقدار سے دوری فروغ پا رہی ہے اور کارٹوں دیکھنے میں مگن ہوکر جسمانی نشونما کو فروغ دینے والے کھیل کود سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔کارٹون کی عجیب و غریب حرکتوں اور مختلف قسم کے رنگوں اور شرارت سے بھرے ہو ئے کرداروں کو بے حد پسند کر کے ان کرداردں کوحقیقی تصور کرتے ہیں جن سے ان بچوں میں سختی اور تند خوئی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مزاج میں ہمدردی کا مادہ اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے ۔ محمد نفیس دانش اپنے ایک کالم ’’بچوں پر کارٹوں کے اثرات ‘‘میں لکھتے ہیں:’’کارٹونس میں جرائم کرنے اور ان کے انجام سے اور ان کے برے انجام سے بچنے ،اسی طرح جھوٹ بول کر بچنے کے مناظر دکھلائے جاتے ہیں جن سے بچے میں جرم کرنے اور جھوٹ بولنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔وقت کا ضیاع ،بچوںکا جو وقت زبانی، تخلیقی ،فنی اور سماجی صلاحیتوں کے پروان چڑھنے کا تھا اب اس کا یہ وقت بے کارکارٹونوں کی نذر ہو جاتا ہے ‘‘
 امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹر کس (AAP)کے ماہرین کا کہنا ہے :’’جو بچے تشدد سے بھرے کارٹون دیکھتے ہیں وہ جارحانہ اور نافرمان ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ ایسے بچے بے چین رہتے ہیں ۔کارٹون کے تین اہم اثرات ہیں جو بچوں پر تشدد کو تشویش دیتے ہیں ۔وہ دوسروں کے دکھ اورغم سے بے نیاز ہوجاتے ہیں ۔حقیقی زندگی میں بچے اپنے ارد گرد موجود تشدد کے کسی بھی عنصر سے تکلیف محسوس نہیں کرتے ہیں ۔بچے جارحانہ ردعمل اور پر تشدد رویے کے شکار ہوتے ہیں ۔‘‘
 آ ئیو اسٹیٹ (iowa)یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا ہے :’’نشر کئے جانے والے کارٹون عام پروگراموں کے مقابلے میں وحشت سے بھرے ہوتے ہیں ۔‘‘
 ماہرین نفسیات کا کہنا ہے:’’جو بچے دن میں 3سے 4گھنٹے کارٹون دیکھتے ہیں ۔وہ تشدد کے شکار ہوتے ہیں ۔مزید ان میں علمی افعال کی پسماندگی اور حقائق سے دوری اور منفی طرز عمل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘
 مشیگن یونیورسٹی،کیلا بروکس اور بریڈبشمن (Researchers of university of Michigan Kaila Brooks and Brand Bushman )کے محققین تحقیق کر کے لکھتے ہیں :’’2-5سال کے بچے کارٹون ،ہفتے میں 32گھنٹے دیکھتے ہیں۔6-11سال کی عمر ،28گھنٹے ،8-18سال کی عمر کے 71%بچوں کے پاس الگ ٹی وی سیٹ ہے ‘‘۔اسی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی پروفیسر شرمین (prof sharmin)اپنی تحقیق میں بتاتی ہیں کہ’’ روایتی اور علمی ذرائع سے سیکھنے کے بجائے بچے کارٹونوں کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ کارٹونوں کے منظر ناموں ،آڈیو ویزوئل اثرات اور رنگین حلوں میں ہے ۔‘‘
American acadmy of Child  ایک تحقیقی رپورٹ میں بتاتی ہے :’’ایسے بچے جو کارٹون دیکھتے ہیں، وہ بے حس ہو جاتے ہیں۔دوسروں کی تکلف کا انہیں کوئی احساس تک نہیں ہوتا ،نیز ایسے بچے جو مسلسل تشدد کا مشاہدہ کرتے ہیں، ان کا رویہ انتہائی متشد د ہوتا ہے اور وہ ضدی ہو جاتے ہیں، اپنے مسائل کا حل تشدد کی راہ ہی میں مضمر سمجھتے ہیں ۔‘‘
جنوبی کشمیرکا جسمانی تعلیم کے لکچرار عابد بشیر کا کہنا ہے :’’بچوں کے درخشاں مستقبل کے لیے کارٹون سیریل محدود وقت کے لیے ہونا چاہے تاکہ بچے چاردیواری سے نکل کر جسمانی سر گرمیوں اور کھیل کود میں حصہ لیکر ملک اور قوم کا نام روشن کریں ۔‘‘ 
کارٹون چینلز بچوں کوخیالی زندگی میں محو کر کے حقیقی زندگی سے بہت دور کر دیتے ہیں ۔کارٹون بچوں کے دلوں میں جگہ بنا کر ان کی پڑھائی کو بُری طرح متاثر کر دیتے ہیں ۔بچے اپنے کلچر ،تہذیب و تمدن عادات و اقدار کو بھول کر دوسرا کلچر اپناتے ہیں اوروہ وہی زبان اور باتیں کرتے ہیں جو یہ کارٹون میں دیکھتے ہیں ۔دیر تک کارٹون چینلز کو دیکھنے سے بچوں میں صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جن میں بینائی پر اثر ،موٹا پا اور کھانا کھانے کے خراب عادات بھی پڑ سکتے ہیںجس سے ان کی تعلیمی کیفیت بری طرح متاثر ہوسکتی ہے ۔کارٹونوں میں جو کردار پیش کئے جاتے ہیں بچے انہیں اپنا آئیڈیل بنا کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں ۔
والدین کو چاہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان چینلز سے دور رکھے انہیں کارٹون کے جسمانی اور اخلاقی نقصانات سے آگاہ کرائیں ۔کارٹونوں میں دکھائی گئی خیالی زندگی اور حقیقی زندگی کے درمیانی فرق کی وضاحت کریں۔بچوں کو زیادہ تر تعلیمی اور معلوماتی مواد والے چینل وغیرہ دکھایا کریںجو ان کی مجموعی نشونما میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں ۔بچوں کو ٹیلی ویژن اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھلانے کی عادات سے گریزکریں۔ والدین پر یہ ذمہ داری عائد کی جاتی ہے کہ وہ بچوں کی اچھی تربیت کر کے ان کی شخصیت سازی کی فکر کریں ۔
رابطہ:عید گا ہ روڈ ، ڈورو شاہ آباد 
فون نمبر:9596444868