گوشت کی نئی قیمتیں مقرر ،4ماہ بعد تعطل ختم

سرینگر//گوشت کی قیمتوں پر4ماہ سے جاری تعطل انتظامیہ اور مٹن ڈیلروں کے درمیان ہوئے سمجھوتے کے بعد ختم ہوگیا ہے۔اس ضمن میں آج مٹن ڈیلروں سے بیان حلفی لینے کے بعد با ضابطہ طور پر نو ٹیفکیشن جاری کیا جائیگا۔ سرکاری نرخناموں کے بر عکس گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کی لائسنس منسوخ کرنے کے علاوہ انہیں گرفتار کر کے ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا جائیگا۔ ڈائریکٹر امور صارفین و عوامی تقسیم کاری بشیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مٹن ہول سیلر ڈیلروں کیساتھ ہوئی انتظامیہ کی تیسری میٹنگ نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور گوشت کی قیمتوں پر جاری تعطل ختم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا’’ اب ماضی کی طرح مٹن ڈیلروں کی من مانی نہیں چلے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ کافی بحث و تمحیض کے بعد اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ بغیر اوجڑی گوشت فی کلو کی قیمت535روپے اور 490روپے معہ 100گرام اوجڑی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ مٹن ڈیلروں کیساتھ کوئی رسہ کشی نہیں چاہتی ہے اور انہیں یہ بات باور کرائی گئی تھی لیکن وہ ضد پر اڑے رہے، جس کی وجہ سے 4ماہ تک وادی میں گوشت کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی۔ ڈائریکٹر موصوف نے کہا کہ مٹن ہول سیل اور رٹیل ڈیلروں کی انجمنوں کے ذمہ داران سے آج باضابطہ طور پر بیان حلفی لئے جائیں گے تاکہ سرکاری نرخناموں پر من و عن عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے۔
انکا کہنا تھا کہ بیان حلفی لینے کے بعد ہی گوشت کی مقرر ہوئی نئی قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کی جائیگی۔ناظم امور صارفین نے مزید کہا کہ ماضی کی طرح قصاب اور مٹن ڈیلروں کی من مانی اب نہیں چلے گی کیونکہ انہیں سرکار کی طرف سے طے شدہ قیمتوں کے مطابق ہی گوشت فروخت کرنا ہوگا ورنہ انکے لائسنس منسوخ کرنے کے بعد ان پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں مٹن ڈیلروں کی جانب سے زیادہ قیمت پر گوشت فروخت کرنے کی پاداش میں 110سے زائد دکانوں کو سیل کردیا گیا ہے اور بدھ کے روز میٹنگ میں ان دکانوںکے حوالے سے بھی بات کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گوشت کی جو ریٹ مقرر کی گئی ہے اس سے زیادہ اگر کوئی بھی قصاب مرتکب پایا گیا تو اس کیخلاف فوری کارروائی ہوگی۔ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ 100گرام سے زیادہ اجڑی کی اجازت نہیں ہوگی چاہیے وہ کلیجہ کی صورت میں ہو یا پھر اور طرح کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بدھ کو صوبائی انتظامیہ،کوٹھداروں اور کشمیر اکنامک الائنس نمائندوں کے درمیان تیسرے دور کی بات چیت ہوئی۔
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد ہی گوشت کی نئی قیمت مقرر کی گئی ہے۔ بدھ کو پہلے ڈائریکٹر امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ساتھ طرفین کی میٹنگ ہوئی،جس کے بعد صوبائی کمشنر پی کے پولے کی سربراہی میں ایک اور میٹنگ منعقد ہوئی،جس میں ہول سیل مٹن ڈیلرس کے صدر منظور احمد قانون اور جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی،بوچرس ایسو سی ایشن کے صدر خضر محمد ریگو اور کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد دار نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران طرفین نے اپنے دلائل پیش کئے جس کے بعد گوشت بغیر اوجڑی کی قیمت535فی کلو اور معہ100گرام اوجڑی490روپے مقرر کی گئی۔ اس سے قبل طرفین کے درمیان پہلی دو میٹنگیں ناکام ہوئی تھیں۔27فروری کو ہونے والی میٹنگ میں انتظامیہ نے فی کلو گوشت کی قیمت515روپے مقرر کی تھی،جس پر مٹن ڈیلروں نے اتفاق نہیں کیا تھا۔
صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے کہا کہ عام لوگوں کے مفادات میں گوشت کی نئی قیمتیں مقرر کی گئی ہے،جبکہ اس دوران 2نفری سرکاری رپورٹ اور کشمیر اکنامک الائنس کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کو بھی ملحوظ نظر رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا’’ ہمیں اس بات کی امید ہے کہ پرچون گوشت فروخت کرنے والے دکاندار نئی قیمتوں پر من و عن عمل کریں گے،جبکہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے افسراں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ نئی قیمتوں کو سختی کے ساتھ لاگو کیا جائے،اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی جگہ اضافی قیمتیں وصول نہ کی جائے۔ ہول سیل مٹن ڈیلرس کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کہا کہ میٹنگ اچھے ماحول میں منعقد ہوئی،اور بہت جلد وادی میں گوشت دستیاب ہوگا۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے کنونئر فاروق احمد ڈار نے کہا کہ بیرون ریاستوں کی منڈیوں کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے اپنی رپورٹ انتظامیہ کو پیش کی تھی جس میں518.5روپے گوشت فی کلو درجہ اول بغیر اجڑی بتایا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ4ماہ سے وہ انتظامیہ اور مٹن ڈیلروں کے درمیان ثالثی کا کرادار ادا کر رہے ہیں اور بالا آخر یہ معاملہ حل ہوا،اور اب لوگوں کو چور بازاری میں600سے700روپے میں گوشت خریدنا نہیں پڑے گا۔ سرکار نے  نومبر میں گوشت کی فی کلو قیمت480روپے مقرر کی تھی،جس کو مٹن ڈیلروں نے ماننے سے انکار کیا تھا جبکہ27فروری کو ہوئی دوسری میٹنگ میں فی کلو گوشت کی قیمت515روپے مقرر کی گئی تھی،جس کو بھی مٹن ڈیلروں نے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اس عرصے میں انتظامیہ نے کاروائی عمل میں لاتی ہوئے قریب110 قصابوں کی دکانیں بھی سیل کی جبکہ94کیس بھی درج کئے۔