گور نمنٹ ہائی سکول کسبلاڑی:درجہ2005میں تو بڑھا لیکن عملہ منظور نہ ہوا

 
مینڈھر//سب ڈویزن مینڈھر کے تعلیمی زون منکوٹ کا گورنمنٹ ہائی سکول کسبلاڑی میںسٹاف کی قلت کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بُری طرح سے متاثر ہو رہی ہے ۔اس سکول میں اس وقت 250سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں لیکن ان بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کےساتھ ساتھ دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔مقامی لوگوںنے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ سکول کو 2005میں ہائی سکول کا درجہ دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ابھی تک سٹاف ہی فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل تاریک ہو تا جارہاہے ۔علاقہ کے سرپنچ نے بتایا کہ سکو ل کا درجہ بڑھانے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے سکول میں زیر تعلیم طلباءکی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت نویں اور دسویں جماعت کے طلباءکو تعلیم فراہم کرنے کےلئے صرف ایک ماسٹر گریڈ ٹیچر اور ایک ہیڈ ماسٹر موجود ہیں لیکن کو ئی بھی نیا ٹیچر تعینات نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بچے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہائی سکول کسبلاڑ ی ایسے مرکز میں واقع ہے جہاں پر اس وقت ہائر سکینڈری سکول درکار تھا لیکن انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ہائی سکول میں ہی سہولیات دستیاب نہیں رکھی گئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہائر سکینڈری سکول نہ ہونے کی وجہ سے دسویں جماعت کے بعد علا قہ کی سینکڑوں لڑکیاں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی ۔مقامی لوگوںنے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پہاڑی علا قوں کی عوام کو ہمیشہ سے ہے نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مذکورہ علا قوں کی عوام پسماندہ طرز کی زندگی بسر کرنے پر مجبو ر ہوچکی ہے ۔انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سکو ل میں سٹاف کی قلت کو پورا کیا جائے ۔چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ نے بتایا کہ سکول کا درجہ بڑھائے جانے کے بعد ابھی تک سٹاف کی منظوری عمل میں نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے مذکورہ سکول میں تعلیم نظام متاثر ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں اعلیٰ انتظامیہ کو تحریری طورپر لکھا جائے گا ۔