گور نمنٹ مڈل سکول کگیان کی عمارت غیر محفوظ

مینڈھر//کسبلاڑی ایجوکیشن زون کے گور نمنٹ مڈل سکول کگیان کی حالت انتہائی خستہ ہونے کی وجہ سے طلباءکی تعلیم بُری طرح سے متاثر ہو رہی ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ 2014میں آئے سیلاب اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے مذکورہ سکول کی عمارت بھی متاثر ہو ئی تھی جس کے بعد اس عمارت ی چھت سے بارشوں کے دنوں میں پانی ٹکپتا رہتا ہے جبکہ بچوں اور سکول کا ساز و سامان رکھنے کےلئے صرف 1کمرہ بچا ہو ا ہے جس میں 8کلاسوں کے بچوں کو جمع کر کے تعلیم دی جاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ ریاستی و مرکزی حکومت سرکاری سکولو ں میں بچوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہے لیکن دیہی علا قوں میں قائم کردہ تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔کسبلاڑی زون میں آنے والے کگیان سکول میں اس وقت 80سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ کو تعلیم فراہم کرنے کےلئے 5ٹیچر بھی تعینات کئے گئے ہیں ،لیکن سکول میں بنیادی سہولیات کی قلت کی وجہ سے بچوں کو پڑھائی متاثر ہو رہی ہے ۔علا قہ کے سرپنچ نے محکمہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ غریب لوگوں کے بچوں کا مستقبل جان بوجھ کر تباہ کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکول کے اندر بچوں کے بیٹھنے کیلئے ایک ہی کمرہ ہے جس میں سامان بھی ہے اور بچے بھی بٹھائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے ایک کمرہ مزید بنایا تھا لیکن 2014کے طوفانی بارشوں میں اس کمرے کا چھت اور دیواریں متاثر ہو ئی ہیں ۔انھوں نے مزید کہا کہ 2012-13میں تین کمرے سرکار کی طرف سے دئیے گئے تھے لیکن محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران نے مبینہ طور پر ان کمروں کو کسی دوسری جگہ پر منتقل کر دیا ۔سرپنچ نے کہاکہ سکول کی اراضی دس کنال ہے لیکن اس کے باوجود بھی عمارت کے ساتھ ساتھ کھیل کا میدان و دیگر سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقامی لوگوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے 2011میں مذکورہ سکول کا درجہ بڑھا کر پرائمری سے مڈل سکو ل کیا تھا لیکن عمارت و دیگر سہولیات کی طرف کو ئی توجہ نہیں دی ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بچوں کے بہتر مستقبل کےلئے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر مینڈھر نے کہاکہ وہ سکول کا دورہ کر کے اعلیٰ آفیسران کو تحریر ی رپورٹ پیش کرینگے تاکہ بچوں کےلئے مزید عمارت کا بندو بست کیا جائے ۔