گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول جکیاس:عمر 18سال،طلباء350، بیت الخلاء معقول نہ کلا س روم

ڈوڈہ //ڈوڈہ کے تعلیمی زون بھٹیاس میں آج سے اٹھارہ برس قبل قائم کئے گئے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول جکیاس میںجہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے وہیں 10 لیکچرار سمیت تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی 21 اسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ 350 طلباء کے لئے دو لیکچرار، چار ماسٹر گریڈ و 3 ٹیچر تعینات ہیں جس کے نتیجے میں تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے۔کشمیر عظمیٰ کو ملی تفصیلات کے مطابق تحصیل چلی پنگل میں 2003 میں قائم کی گئی گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول جکیاس میں زیر تعلیم 350 بچوں کے لئے ایک پرنسپل و کیمسٹری و زولوجی کے لیکچرار ہی تعینات ہیں اور چار ماسٹر گریڈ و 3 ٹیچر موجود ہیں جبکہ انگریزی، اردو و دیگر شعبوں سے وابستہ لیکچرار کی 10، 5ٹیچر،ایک اکاؤنٹ اسسٹنٹ، 1 جونیئر اسسٹنٹ، ایک لائبریرین و درجہ چہارم کی تین اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ادارہ میں طالبات کے لئے بیت الخلا بھی نہیں ہے جبکہ نویں سے بارہویں جماعت کے لئے صرف تین کلاس روم موجود ہیں۔ہائر سیکنڈری سکول جکیاس کیایک استاد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کلاس رومز کی کمی کو لے کر انہوں نے اعلیٰ حکام سے مزید 10 کمرے تعمیر کرنے کے لئے فنڈس واگذار کرنے کی سفارش کی ہے تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل و آرٹس شعبوں میں زیر تعلیم بچوں کے لئے علیحدہ کلاس روم درکار ہیں۔سرپنچ پنچائت بدھلی دانش ملک نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول جکیاس میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی قلت و بنیادی ڈھانچے کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ میں زیر تعلیم طلاب کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے حکام سے خالی پڑی اسامیوں کو پورا کرنے و بنیادی ڈھانچے کی کمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔