گورنر کے بیان پرنیشنل کانفرنس سیخ پا | عہدے کی غیر جانبداری اور اعتباریت پر سوالیہ

سرینگر//جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کے ریمارکس غیر آئینی ہیں اور گورنر کے عہدے کی غیر جانبداری اور اعتباریت پر سوالیہ نشان ہیں۔ ایک مشترکہ بیان نے پارٹی لیڈران نے گورنر کو یاد دلایا کہ وہ ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں جس کی رو سے وہ ریاست اور ملک کے آئین کے محافظ ہیں۔نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ گورنر کے اعلیٰ عہدے کا احترام کیا ہے اور اس کے وقار کو برقرار رکھا ہے ، تاہم اس عہدے پر براجمان شخص نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جو جمہوری تقاضوں، معیار اور اصول کے منافی ہے۔پارٹی لیڈران نے کہا کہ بدعنوانوں کو تحفظ دینے کا کوئی حامی نہیں تاہم بے بنیاد اور من گھڑت رائے زنی کرکے کسی یا ہر ایک سیاست دان اور سرکاری ملازم کی ساکھ خراب کرنے کیلئے کردار کشی کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں اور ایسے ریمارکس براہ راست گورنر کی طرف سے آنا انتہائی قابل مذمت ہیں۔ نیشنل کانفرنس لیڈران ریاستی گورنر کی طرف سے پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کیخلاف دیئے گئے بیان پر شدید برہمی اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گورنر موصوف کے ریمارکس کو بے ہودہ قرار دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کا سیاسی کریئر باوقار اور قابل ستائش رہا ہے ، وہ 3بار رکن پارلیمان رہنے کے علاوہ واجپائی سرکار میں 3سال تک مرکزی وزیر بھی رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ 6سال تک جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور ریاست جموں وکشمیر کی کلیدی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں۔ اُن کی شہرت ، ساکھ اور قد کیخلاف کسی بھی قسم کی کردار کشی پارٹی اور پارٹی کیڈر ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریگی۔مشترکہ بیان پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، رکن پارلیمان محمد اکبر لون، جسٹس حسنین مسعودی، محمد شفیع اوڑی، عبدالرحیم راتھر، چودھری محمد رمضان، سرجیت سنگھ سلاتیہ، اجے سدھوترا، میاں الطاف احمد، پیرزادہ غلام احمد شاہ، مبارک گل، آغا سید روح اللہ مہدی، دیوندر سنگھ رانا، ناصر اسلم وانی، شمیمہ فردوس، ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، مشتاق بخاری، سکینہ ایتو، میر سیف اللہ، عرفان احمد شاہ، سجاد احمد کچلو، رچپال سنگھ، جاوید رانا، عبدالغنی ملک، ڈاکٹر محمد شفیع، بملا لتھرا، صبیہ قادری، ڈاکٹر بشیر ویری، علی محمد ڈار، شبیر احمد کلے، الطاف احمد کلو، نذیر احمد ملک، خلیل بند، سید بشارت بخاری، نذیر احمد گریری، شیخ اشفاق جباری، عبدالمجید لارمی، کمل ارورا، شوکت حسین گنائی، فاروق احمد شاہ، قیصر جمشید لون، آغا سید محمود، اعجاز جان، شوکت احمدمیر، سلمان ساگر، عمران نبی ڈار، ایس ہربنس سنگھ، ڈاکٹر سجاد اوڑی، شیخ بشیر احمد، خالد نجیب سہروردی، برج موہن شرما، پی انگ چک، رام پال، قمر علی آخون، ٹھاکر کشمیر سنگھ، حاجی حنیفہ، رحیم داد، وجے بقایا، دیپندر کور، حامی محمد حسین، جگدیش سنگھ آزاد، ماسٹر نور حسین، ایس ترلوچن سنگھ وزیر، اخلاق خان، جنگ سنگھ سوڑھی، محمد اقبال بٹ، بی آر کنڈل اور سید اصغر علی کے علاوہ کئی لیڈران نے جاری کیاہے۔ اسی دوران پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس میں گورنر کے ریمارکس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا کہ گورنر صاحب اپنے عہدے کے تقدس کو بار بار پامال کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اجلاس سے ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد اور خواتین ونگ کی صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری نے خطاب کیا۔ 
 
 
 

رشوت کیخلاف مہم کا خیر مقدم :مظفرشاہ

جنگجوئوں کو مہم کا حصہ بنانا گورنر کے شایان شان نہیں

سرینگر// عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر احمد شاہ نے گورنر ستیہ پال ملک کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ گورنر موصوف نے جس انداز سے ریاست میں ہوئی رشوت ستانیوں کا پردہ چاک کرنے کااشارہ دیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس بیان کو صرف کاغذی سطور تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کو عملانے کی ضرورت ہے۔ 1947سے لیکر آج تک ریاست جموں وکشمیر کے تمام سیاسی قائدین اور منتظمین کے ساتھ ساتھ بیروکریٹس کی جائیدادوں کا محاسبہ کرکے منظر عام پر لایا جائے اور اس عمل کو میرے نانا مرحوم شیخ محمد عبداللہ اور میرے والد مرحوم غلام محمد شاہ کے گھر سے ہی شروع کیا جائے اور یہ سارا عمل ایک مقررہ وقت کے اندر مکمل کرکے ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ نہیں تو لوگوں کا من بہلانے کیلئے ایسے بیانات کو محدود کیا جائے۔ مظفر شاہ نے گورنر کے اس بیان کو بھی ہدف تنقید بنایا جس میں انہوں نے جنگجوئوں کو اس عمل میں شامل ہونے کا مشورہ دیا ہے جو کہ اس منصب کے وقار اور آئینی حیثیت کے کلیتاً خلاف ہے۔ ہاں گورنر  نے اگر چہ اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے اپنی پشیمانی کا اظہار کیا ہے مگر اس کے برعکس نتائج کی ذمہ داری گورنر موصوف پر ہی عائد رہیگی۔
 
 

گورنرکو آئینی نظم ونسق کا لحاظ کرنا چاہئے :سوز

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے رشوت ستانی کے خلاف دئے گئے سخت ریمارکس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’گورنر ستیہ پال ملک کبھی کبھی اپنی سادگی میں صفائی کے ساتھ کچھ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ جن سے خود اُن کے نظم و نسق کے سسٹم میں خلل پڑنے اور مشکلات پیدا ہونے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ وہ عوامی مسائل پر صفائی سے بات کرنا چاہتے ہیںمگر اُس بات کا ہمیشہ احتمال رہے گا کہ اُن کی باتوں کے ردعمل سے خود گورنر کے نظام میں خرابی پیدا ہونے کا خطرہ رہے گا۔ مثال کے طور وہ اس بات پر بولتے رہتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر میں بہت رشوت خوری ہے اور اس رشوت خوری کو وہ مذموم سمجھتے ہیں اور اُسی سانس میں وہ ریاست کے سارے سیاسی لیڈروں کو لپیٹ کر مذمت کرتے رہتے ہیں۔یہ طریقہ کار غیر آئینی بھی ہے اور غلط بھی۔ میری نظر میں رشوت خوری کی مذمت کرنا بذات خود صحیح ہے لیکن جب گورنر ایک عامیانہ بیان دیتے ہیں اور ریاست جموںوکشمیر کے سبھی سیاسی لیڈروں کو اپنے ریمارکس میں لپیٹ لیتے ہیں تو اُس وقت اُن کا کہنا نامناسب ہو جاتاہے۔ ‘‘