گورنر جناب ستیہ پال ملک کے نام

آداب! اُمید ہے کہ اپنی بے حد مصروفیات کے باوجود آپ اس خط کا مطالعہ ضرور کریں گے۔ راقم آپ کا نہ مشیر ہے اور نہ ناصح ، البتہ مظلوم کشمیریوں کا ایک فرد بشر ہونے کے ناطے آپ کے سامنے تاریخی پس منظر میں چند حقائق پیش کر نے کی جسارت کر تا ہوں تاکہ کشمیر کے بارے میں آپ کی صحیح جان کاریوں میں مزید اضافہ ہو جائے ۔
 جب سے آپ گورنر ریاست جموں وکشمیر مقرر ہوئے ہیں، آپ کے اندازِ کلام و اسلوبِ گفتگو سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ ملک کشمیر میں امن، امان قائم کرنے کی چاہت رکھتے ہیں تاکہ عوام کو راحت و سکون نصیب ہو۔ اس حوالے سے آپ کو یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آخر کشمیری قوم کیونکر ہندسوستان سے برگشتہ ہوئی ہے۔
 جناب والا!تقسیم ِہند کے متفقہ فارمولے کے تحت ہندو اکثریتی علاقے ہندوستان کے حصے بن گئے جب کہ مسلم اکثریتی حصے پاکستان کہلائے۔ اُس وقت ملک کشمیر میں مسلمان کل آبادی کے نوے فیصد سے زائد تھے۔ اگر چہ جو نا گڑھ اور حیدر آباد دکن میں مسلم حکمران تھے ، مگر وہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی، اس لئے یہ دونوں ریاستیں پاکستان کا حصہ حکمرانوں کی خواہش کے باوجود نہ بن سکے۔ اس کے برعکس نیشنل کا نفرنس کے جنم داتا شیخ عبداﷲ نے ملک کشمیر کے اکثریتی عوام کے خواہشاتا اور جذبات کی اَن دیکھی کر کے پنڈت نہرو کے ساتھ ہاتھ ملا یا ۔ وزیر اعظم ہند نہر وجی نے وشواس گھات کرتے ہوئے 9 ؍اگست 1953ء کو شیخ عبداﷲ کا تختہ پلٹا، انہیں جیل میں ڈالا اور بخشی غلام محمد کو ریاستی وزیراعظم کے منصب جلیلہ پر بٹھایا۔ قبل ا زیں پاکستان کے قبائلی یلغار کے پس منظر میں27؍ اکتوبر 1947ء کو ہندوستان نے ملک کشمیر پر فوجی کاروائی کر کے ریاست کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس فوجی مشن میںمہاراجہ ہری سنگھ کی مرضی اور شیخ عبداللہ کی خواہش قدم بہ قدم شامل حال تھی۔اگلے دن پنڈت نہرو نے اپنے بر طانوی ہم منصب کو خط لکھ کر یہ یقین دہانی کرائی کہ کشمیر میں حالات ٹھیک ہوتے ہی یہاں کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اس خط کی کاپی پنڈت نہرو نے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھی بھیج دی۔ کچھ دن بعد پنڈت نہرو نے لیاقت علی خان کو ایک اور خط لکھ کر اپنا یہ وعدہ دہرایا۔ اسی دوران پنڈت نہرو نے قبائلی یلغار کے خلاف کشمیر مسئلہ اقوام متحدہ میںلے لیا۔ بعدازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے اپنے خطاب میںاپنا وعدہ دہرایا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بھر پور موقع دیا جائے گا۔ پھر جب کبھی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا تو ہندوستانی مندو ب نے اپنے ملک کا یہی موقف دہرایا کہ کشمیریوں کو اپنا پیدائشی حق دیا جائے گا ۔ دریں اثناء کشمیر حل کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل نے کشمیر حل کے موضوع پر قریباََ دو درجن قرار دادیں پاس کیں۔ علاوہ ازیں پنڈت نہرو نے پارلیمنٹ میں بھی یہ اعلان کر دیا کہ کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔ حتیٰ کہ پنڈت نہرو نے اپنی ریڈیائی تقاریر اور عوامی جلسوں میں بھی ا س وعدے کا اعادہ کئی بار کیا مگر مئی 1964 میںاپنی وفات تک پنڈت نہرو نے مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لئے خلوص اور ایمانداری سے کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن کام نہ کیا۔  
ہز ہائی نیس !1947ء میں تقسیم ہند کے وقت جموں خطے کے مسلمانوں کو اندھا دھند تہ تیغ کرکے ان کی نسلی تطہیر کی گئی۔ مہاراجی سپاہ نے ظالم مہاراجہ پٹیالہ کے سپاہیوں اور آدم خور بلوائیوں سے مل کرجموں میں تین لاکھ سے زائد مظلوم مسلمانوں کو ہلاک کرڈ الا ، مسلمانوں کی رہائشی بستیاںا ور تجارتی املاک کو آگ لگا کر تباہیاں مچا دی گئیں ، خواتین کی اغواء کاریوں اور بچوں کی ہلاکتوں کا حال بیان کر نا  میرے ناچیزقلم سے ممکن نہیں مگر اس کے باوجود سر زمین کشمیر کے مسلمانوں نے غیر مسلموں پر کوئی آنچ نہ آنے دی، اور ان کے مال وجان اور عزت وآبرو کا تحفظ کر نے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ یہ اسی حقیقت کااعتراف تھا کہ گاندھی جی نے ان صبر آزما اور جگر سوز حالات میں اعلان کیا تھا کہ مجھے کشمیر سے اُمید کی کرن نظر آتی ہے۔ وقت کا پہیہ گردش کر تارہااور مسئلہ کشمیر دن بہ دن الجھتا رہا۔ 1965ئمیں ہند پاک کے درمیان دوسری جنگ چھڑ گئی۔ دونوں اطراف سے اتنا ساراکا فی جانی و مالی نقصان ہوا کہ انسانیت شرم سار ہوگئی۔  جنگ بندی کے بعدوقت کے روسی صدر نے دونوں ممالک کے سر براہان آنجہانی لال بہادر شاستری اور مرحوم جنرل محمد ایوب خان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جنوری 1966ئمیں تاشقند بلایا تاکہ چوٹی کانفرنس کا انعقاد کر کے کشمیر کا دردسر ختم کیا جائے۔ تاشقند میں امن مذاکرات صحیح سمت میں جاری تھے ا ور میزبان روسی صدر نے دونوں سر براہوں کو کشمیر حل کرنے پر راضی بھی کر دیا تھا مگر افسوس کہ اسی دوران مذاکرات ہند کے مایہ ناز پر دھان منتری لال بہادر شاستری وفات پا گئے اور کشمیر حل پھر ایک بار ایک خواب ِ پریشان بن کر رہا۔ مسز اندرا گاندھی ہندوستان کی وزیر اعظم بن گئیں تو انہوںنے پاکستان کے دو ٹکڑے کر کے مسئلہ کشمیر کو اپنے طور دفن کیا لیکن 1973ء میں اندرا جی نے اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے شملہ میں چوٹی کانفرنس کی جس میں ایک دوطرفہ سمجھوتہ طے پایا ۔اس سمجھوتے میں اندرا جی نے مسئلہ کشمیر کوتصفیہ طلب تسلیم کر کے اس کے حتمی حل پر اپنا قول وقراردیا۔ا س کے فوراً بعد اندرا جی نے شیخ عبداللہ کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں محاذ رائے شماری کی تحریک سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا ۔ شیخ نے کرسی کی شرط پر نیشنل کانفرنس کا احیاء کرکے انڈیا کی نہ سہی مگر اپنی گھڑی کی سوئیاں پیچھے کردیں اورمحاذی تحریک کو آوارہ گردی کہہ کر کشمیری نوجوانوں کو اپنے  آپ سے مایوس کر دیا ۔اس مایوسی کے باوجود کشمیر مسئلہ کی چنگاری اندر ہی اندر سلگتی رہی جس نے آگے مسلم متحدہ محاذ کی ا نتخابی سیاست کا روپ دھارن کر لیا۔ راجیو گاندھی اورڈ اکٹر فاروق کے انتخابی اتحاد نے مف کے خلاف دھاندلیوں اور دست آزمائیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر کے مشتعل کشمیری نوجوانوں کو جمہوری جد وجہد سے اورزیادہ مایوس کردیا ۔ اس کے نتیجے میں 1990میں کشمیر میں عسکری تحریک کی شروعات ہوئی جو اسی بدلی ہوئی سوچ کی صدائے بازگشت تھی ۔ کیا عسکریت کشمیر کے دردکا درماں ثابت ہوگی،اس سوال پر بحث کو ٹالتے ہوئے یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ زیر زمین مسلح کارروائیوں کا مقصد بھی ہندوستانی سیاست کاروں کو کشمیری عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے یاد دلاناتھا۔ ہندوستانی سرکار نے کشمیریوں کے احساس بے گانگی اور جوانوں کی سیاسی سوچ کا جواب سیاسی بصیرت اور فہم وتدبر سے دینے کے بجائے کشمیر میں افسپا اور شورش زدہ قانون کے نفاذ کاسہارا لیاجس کے نتیجے میں یہ جنت ارضی ایک بد ترین مقتل بنی، بے شمار کشمیری نوجوان مارے گئے ، عزتیں لوٹی گئیں ، بستیاں خاکستر کی گئیں ، معیشت برباد کی گئی ، یتیموں ، بیواؤں اور نیم بیواؤں کی فوج کھڑی کر دی گئی، بے نام قبروں کی دنیا آباد کی گئی، زیر حراست ہلاکتوں اور فرضی جھڑپوں کا بہی کھاتہ کھولا گیا ۔ ا س وقت غیر سر کاری اعداد دشمار کے مطابق دس ہزار کے قریب کشمیری نو جوان زیر حراست لاپتہ ہیں۔ غرض پچھلے 28 سال کے دوران کشمیریوں کے دکھ درد سمجھنے کے علی ا لرغم ان پربے تحاشہ نا انصافیاں، زیادتیاں اور انسانی حقوق کی پا مالیاں رو ارکھی گئیں ۔بالفاظ دیگر حکومت ہند نے کشمیر کو واقعیاتناmishandleکیا کہ آج بھی کشمیر مسلسل جل رہاہے بل،کہ تاریخ میں بھائی چارے اور آپسی میل موانست سے رہنے والے کشمیری مسلمان اور کشمیری پنڈت بھی ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ کیا اس ساری داستان کو ’’سر حد پار کی دہشت گردی ‘‘ کہہ کر حالات کو اس ڈگر تک پہنچانے میں دلی کی اپنی ذمہ داری کی اَن دیکھی کر نا خود فریبی نہیںہے ؟
 جناب عالی! 1996میں مرکز میں بر سر اقتدار دیوی گوڑا حکومت نے گریٹراٹونامی کے وعدے سے ریاست میں اسمبلی انتخابات منعقد کرائے ۔ان میں شرکت کر نے کے لئے لندن کی گلیاںچھوڑ کر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹرفاروق کشمیر چلے آئے اور انتخابی میدان میں کود گئے ۔ کشمیری عوام نے الیکشن میں جوش وخروش سے حصہ نہ لیا مگر این سی نے واضح اکثریت حاصل کر کے اپنی حکومت بنا دی۔ سرینگر میں ڈاکٹر فاروق کی بہ حیثیت وزیراعلیٰ حلف برداری کے موقع پر ہند کے قدآور سیاست دان موجودتھے جو اس بات کا بلیغ اشارہ تھا کہ اب کشمیر پالیسی مس ہینڈل نہ ہوگی بلکہ کشمیر یوں کے دل بھی جیتے جائیں گے اور دماغ بھی ۔ یہ بھرم ا س وقت ٹوٹا جب اپنی مدتِ کار کے اختتام سے ذراقبل ریاست کی قانون ساز اسمبلی نے اٹونومی قرارداد منظور کی اور وقت کے پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپائی نے اسے گھا س تک نہ ڈالا ۔ اس قرارداد کی وہ دُرگت کی گئی کہ الاماں والحفیظ ۔ یوں معلوم ہوا کہ مر کز کی طرف سے کشمیرمس ہینڈلنگ بدستور قائم ودائم ہے ۔ قبل ازیں ایک موقع پر وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے کشمیر یوں کو بدون ِ آزادی آسمان کی حدتک جانے کا وعدہ برکنا فاسو کی سرزمین سے دیا جب کہ بی جے پی کے قائد اٹل بہاری واجپائی نے بطور پردھان منتری کشمیر حل کے لئے آئین ہند کی شرط کی بجائے ’’انسانیت کے دائرے‘‘ کی اصطلاح وضع کی مگر دونوں وزرائے اعظم کی یہ لن ترانیاں صرف زبانی جمع خرچ ثابت ہوئیں۔2004میں مرکزی سرکار زیر قیادت من موہن سنگھ نے کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لئے سہ رُکنی مصالحتی کمیٹی قائم کی، دوبار گول میز کانفرنسیں طلب کیں ، سنٹر سٹیٹ ریلیشنز سمیت دیگر امور کا جائزہ لینے کے لئے آٹھ کمیٹیاں معرضِ وجود میں لائیں جن کا مشن یہ تھا کہ یہ کشمیر کے موضوع پر اپنے اپنے میدان کار کے تعلق سے سفارشات مر تب کریں ، مگر بے سود۔آج یہ رپورٹیں مرکزکے کاغذی انبار میں کہیں دھول چاٹ رہی ہیں۔ 2014ء میں مرکز میں نریندر مودی کی سرکار قائم ہوئی ،اس نے مفتی سعید کی پی ڈی پی سے مل کر ریاست کی ساجھا سرکار بڑے بڑے وعدوں کی بنیاد پر بنائی۔ یہ سرکار کشمیریوں کے غم کا مداوا نہ کرسکی اِلا یہ کہ انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے دفعہ 370 اور دفعہ 35A کا خاتمہ کرنے کا پراکسی وار عدالت کے ایوان میں لے گئی ۔کام یہ ہے مگر زبان پر انسانیت، کشمیریت ، جمہوریت کا نغمہ ہے۔ 
 عالی جناب !1947ء سے آج تک ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اقتصادی معاشی، اخلاقی و سیاسی طور توڑ کے رکھ دیا گیا ہے۔ ذرا یہ سرکاری اعداد شمار کا ملا حظ کیجئے :  (ا) ریاست میں فی کس سالانہ آمدنی اوسط ہندوستانی سے کم ہے (۲) یہاں خواندگی کی شرح اوسط ہندوستانی ریاستوں سے نیچے ہے (۳) ریاست میں بے روزگاری شرح اوسطاً ہندوستانی  ریاستوںسے زیادہ ہے ۔ ممبئی کے ایک ادارے نے ہندوستان میں بے روزگاری کے حوالے سے سروے کر کے یہ انکشافات کئے ہیں کہ ہندوستان میں 19 سال سے 29 سال کی عمر کے نو جوانوں میں بے روزگاری شرح 12 فیصدی ہے جب کہ ریاست جموںو کشمیر میں یہ شرح 25 فیصدی سے زائد پا ئی گئی (۴) ریاستی عوام دانے دانے کے لئے محتاج ہیں اور غذائی ضروریات کے لئے دوسری ریاستوں کے دست نگر ہیں ۔ پچھلے سال ریاستی عوام نے روز مرہ خوردنی ضروریات کو ریاست سے باہر علاقوں سے خرید کر 45 ہزار کروڑ روپیہ خرچ کئے تھے حالانکہ یہاں قدرتی وسائل، زرعی زمینیں اور افرادی قوت کی بہتات ہے۔ (۵) سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں رشوت ستانی اور بد نظمی معمول بن چکی ہے کہ عام انسان کو انصاف ملنا مشکل ہے (۶) ریاست میں شراب نوشی، نشیلی ادویات کا استعمال ، بدکاری بے راہ روی اور دوسری انسانیت دشمن حرکات پر کوئی قدغن نہیں کہ لوگ بے دست وپا ہیں۔ (۷) ریاستی عوام کو روشنی کے لئے معقول بجلی کی فراہمی نہیں ہے جب کہ آبی وسائل کی بہتات ہے۔ یہ المیہ ہے کہ ریاستی آبی وسائل پر مرکزی سرکار کے ادارے NHPC نے کئی پاور پروجیکٹ تعمیر کر کے اَربوں روپیہ کما لئے ہیں، جب کہ ریاست کی ترقی اور یہاں روزگار میسر کرنے کے لئے کار خانے لگانے کے لئے بجلی کی فراہمی لازمی ہے۔ کیا یہ صریح نا انصافی نہیں ہے؟ آپ کو جان کاری دوں کہ ریاست میں مسلمان کل آبادی کا دوتہائی حصہ سے زائد ہے مگر سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں یہاں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ کیوں؟ کیا مسلمان تعلیم و تربیت یافتہ نہیں ہیں؟ مختصر اً 1947ء سے آج تک کشمیریوں کو ذلت، رسوائی، بے روزگاری اور نا انصافیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ اگر آپ جناب واقعی چاہتے ہیں کہ کشمیر میں خون ِنا حق کا بہنا بند ہو جائے اور یہاں سازگار حالات قائم ہوجائیں توآپ وزیر اعظم نریندر مودی کو انسانیت کے جذبات سے سر شار ہو کر سیاسی تدبر و اخلاقی جرأت کو اپنا کر ضروری اقدامات اُٹھانے کی اہم ضرورت ہے۔ اس لئے کہ پچھلے ستر برس سے ہندوستانی سرکاریں کشمیریوں کے دل جیتنے میں نا کام ہو کر آرہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر کا پرامن حل تینوں فریق سر جوڑ کر خلوص دل کے ساتھ نکالیں ، اُس کے لئے ماحول کو پرامن و سازگار بنانے کے لئے یہ قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے:(ا) مر کز اعلاناً اپنی غلط کشمیر پالیسی میں ردوبدل کرے اور ا س کے لئے افسپا کو ہٹانے سے شروعات کرے۔ (۲) عبوری دور کے لئے ریاست جموں و کشمیر کی اندرونی خود مختاری بحالی کا روڑ میپ تیار کیاجائے ۔ (۳) یہاں کے قیدی جوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ (۴) ریاست کے شہروں قصبوں و دیہی علاقوں سے تعینات سپاہیوں کو بیرکوں کی طرف بتدریج موڑا جائے ۔ (۵) اسلام آباد کے ساتھ امن ومفاہمت کے لئے بات چیت کا بنددروازہ کھولا جائے ۔ ہندوستانا اور پاکستا ن دونوں مل کربھوک ، بیماری ، ناخواندگی ، بے روزگاری کے شکار عوام کے مفاد میں اپنے دفاعی بجٹ کو پچاس فی صد کم کرکے عوام کو لاحق ان مسائل سے چھٹکارا پانے کے لئے  تعاونو اشتراک کریں۔دونوں ممالک غیر پیدا واری شعبوں یعنی دفاعملک کے نام پر اسلحہ سازی پر اربوں کھربوں روپیہ پھونکنے سے بازآنے کا میکانزم وضع کریں ۔ میں آخر پر دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو دلی کی غلطیاں سدھارنے اور ا س ضمن میں اپنا سیاسی رول حقیقت پسندانہ اور امن پرورانہ انداز میں نبھانے کی توفیق عطا کرے اور جب آپ یہاں سے گھر لوٹیں تو آپ کا ضمیر مطمئن ہو کہ آپ نے کشمیر کے تعلق سے حق کو نہ صر ف پہچانا بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ ہورہیںنا انصافیوں اور زیادتیوں کا قلع قمع کروایا ، خاص کر ظلم وزیادتی اور خونِ نا حق بند کروایا ۔ 
شکریہ 
آپ کا مخلص 
9858434696