’گوجری زبان :ماضی، حال اورمستقبل ‘

 جموں//جے اینڈکے اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈلنگویجز کے زیراہتمام ’’ گوجری زبان۔ماضی ، حال اور مستقبل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دوروزہ کانفرنس منعقدکی گئی جس میں مقررین نے گوجری زبان وقبائلی ثقافت کے ماضی ،حال اورمستقبل سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔اس دوران کانفرنس کاافتتاح خوراک ، شہری رسدات اور امور صارفین کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے کیا۔اس موقعہ پر تقریب کی صدارت محکمہ پشوومچھلی پالن عبدالغنی کوہلی نے کی جبکہ وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسرآڑڈی شرمامہمان ذی وقارکے طورپرتشریف فرماتھے۔ کانفرنس کا کلیدی خطبہ سابق وائس چانسلر باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی مسعوداحمدچوہدری نے پیش کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خوراک ، شہری رسدات اور امور صارفین کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے اعلان کیا کہ حکومت قبائلی عجائب گھر کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے لئے ضروری کام پہلے ہی شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوجری زبان کا مستقبل خوبصورت رہ چکا ہے،حال اچھا اور اس کا مستقبل روشن ہے۔انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت قبائلی طبقوں کی مجموعی ترقی کی وعدہ بند ہے ۔انہوںنے کہا کہ زبانوں اور تمدن کے فروغ کیلئے ریاستی حکومت نے کلچر اکیڈیمی کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔وزیر موصوف نے جموں یونیورسٹی کیمپس میں گوجری ریسرچ سینٹرکے قیام کے لئے حکومت کے تعاون کا یقین دلایا ۔اس سے قبل جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آر ڈی شرمانے یونیورسٹی میں گوجری ریسر چ سینٹر کے قیام کا اعلان کیا۔وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت قبائل کی ترقی کیلئے ہر طرح کے اقدامات کر رہی ہے اور قبائلی امور کی وزارت کا قیام اس کا ثبوت ہے۔انہوںنے کہا کہ اس وزارت کو 120کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں جو ریاست بھر میں قبائلی طبقوں کی بہبود کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔انہوںنے جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو گوجری ریسرچ سینٹر کے قیام کیلئے حکومت کو ایک منصوبہ پیش کرنے کے لئے کہا تاکہ اس سلسلے میں سرکار کی جانب سے ضروری تعاون فراہم کیا جاسکے۔وزیر نے کہا کہ حکومت گوجری زبان کو آٹھویں شیدول میںشامل کرانے کیلئے تگ دو کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس طبقے کے دانشوروں کو اس سلسلے میں ایک نقشِ راہ تیار کرنا چاہئے۔وزیرنے کہا کہ گوجری زبان کی خوبصورتی یہ ہے کہ سرحد پار رہنے والے لوگ بھی آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والی گوجری خبریں بھی سنتے ہیں۔چوددھری ذوالفقار علی نے کہاکہ زبان کے تحفظ کی ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوتی ہے اور انہیں اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان سکھانی چاہئے۔انہوںنے کہا کہ گوجر طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ وہ اپنی مادری زبان بولنا ، پڑھنا اور لکھنا سیکھ جائیں۔اس سے قبل بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری کے وزیر عبدالغنی کوہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوجوی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد گوجری تہذیب و تمدن اور زبان کو تحفظ فراہم کرنا اور فروغ دینا ہے۔تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ اس طبقے کو اپنا احتساب کر کے تعلیمی محاذ پر اپنی حصولیابیوں کا جائزہ لینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ کئی وزیر اور ممبران اسمبلی بھی اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تاہم اپنی بھلائی کے لئے اس طبقے کو ناخواندگی کے اندھیروں سے باہر آنا ہوگا۔وزیر نے گوجر طبقے کی بہبودی کیلئے سرکار کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی آگاہ کیا ہے۔اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری اکیڈیمی ڈاکٹر عزیز حاجنی نے کہا کہ کانفرنس نے گجر طبقے اور اس کے تہذیب و تمدن کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کرنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔انہوںنے گوجری زبان اور تمدن کے فروغ کے لئے ایک نقش راہ تیار کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اکیڈیمی مستقبل میں جموں اور کشمیر میں گوجری میلہ منعقد کرنے کی کوشش کرے گی۔اس موقعہ پربابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مسعود چودھری نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ گوجری زبان ایک میٹھی زبان ہے اوراس کالٹریچرکافی ضخیم اور امیرہے۔انہوں نے گوجری ادباء پرزوردیاکہ وہ ایساادب تخلیق دیں جوعالمی سطح پرسراہاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرعزیزحاجنی نے جب سے کلچرل اکادمی میں بطورسیکریٹری قلمدان سنبھالاہے تب سے ادارہ کی گوجری سیکشن کافی فعال نظرآرہی ہے۔انہوں نے وائس چانسلرپریونیورسٹی میں گوجری تحقیقی مرکزقائم کرنے پرزوردیا۔قبل ازیںکانفرنس کاآغاز وادی کشمیرکی گوجری گلوکارہ رضیہ اشرف کے سریلے گوجری گیت سے ہوا جس کے بعد ڈاکٹرعزیزحاجنی سیکریٹری کلچرل اکادمی نے پیش کرتے ہوئے مہمانوں کااستقبال کیا۔بعدازاں مقالات کے دوسیشن بھی منعقدکئے گئے۔اس دوران تقریب کی نظامت ایڈیٹرکم کلچرل افسر ڈاکٹرشاہنوازنے خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔  تقریب میں گوجری ادب سے تعلق رکھنے والے کئی سکالروں ، طالب علموں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔اس کے علاوہ گوجری کتب ورسائل کی نمائش کااہتمام بھی کیاگیا۔