گوجربکروال وگدی سپی طبقوں کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم:پروفیسربھیم سنگھ

 جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور پنتھرس کی جموں وکشمیر تشکیل نو تحریک کے بانی پروفیسر بھیم سنگھ نے یہاں راجوری پارٹی دفتر کے عہدیداران اور سینئرلیڈروںسے خطاب کرتے ہوئے جموںپردیش کے پونچھ اور راجوری کے لوگوں کوقومی پرچم ہاتھ میں لئے 1947سے سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لئے مبارکباد دی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے یہاں راجوری ڈسٹرکٹ پنتھرس پارٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جموں پردیش خاص طورپر بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن پر رہنے والے لوگوں کے ساتھ جموں وکشمیر حکومت کے ظالمانہ رویہ پر حیرت کا اظہار کیا ۔ پنتھرس پارٹی کے درجنوں لیڈر ریاستی حکومت اورانتظامیہ پر نظرانداز ی کا الزام لگاتے ہوئے اپنے مطالبات اور پرینٹشن لیکر ان کے پاس آئے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں درج فہرست ذات و قبائل اور پسماندہ علاقہ میں رہنے والے لوگوں کو ملنے والی راحت نہیں مل رہی ہے۔مقامی لیڈروں نے بتایا کہ درج فہرست ذات و قبائل جن میں سے بیشتر گجر، بکروال(مسلم برادری) اور گدی ہیں انہیں ہندستانی آئین کے تحت ملنے والی راحت اور سہولیات نہیں مل رہی ہے۔ جس کی اصل وجہ ہے دفعہ ۔370 جوجموں وکشمیر کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتی ہے اور دوسری وجہ ہے آرٹیکل 35(A)جو جموں وکشمیر حکومت کو وہاں کے باشندوں کے بنیادی حقوق کچلنے کا اختیار دیتی ہے ۔پنتھرس سربراہ نے راجوری کے لوگوں سے پنتھرس پارٹی کی تحریک کی حمایت کرنے کی اپیل کی جس سے جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے بنیادی حقوق یقینی بن سکیں جن کے ساتھ ان کی ہی زمین پر اجنبیوں جیسا سلوک ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جاری خون خرابہ روکنے کا واحد حل جموں وکشمیر کی تشکیل نو ہے جس سے تینوں خطوں وادی کشمیر، جمو ں پردیش اور لداخ کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔پروفیسر بھیم سنگھ کے ہمراہ پارٹی کے سینئر لیڈروں میںجنرل سکریٹری محترمہ انیتا ٹھاکر،شنکرسنگھ چب، شکتی سنگھ جموال شامل ہیں۔ اس میٹنگ کی صدارت راجوری کے ڈسٹرکٹ صدر اور آرمی سے ریٹائرڈ مشتاق چودھری نے کی۔اس  میٹنگ میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر کی دو جڑواں ریاستوں کے طورپر تشکیل نو کی جائے جس کا ایک گورنر اور ایک  ہائی کورٹ ہو۔