گنوادی ہےہم نے اسلاف کی میراث !

یونان ،مصر ،ہندوچین کے تمام علوم آٹھویں صدی عیسوی تک عربی میں منتقل ہوچکے تھے۔ مسلمانوں نے ان علوم کاصرف ترجمہ ہی نہیںکیا بلکہ انہیں سمجھنے کے بعدقابل فہم بھی بنایا اوران مبادیات پرارتقاء علوم کی منازل طے کیں۔ تاریخ انسانی میںمسلمانوں سے قبل کسی کوبنی نوع انسان کے علوم کے تمام جواہرکسی ایک خزانے میں منتقل کرنے کا افتخار حاصل نہ ہوسکاتھا۔ مغرب کی سرحدوں پران علوم کے دو مراکز تھے ؛ایک قرطبہ ،دوسرا پلرمو(سسلی)۔ ان دونوں مراکز سے علوم کی مشامِ جانفرا مغرب میںبھی پہنچنے لگی ۔ اس دور کامغرب عالم اسلام پررشک کرتاتھا۔ عالم اسلام صنعت وتجارت اورحرب و ضرب میں ہی ممتاز نہ تھابلکہ فلسفہ ،سائنس ،طب وقانون ہرمیدان میںیکتاتھا۔ مغربی ذہن جب اپنی غفلت سے بیدارہونے لگے تواس میںاسلامی فطانت اورعلوم کی طلب پیداہوئی۔ مشاہیراسلام کے کُتب کاترجمہ کیاگیا اور انہیںمغرب میںسبقاً سبقاً پڑھایاجانے لگا۔ فلپ ۔کےحتی ؔلکھتے ہیں:
’’طلیطلہ کے ایک آرچ بشپ ریمندؔ نے ایک دارالترجمہ قائم کیا ۔ جوعربی سے لاطینی میںتراجم کے فرائض انجام دیتا تھا۔اس ادارے کا سربراہ ایک اطالوی جراردآف کریمونا(Gerard of Cremona)تھا، جس نے خوکم ازکم اکہتّر (۷۱) نادرکُتب کاترجمہ کیا۔ اس کی مترجمہ کُتب کی فہرست میںبطلیموسؔ کی کتاب Almagist،ابن حنینؔ کا’’ترجمہ جالینوس‘‘الخوارزمیؔ کی ’’الجبروالمقابلہ‘‘ الکندی ؔ کی تصانیف ،ابن سینا کی ’’القانون ‘‘اور الزّواہری ؔ کی ’’جراحی اور تشریح الاعضاء ‘‘ پر مبنی کتب شریک ہیں۔ پندرہویں صدی عیسوی تک ’القانون ‘کی پندرہ بارلاطینی زبان میں اشاعت ہوچکی تھی۔ اسی طرح الزّہراوی کی کتب کے بے شمار نسخے لاطینی میںبار بار چھپے۔ان دونوں کُتب کوصدیوں تک یورپ کی درسگاہوں میںحرف آخرکی حیثیت حاصل رہی‘‘۔(Islam and the west. Pg.72)
تیرہویں صدی میںمائیکل اسکاٹؔ نے ابن رشدؔ کی تصانیف کولاطینی میں منتقل کیا اور اس طرح مغرب کو ارسطوؔ کے فلسفے سے متعارف کرایا۔انگریز فلسفی راجربیکنؔ نے بصریات میںجوکارنامے انجام دیے اُن کی بنیادیں ابن الہیثم ؔ کے نظریات پرتھی۔ ابن العربیؔ جنہوںنے ’اشراقی‘ مکتبِ فکر کی بنیادرکھی، کی تصانیف کا بھی ترجمہ کیاگیا ۔ ایک اورمترجم رابرٹ ؔتھا جس نے الخوارزمیؔ کی ’الجبرا‘کے علم کو لاطینی میںمنتقل کیا ۔ موجودہ ہند سے جنہیں ہم انگریزی تصور کرتے ہیں ، حقیقتاً عربی تھے اوریورپ آج بھی انہیں (Arabic Numerals) کہتاہے ۔مغرب نے اسپین کے مسلمانوں سے صنعت وحرفت میں بہت کچھ سیکھا ۔ان میں پارچہ بافی ،سلک سازی ،رنگ ریزی ،شیشہ گری ،ظروف سازی،فن تعمیر ،فن تزئین خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔
ابن رشدؔ کی فکر کے جواب میں امام غزالیؔ نے’ فلسفہ فنا‘پیش کیا۔ جس کے جواب الجواب میںابن رشدؔ نے ’فناء الفناء‘تحریر کی ۔یہ دونوں کتابیں حسبِ ذیل ناموںسے لاطینی میںمنتقل ہوئیں،غزالیؒ کی کتاب Destructio Philosophorum اورابن رشدؔ کی کتاب Destructio Destructionesفلسفہ، طب،ریاضی اورسائنس کی کتب کے علاوہ ادبیات کے بھی بے شمارترجمے ہوئے ۔جن میں کلیلہ ودمنہ، سندباد کے سفر،کتاب الاغانی،الف لیلتہ،حنینؔ کے جمع کردہ اقوالِ فلاسفہ ،سعدی کی گلستان وبوستان،کلام حافظؔ وخیامؔ خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔تیرہویں صدی کے اواخر میںایک عرب مصنف کی کتاب ’معراج‘ کاترجمہ الفانسوؔ دھم کے لئے ہسپانوی زبان میں کیاگیا۔ وہاںسے یہ کتاب لاطینی،فرانسیسی اور دیگر زبانوں میںترجمہ کی گئی۔ عیسائیوں کی نظر میں یہ کتاب مسلمانوں کاایک ایسامقدّس صحیفہ تھا جسے خود پیغمبر اسلام ﷺ نے تحریر فرمایا تھا۔ ۱۹۱۸ء؁ میں آسن پولاسئیسؔ (Asin Polacius)نے اپنی تحقیق کی بناپر یہ دعویٰ کرکے علمی حلقوں میںتہلکہ مچادیا کہ دانتےؔکی تصنیف ’ڈیوائن کامیڈی‘ (Divine Commedia) اسی کتاب ’معراج ‘کا چربہ تھی۔ (جاویدنامہ (شرح)۔ص ۵۶  از  پروفیسر یوسف سلیم چستی)
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب نے عالم اسلام سے ہر شعبہ علم وفکر کی بنیادیں مستعار لیں اوراس پر موجودہ تہذیب کی تعمیر کی ۔یہ کیفیت محض علوم تک محدودنہیںبلکہ صنعت وحرفت ،تجارت وزراعت ،آرٹ اورلٹریچر ہرشعبے کومحیط کیے ہوئے ہے۔وہ الفاظ جوآج بھی یورپ کی مختلف زبانوںمیںپائے جاتے ہیں۔ اس امر کی غمازی کرتے ہیںکہ مطالب کے ساتھ ساتھ انکےالفاظ بھی اپنائےگئےہیں۔مثال کےطورپرجنگ کےالفاظ ایڈمرل    امیرالبحر)،آرسنل(دارالصنعہ)میگزین(مخزن)،شوگر(شکّر)
،ریبک(رباب)،لوت(العود)،ازیور(ازہر)۔فرانسیسی لفظ اوول (حوالہ)، چک (ثقہ،سک) وغیرہ ۔ یہ سب عالم اسلام کے احسانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مغرب نے کلیسا کے دباؤ میں اسلامی روح کوقبول کرنے سے ہمیشہ گریزکیا۔اس نے اسلام سے صرف مادی اثرات قبول کیے۔یہی مادّی اثرات تھے جو بے روح علم بن کرمغرب کے ہاتھوں میںپہنچے،جسے انہوںنے عیسائی فضا میںپروان چڑھایا۔ وہ تنا وردرخت جس میںاسلامی روح نظر نہیںآتی، مسلمانوں کالگایا ہواپوداہے، جوخود عالم اسلام میںنشونما نہ پاسکا اورنا موافق حالات میں ٹھٹھر کررہ گیا۔ ایڈورڈسعیدؔ کے مطابق :
’’انگریزی تعلیم کے زیر اثر ہمارا علمی اثاثہ حقیر بن گیا ہے اور ان اثاثوں کے معاملہ میں ہمارا رویہ معاندانہ ہوگیا۔ مغربیوں کے یہاں مشرقیوں کے لئے جوکچھ بھی ہے وہ اس خیال پرمبنی ہے کہ ہرحال میںمشرق ،مغرب کے مقابلے ایک ایسی صورت ہے جسے ترقی پذیر ہوناہے اور یہ ترقی پذیری دراصل مغربی راستے سے ہی ممکن ہے۔ ذہن کی یہ بالادستی مشرقی مطالعات پرحدودقائم کردیتی ہے….‘‘
(بحوالہ’ مابعد جدیدیت اوروہاب اشرفی کاتنقیدی رویہ‘۔ص ۲۱۱  از  ڈاکٹر شہناز خاتون)
مغربی نوآبادیاتی نظام کومستحکم کرنے کی خاطر برطانوی تعلیمی نظام نے دانشوروں ، تعلیم یافتہ نوجوانوںکی ایک ایسی کھیپ تیارکی جوعالم اسلام میں مغرب کاری کاہراول دستہ ثابت ہوئی۔ یہ نظام تعلیم مسلمانوں میںنئی سوچ ، نئی فکر وتحقیق پیداکرنے میںکامیاب ضرورہوا مگرمسلمانوںکی تہذیبی وراثت ، ان کے افکاروعقائد اوررجحانات تاریخ سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے فکری انتشار اوربیشتراوقات تہذیبی تصادم پر منتج ہوا۔ روایتی علماء نے اس پورے نظام کی زبردست مخالفت کی اوراسے اسلام کے خلاف سازش سے تعبیر کیا۔ اقبالؒ نے ہندوستان میںاس کی بھرپور مخالفت کی    ؎
اور یہ اہل کلیساکا نظام تعلیم
 ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف
اکبرالٰہ آبادی نے تعلیم نسواںپر تبصرہ کرتے ہوئے کہا   ؎
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ  
سیدمودودیؒ نے جدیددرسگاہوںکو قتل گاہ قراردیا ،جہاںمسلمان طلباء کی فکر، تہذیب اورعقیدہ کاخون کیاجاتاہے ۔ مولاناقاسم نانوتویؒ اوران کے ہمعصر دیگرعلماء نے اس نظام تعلیم کے خلاف اقدامی کاروائیاںکیں اوراپنے نظام تعلیم اورفکروعقیدہ کے تحفظ کے لئے مدارس قائم کیے۔ ہندوستان میں سرسیداحمدخانؒ، مصر میں رفاعہ طہطاوی ، تیونس میں خیرالدین پاشانے جدیدنظام تعلیم کی حمایت کی اوراس کے مثبت اورتعمیری پہلوؤں سے استفادہ کرنے پرزورددیا۔ ہنٹرؔ اپنی کتاب "The Indian Musalmans"  میںاس حقیقت کوتسلیم کرتاہے کہ :ــــ’’عوامی تعلیم کا ہمارانظام روایات کامخالف ،مذہب کے تقاضوں کے غیر مناسب حال اوران سے متنفر اورمسلمانوںکی تہذیب سے متصادم ہے۔ اس لئے اس میں کوئی تعجب نہ ہوناچاہیے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی ایک ایسے نظام سے الگ تھلگ رہے جوان کے تعصبات کورعایت دینے کے لئے آمادہ نہ تھا، جس نے اُن ضروریات کو ملحوظ نہ رکھا ، جنہیں مسلمان اپنے لئے ناگزیر تصور کرتے تھے اور جولازمی طورسے اُن کے مفادات وحاصلات کا مخالف اوران کی سماجی روایات واقدارسے یکسرمختلف تھاــ‘‘۔  
(بارہمولہ،کشمیر)