گنجے سر پر یہ سیاسی تیل مالش خوب ہے

بات  کیا خوب کہی تھی عظیم شاعرہ نے ۔بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔اپنے عالمی تھانے دار اَنکل سام نے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ بھارت ورش میں مذہبی تفریق کی بنا پر تشدد ہو رہا ہے ۔عام لوگوں پر عقائد کی بنا پر حملے کرکے انہیں ذلیل ہی نہیں کیا جاتا بلکہ جان سے بھی مارا جاتا ہے ۔پچھلے پانچ سال کا ریکارڈ دیکھیں ، فائیلیں کنگھالیں تو بات سچ ہی نکلتی ہے ۔ درجنوں بے گناہوں کا نام توملے گا لیکن ان کا جسم کہیں نہیں کہ وہ مذہبی جنون کی بھٹی میں جھونکے گئے ۔ کہیں اخلاق کو بیف کے نام پر اور کہیں پہلو خان ، جنید اور اب کی بار دوبارہ مودی سرکار میں تبریز کو پیٹ پیٹ کر قتل کردیا ۔ایک ایک کے اوپر بیسوں لوگوں نے حملے کردئے اور اپنی بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے کمزور لوگوں کو ملک عدم پہنچا دیا۔ اڑتی اڑتی خبر آئی کہ خود پولیس افسران بھی پشیمان ہیں کہ کتنوں کو ماریں گے اور ماتحت پولیس والے کب تک خونخوار درندوں کا براہ راست یا بالواسط ساتھ دیں گے۔ جبھی تو دو پولیس اہل کار معطل کئے گئے کہ انہوں نے تبریز کو زخمی حالت میں کالر سے کھینچ کر ہسپتال لیا مگر ضروری علاج نہیں کروایا۔پھر پولیس والوں نے گیارہ مشتبہ لوگوں کو حراست میں لے لیا۔اس پر ہم دلاور فگار معذرت کے ساتھ ان کی واہ واہ کرنے سے نہیں رہے    ؎
 اس خبر پر تو نہیں مجھ کو تعجب اے فگار
 ایک قاتل حلقہ بجنور میں پکڑا گیا
 ہاں اگر تھوڑی سی حیرت ہے تو اس بات پر
کیسا قاتل تھا کہ اس دور میںپکڑا گیا
اور تو اور اس دور میں جے سری رام بولو یا جے ہنومان بولو نعرہ بھی لگوایا جاتا ہے ۔جو نعرہ لگائے اسے بھی دھنائی اور جو نہ بول پائے اس کی تو شامت ہی شامت۔سنا ہے خود سری رام ہاتھ جوڑ کرکہتا ہے کہ بھائی میرے نام پر یہ خون خرابہ نہ کرمگر اسے کیا پتہ یہ تو سالہاسال سے جاری ہے کہ رام کے نام پر مندر اور مندر کے نام پر ترشول بردار دریندر شہر شہر قریہ قریہ اپنا آتنک مچائے پھرتے ہیں او ر رام جی کے نام پر ہلہ غلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔مانا کہ بھارت سرکار نے یہ کہہ کر امریکی رپورٹ خارج کردی کہ ہم سکیولر ملک میں رہتے ہیں اور یہاں سب کو مذہبی آزادی ہے ۔ویسے بھارت ورش کا ترجمان یہ کہنا بھول گیا کہ ہم جب مارتے ہیں تو مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دلت ہندووں اور عیسائی فرقے والوں کو بھی مارتے ہیں اور مرنے والوں میں کوئی ثابت کرے کہ مذہبی تفریق کی گئی۔کیونکہ بقول فلمی اداکار بھکت جن جب مارتے ہیں تو مارتے ہیں۔امریکہ والوں کی طرح نہیں کہ بس مسلم ممالک کو ہی نشانہ بنائیں ۔کہیں افغانستان ، لیبیا، عراق ،سیریا اور اب تو ایران کو بھی نشانہ بنانے کی تیاری ہے۔تھانیدار تو عالمی سطح کا ہے لیکن ایف آئی آر کے وقت شمالی کوریا سے ڈر کر ہی رہتا ہے۔وہ جو ستر لاکھ لوگ پناہ گزین ہیں وہ سب انکل سام کی ہی کارستانی ہے کہ کسی کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا ۔بھلا چین سے بیٹھیں تو ہتھیاروں کی سپلائی رک جائے گی۔ہتھیار انڈسٹری اگر رک گئی تو معیشت ڈوب جائے گی ۔معیشت ڈوبی تو ملک ڈوب جائے گا ۔اس لئے تو بھائی جنگیں ایجاد کرنی پڑتی ہیں تاکہ اپنا کارخانہ چلتا رہے۔ہے نا بات سچ مگر ہے رسوائی کی؟
ادھر اپنے ملک کشمیر میں جو راج بھون مکین ہے وہ تو کب سے وائسرائے بنا پھرتا ہے اور اب کی بار ایک نئی بات بیچ بازار اُتار دی کہ ہڑتال سے دل بہلانے والے بات چیت کے لئے تیار ہو گئے ہیں یعنی جو کبھی مین گیٹ بند کرکے ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھا کرتے کہ اس دوران کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے تاکہ وہ وراٹ کی بیٹنگ اور عامر کی بولنگ کا مزہ سکون سے لیں وہ اب نشستند، گفتند، شنیدن میں بالمشافہ بیٹھنے کو راضی ہیں اور کیا پتہ اس بیچ عوام کے غم میں لنچ ڈنر بھی ہوجائے،یعنی وہ زمانے گئے جب گیٹ پر مہمان ٹھک ٹھک کرتے رہے  پر کنڈی میں کھِٹ پِٹ نہ ہوئی  ؎
 خدا کے واسطے کھولو بھی آ کے دروازہ
 میں کتنی دیر سے باہر کھڑا ہوں چیخ رہا
بھارتی آئینی حدود کے اندر اور اقوام متحدہ قراردادوں پر ٹی وی صحافیوں کے سوالات سے وہ اس قدر تنگ آئے تھے کہ بجنگ آمد ہونے میں دیر نہیں لگتی ، پھر میچ کے دوران اس قسم کی باتیں مزید پریشان کرتیں ۔ بقول وائسرائے کشمیر وہ بند کمروں میں کرکٹ میچ دیکھنے سے بھی تنگ آئے ہیں ،اس لئے بات چیت میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ ابھی وائسرائے کشمیر کے منہ سے یہ بات نکلی نہیں کہ اپنے ہل بردار ، قلم برداشتہ تو ایک طرف خود غاروں میں کب سے بیٹھے سیاست دان بھی میدان میں کودے ۔وہ جو عام لوگوں کی کیا خاص فرشتوں کی یاد داشت سے بھی نکل گئے تھے وہ بھی حریت کے ساتھ بات چیت کی دہائیں دینے لگے۔ایک طرف سیاست کے چراغ بیگ دوسری طرف شکست خوردہ منڈل کے دلسوز ، پھر کوچہ گلی سیاست کے نیم حکیم اور مان نہ مان میں بھی سیاست دان منڈلی کے لوگ بھی اخباری دفاتر پہنچے کہ ہم بھی اس بات چیت کے حق میں ہیں ۔مانو اگر وہ نہ کہیں تو بات چیت نہیں ہوگی۔اب اس چھینا جھپٹی میں ہم سوچنے لگے کہ یہ بات چیت کس کے ساتھ ہونی ہے کیونکہ سارے حریت والے جہاں پورے ملک کشمیر کو ایک کال کے ذریعے اندرون خانہ رکھا کرتے وہ تو خود وائسرائے کشمیر کے مادھم سے مہینوں برسوں سے کال کوٹھریوں میں پکڑے اور جکڑے ہوئے ہیں تو بھلا بات چیت کس کے ساتھ ہونی ہے۔ادھر اپنے لعنتہ منز چونچا مانگنے والے ووٹ مانگ سیاسی بھکاری بھی اس مخمصے میں ہیں کہ اگر بات چیت کا آغاز ہوا تو کہیں ہم پست پشت نہ ڈالیں جائیں ۔ بھائی لوگو! ویسے بھی تم کس کھاتے میں ہو کہ گھوڑوں کے نعل لگنے سمے گدھے بھی اپنی ٹانگیں آگے کرتے ہیں ۔اس لئے انسانی خون سے آبیاری کرنے والے کنول بردار شور مچانے لگے کہ فقط الیکشن پوت ہی بات چیت میں بلائیں جائیں۔
 الیکشن سے ہی تو ممبران قانون سازیہ بنتے ہیں اور وہی پھر اسمبلی ، لوک سبھا میں پہنچ جاتے ہیں۔مانا کہ پنجہ مار پارٹی کے زیادہ  امیدوار لوک سبھا نہ پہنچے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دیش بھگت نہیں ۔اور اتنا ہی نہیں بلکہ وہ بھارت ورش کی فوجی اکائیوں کو بڑے گربھ سے دیکھتے ہیں ۔ان سے پیار ہی نہیں کرتے ان پر فخر بھی کرتے ہیں ۔اب کی بار جو پنجہ پارٹی کا چنائو نشان کچھ زیادہ لوگوںکو اپنی اور آکرشت نہیں کرسکا تو وہ نیا چنائو نشان لینے پر تُل گئے۔شاید سوچتے ہیں کہ صدر پارٹی تو بدلنا ہی ہے، اس بہانے چنائو نشان بھی بدل دیں کہ ان کے ہاتھ میں اب کوئی کشش نہیں رہی یا شاید اس ہاتھ کی لکیریں اب مٹتی جا رہی ہیں۔ جیسے مودی مہاراج ووٹ کے لئے سینا کو استعمال کرتے ہیں کانگریسی اب اپنا ہاتھ جگن ناتھ سے اُکتا گئے ہیں ،اس لئے انہیں سوجھا کہ تین اور تیرہ میں گنے جانے کے لئے فورس کی مونچھیں اپنا لیں ۔جبھی تو لوک سبھا میں کانگریسی لیڈر نے مانگ کی کہ مملکت خداداد میں اپنا  فائٹرجہاز کھوئے ابھی نندن کی مونچھیں قومی مونچھیں قرار دی جائیں ۔ پہلے تو قومی جانور یا پرندہ وغیرہ ہوتا تھا اب قومی مونچھوںکا اعلان کیا جائے۔ظاہر ہے کہ اب سبھوں کو ابھی نندن مونچھیں رکھنی پڑیں گی اور جو نہ رکھیں وہ سینا دشمن یا دیش دروہی قرار پائے اور اس کے لئے مملکت کا ویزا بنوانے کا آدیش جاری ہوگا ۔پھر یوں ہوگا کہ وندے ماترم والے اور ابھی نندن مونچھوں والے دیش بھگتی کے نام پر جوتم پیزار کریں گے ۔کیا پتہ کچھ ہی برسوں میں وندے ماترم اور ابھینند ن مونچھوں پر لڑ جھگڑ کر آدھا بھارت ورش صاف ہوگا اور پھر یہ جنگ سرحد پار ہی لڑی جائے گی۔یعنی اگلے الیکشن کا پرچار گاندھی فیملی اور ناگپوری فیملی مملکت خداداد میں ہی جاکر کریں گے کیونکہ دونوں کے ووٹر وہیں پرویش کر چکے ہوں گے۔
 اپنے ملک کشمیر میں کس کو عزت دے کر آسمان پر چڑھانا ہے اور ذلیل کرکے زمین میں گاڑھ دینا ہے، اپنے سیاسی مچھندروں سے کوئی سیکھے ۔جبھی تو وزیر داخلہ امت شاہ کو اپنے کشمیری مداح امت شاہ پادشاہ کہتے ہیں۔چند دن پہلے وزیر موصوف نے کہا کہ شیاما پرسا دمکھر جی کے بلیدان کی بدولت کشمیر میں آمد پرمٹ کے بغیر ہوتی ہے اور پھر امت شاہ وارد کشمیر ہو ہی گئے۔پرمٹ کی تو واقعی کوئی ضرورت نہیں البتہ اب کی بار ملک کشمیر میں کوئی ہڑتال بھی نہ بلائی گئی۔ ہو نہ ہو جن کے پاس ہڑتال والا ایٹمی دھماکہ ہوا کرتا تھا وہ اب عالمی سطح کے این ٹی پی ٹی ضوابط کا شکار ہوگئے ،یعنی جہاں ایران پر دبائو ہے کہ اپنے ایٹمی پروگرام کو منسوخ کرو، وہیں اپنی ہڑتال بلائو پارٹی پر بھی یہ دبائو ہوا کہ اپنا ایٹمی پروگرام بند کردو کہ آج کل ملک کشمیر میں آپریشن آل ناٹ آوٹ میں سب کو یکسان طور پیٹا جاتا ہے۔بندوق بردار کیا عام لوگ کیا ، بچہ کیا بزرگ کیا، حتیٰ کہ مسلمان کیا ہندو کیا یکسان طور ایک ہی لاٹھی یا بندوق بٹ سے ہانکا جاتا ہے ۔جبھی تو قاضی گنڈ میں کشمیری پنڈت فورسز کے ہاتھوں پٹ گیا، حالانکہ اس بے چارے نے کبھی بھی مملکت خداداد کے گیت نہیں گائے تھے نہ ہی پار والوں کی کرکٹ جیت پر پٹاخے پھوڑے تھے۔
 ادھر ایک اور سرجیکل اسٹرائیک بھارتی ٹی وی چینلوں نے کر ڈالی ۔کسی امریکی ادارے کا نام لے کر مودی کے پنر جنم کا ڈھنڈورا  پیٹ رہے ہیں کہ پچھلے جنم میں مودی کٹر مسلمان تھے ۔اتنا ہی نہیں وہ اصل میں معروف مسلم لیڈر اور سماجی رہنما سر سید احمد خان تھے۔واہ بھارتی میڈیا واہ!!جاتے جاتے یہ اہم خبر چھپی ملی کہ نمک میں زہر بھرا ہوا ہے ۔دوسری طرف ڈاکٹرس ایسو سی ایشن نے ایک خاص برانڈ پر پابندی کی سفارش کی ہے کہ بقول ان کے یہ چیزیں ملاوٹ والی ہیں   ؎
 دور آمیزش ہے کوئی چیز ہی خالص نہیں
 تیل مصنوعی ،بٹر ایمپیور، گھی خالص نہیں
 جانور تو جانور ہیں آدمی خالص نہیں
 میں ہی کیا خالص نہیں آپ بھی خالص نہیں
        دلاور فگارؔ
رابط ([email protected]/9419009169)