گنتڑ ساوجیاں میں سات سو سال پرانی زیارت حکام کی نظروں سے اوجھل

منڈی//تحصیل صدرمقام منڈی سے محض 8 کلو میٹر کی دوری پر واقع گائوں گنتڑ جو کہ سرحد کے بالکل قریب آباد ہے ،میں سات سو سالہ پرانی زیارت حکام کی نظروں سے اوجھل بنی ہوئی ہے ۔اس مقام پر  پیر سید صدیق شاہ ؒکا مزرا واقع ہے ۔مقامی شخص پیر ارشاد احمد کے مطابق یہ زیارت تقریباً سات سو سال پرانی ہے اور اس میں مدفن پیر کامل سید صدیق شاہ ؒ سات سو سال قبل وادی کشمیر کے علاقہ اسلامہ آباد سے یہاں آئے تھے جن کے فیض و کرم سے یہ علاقہ ہمیشہ سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید صاحب کے مزار کو تقریباً 80 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا جس کی مرمت وقتا فوقتا ہوتی رہی ہے۔ ارشاد احمد نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ پونچھ نے کبھی گوارہ نہیں کیا کہ اس زیارت کی طرف کوئی توجہ دی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل زیارت تک سڑک تعمیر کرنے کیلئے محکمہ دیہی ترقی نے 8 لاکھ روپے مختص کئے تھے جس کے بعد روڈ کاکام شروع ہوکر مکمل بھی ہوگیالیکن محکمہ کی طرف سے زیارت کمیٹی کو ابھی تک ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی گئی۔ ایک اور مقامی شہری نثار حسین کاکہناہے کہ انہوںنے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے محکمہ کے کہنے پر سڑک تو تعمیر کردی لیکن آج تک اس کا پیسہ نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال اس زیارت پر عرس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں مختلف علاقوں سے عقیدت مندان اپنی حاضری دیتے ہیں ۔انہوںنے مزید کہاکہ یہاںپور اسال لوگوں کا آناجانالگارہتاہے  مگر زیارت میں بیت الخلا اور دوسری ضروری سہولیات کا فقدان ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد ہارون ملک سے اپیل کی ہے کہ وہ از خود اس زیارت کا دورہ کریں اور اس میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جن کی ضرورت سمجھی جارہی ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ محکمہ دیہی ترقی کے افسران کو بھی اس بات کی ہدایت دی جائے کہ وہ سڑک کی تعمیر پر خرچ آنے والی رقم واگزار کرے تاکہ مزدوروںکی اجرت کی ادائیگی ممکن ہوسکے ۔