گمشدہ ستار ے: خواجہ غلام نقی

خواجہ غلام نقی 1924ء میں زڈی بل سری نگر کے کاظم علی کے ہاں پیدا ہوئے۔ اُن کے برادر اکبر غلام رسول عالمگیر کے مطابق وہ بچپن سے ہی بہادر اور زہین تھے۔ ابتدائی تعلیم مقامی امامیہ اسکول زڈی بل میں پائی اور بعدازاں امرسنگھ کالج میں دا خلہ لے کر گریجویشن کی۔ مزید تعلیم کے لئے وہ علی گڈھ جانا چاہتے تھے لیکن والدین نے اس کی اجازت نہ دی لیکن انہوں ایک نہ سنی مگر یہ بھی کہاں باز آنے والے تھے، گھر سے کچھ روپے چرالئے اور اپنی دوست مایسٔمہ سری نگر کے علی محمد کے ساتھ علی گڈ ھ پہنچے۔ گھر والوں کو معافی نامہ ارسال کیا اور اپنی ساری توجہ قانون کی کتابوں پر مرکوز کرلی۔ جب نقی صاحب تعلیم مکمل کر کے واپس لوٹ آئے تو بھارت اور پاکستان کی پہلی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ اُنہی دنوں ایک عسکری تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھاجس میںجوان جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ رشید تاثیر نے اپنی’’ تحریک حریت کشمیر‘‘ میں اس تنظیم کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس تنظیم کا نام ’’حیدری کالم‘‘ تھا۔ کچھ ہی دنوں میں پولیس نے اس کے بہت سارے کارکنان کو گرفتار کیا۔ غلام نقی اور ان کے دوست علی محمد بھی حراست میں لئے گئے۔ ان پر مقدمہ چلا اور عدالت نے اُن کو تین سال  قید کی سزا سنائی لیکن وہ سرینگر سنٹرل جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اپنی مختصر سوانح حیات میں نقی صاحب لکھتے ہیں :’’جنگ کے دوران ہی ایک عسکری تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا،پاکستان ملٹری ہائی کمانڈ نے ہم سے کہا تھا کہ مئی 1948 ء کے آس پاس کشمیر میں امن و قانون کا مسلٔہ کھڑا کریں۔ اسی دوران پاکستان بڑے پیمانے پر جوابی کاروائی کرنا چاہتا تھا۔ ہمیں پلوں اور ٹیلی کمیونیکشن سسٹم تباہ کرنے کی خاص ہدایات دی گئی تھیں۔ صوبہ سرحد سے کافی مقدار میں ہتھیار لائے گئے تھے لیکن کچھ ہی ہفتوں میں تنظیم کے 30؍ سے زائد رضاکار گر فتار ہوئے، ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی پولیس نے زچلڈارہ میں برگیڈیر رحمت اللہ کے فارم سے برآمد کیا ۔ ان کے تمام ملازم بھی گرفتار ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی مئی کا پروگرام بھی ملتوی ہوا‘‘
نقی صاحب اور علی محمد نے جیل سے فرار کا پروگرام بنایا۔1951 ء  اپریل کی ایک رات جب کافی بارش ہورہی تھی ،وہ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ، کچھ دن سرینگر میں چھپنے کے بعد’’ آزاد کشمیر‘‘ پہنچے جہاں انہوں نے وکالت شروع کی لیکن نقی صاحب کو حبیب بنک میں نوکری ملی اور ترقی کرتے کرتے وہ اس بنک کے و ایس چیر مین بن گئے۔اگرچہ پا کستان میں اُن کو تمام سہولیات میسر تھیں لیکن وطن کی محبت اکثر بے چین کرتی  رہتی۔ 1990 ء میں جب جے کے ایل یف کے چیر مین اما ن اللہ خان نے حد متارکہ کو رو ندھنے کا پروگرام بنایا  تو نقی صا حب نے بھی اپنا نام لکھوایا۔’’ اگر میں حد متارکہ کو پار کرتے کرتے شہید ہوا تو خیال رہے کہ میرا خون و طن عزیز کی طرف بہے‘‘ یہ وصیت انہوں نے اپنے ساتھیوں کو وصیت کی تھی۔ گولیاں تو برسیں، کچھ لوگ بر سرموقع شہید بھی ہوئے لیکن نقی صاحب زندہ واپس آئے۔ 
1964  ء میں جب شیخ محمد عبداللہ پاکستان گئے تو نقی صاحب نے پھولوں کا ہار اُن کے بدلے بٹھو صا حب کے گلے میں ڈالا:’’میں شیخ محمد عبداللہ کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا‘‘ انہوں نے اپنے دوستوں کو جو ان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، سے کہا۔ 1999 ء میں انہیں معدے کا کینسر لاحق ہوا۔ 25 ؍ جنوری 2000ء کو نقی کے گھر والے پاکستان پہنچے۔ رات بھر ان سے گزرے دنوں کی باتیں خوب کر کے موصوف دوسرے دن یعنی 26 ؍ جنوری کو اللہ کو پیارے ہوگئے۔ مرحوم کو اسلام آباد کے ایک مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا۔ ستم ظریفی دیکھئے جس دن وہ فوت ہوئے، اُسی دن جموں کشمیر کی حکومت نے انہیں جیل توڑنے کے جرم سے بری کردیا یعنی اگر کچھ دن زندہ رہتے تو وطن عزیز کا دیدار کرتے۔ واحسرتا!
نوٹ : کالم نگار ’’گریٹر کشمیر‘‘ کے   سینئر ایڈ یٹر ہیں 
فون نمبر9419009648